.
افغانستان وطالبان

انجلینا جولی انسٹاگرام پر؛پہلی پوسٹ افغان لڑکی اور’بنیادی حقوق‘ کے نام!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ہالی ووڈ اسٹار انجلینا جولی نے جمعہ کو سوشل میڈیا کے پلیٹ فارم انسٹاگرام میں شمولیت اختیار کی ہےاور اپنے اکاؤنٹ سےافغانستان میں طالبان کی حکومت سے انجانے خوف میں مبتلا ایک افغان لڑکی کی طرف سے لکھا گیا خط پوسٹ کیا ہے۔

فلم ٹومب ریڈر میں لارا کرافٹ کے افسانوی کردار سے شہرت پانے والی اداکارہ کے انسٹاگرام پراکاؤنٹ کھلنے کے 24 گھنٹے سے بھی کم عرصے میں 51 لاکھ سے زیادہ فالوورز ہوگئے ہیں۔انجلینا جولی اب دنیا بھر میں انسانی ہمدردی کے کاموں میں پیش پیش ہوتی ہیں اوردکھی انسانیت کی خدمات میں مصروف ہیں۔

جولی نے پوسٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ ’’افغان شہری سوشل میڈیا پر بات چیت کرنے اورآزادانہ اظہار رائے کی صلاحیت سے محروم ہو رہے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ انھوں نے خود انسٹاگرام میں شمولیت اختیارکی ہے۔وہ اب دنیا بھر میں ان لوگوں کی کہانیاں شیئر اورآوازیں پھیلانا چاہتی ہیں جو اپنے بنیادی انسانی حقوق کے لیے جدوجہد کررہے ہیں۔‘‘

دریں اثناء این بی سی نیوزنے خبردی ہے کہ افغان شہری اپنے فون اورسوشل میڈیا اکاؤنٹس سے ایسی تصاویر حذف کر رہے ہیں جو طالبان کے انتقام کا سبب بن سکتی ہیں اوران سے ان افغانوں کامغرب کے حمایت یافتہ لوگوں سے کوئی تعلق جڑ سکتا ہے۔

جولی لکھتی ہیں:’’افغانوں کو ایک مرتبہ پھر اس خوف اورغیریقینی صورت حال سے بے گھر ہوتے دیکھنا انتہائی افسوس ناک ہے ۔ان کا ملک پھرغیریقینی کی صورت حال سے دوچارہے۔‘‘

جولی کے پوسٹ کیے گئے خط میں طالبان کی دوبارہ اقتدار میں واپسی اور اس میں نوجوان خواتین اور لڑکیوں کو تعلیم حاصل کرنے اوراپنے حقوق استعمال کرنے سے روکنے سے متعلق ایک نوجوان لڑکی کے خوف وخدشات کو بیان کیا گیا ہے۔

یادرہے کہ طالبان نے 1996ء سے2001ء تک افغانستان میں اپنے پہلے دور حکومت میں لڑکیوں کو اسکول جانے سے روک دیا تھا اور خواتین کےمکمل برقع اوڑھے بغیر اپنے گھروں سے باہرنکلنے پر پابندی عاید کردی تھی۔

مگر گذشتہ اتوار کو کابل پر دوبارہ کنٹرول کے بعد سے اس گروپ کے لیڈروں نے نرم لب ولہجہ اختیار کیا ہے اور خواتین کو تعلیم اور کام کی اجازت دینے کا وعدہ کیا ہے۔تاہم ماہرین تعلیم اور کارکنان اس بارے میں ابھی تک اپنے شکوک کا اظہار کررہے ہیں کہ طالبان کیا کچھ کرسکتے ہیں۔وہ طالبان سے حالیہ دعووں کا عملی ثبوت چاہتے ہیں اور خواتین کے حقوق کے احترام کا بدستور تقاضا کررہے ہیں۔

طالبان کے قبضے کے بعد سے کابل کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پرافراتفری کے مناظر دیکھے گئے ہیں اور افغانستان سے فرار ہونے کی کوشش میں تشدداور بھگدڑ کے واقعات میں بارہ افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ بعض افراد ہوائی اڈے سے اڑنے والے طیارے کے نچلے اوراندرونی حصوں سے چمٹ گئے تھے اور پھروہاں سے گر کر ہلاک ہوئے ہیں۔