.

ایران:بدنام زمانہ ایوین جیل کی بھیانک صورت حال کی کہانی؛لیک فوٹیج کی زبانی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے دارالحکومت تہران کے نواح میں واقع بدنام زمانہ ایوین جیل میں نصب نگرانی کے کیمروں کی افشاء ہونے والی فوٹیج منظرعام پرآئی ہے،اس میں جیل کی ناگفتہ بہ صورت حال اور بعض جیل کوٹھڑیوں میں قیدیوں سے انسانیت سوز سلوک کی ان کہی تفصیل پتاچلتا ہے۔

خود کو ہیکرزکے طورپرمتعارف کرانے والے ایک گروپ نے جیل کے اندرون کی فوٹیج کو آن لائن جاری کیا ہے۔اس نے نگرانی کے کیمروں کی ویڈیوکے کچھ حصے امریکی خبررساں ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے ساتھ شیئرکیے ہیں۔ان مبیّنہ ہیکرزکا کہنا ہے کہ وہ اس فوٹیج کے ذریعے جیل کے سنگین حالات کو اجاگر کرنا چاہتے ہیں اور یہ بتانے کی کوشش کررہے ہیں کہ جیل میں سیاسی قیدیوں اوربیرون ملک بالخصوص مغرب کے ساتھ تعلقات شُبے میں پکڑے گئے قیدیوں سے سے کیا سلوک روا رکھا جارہا ہے۔

واضح رہے کہ ایرانی حکام اکثردُہری شہریت کے حامل افراد کو جاسوسی کا الزام لگا کرگرفتار کرلیتے ہیں اور پھرانھیں مغربی ممالک سے سودے بازی کےایک حربے کے طورپر استعمال کرتے اور اپنے مطالبات پورے ہونے پر انھیں رہا کردیتے ہیں۔

فوٹیج کے ایک حصے میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ایک شخص اپنا بازوکاٹنے کی کوشش میں باتھ روم کا آئینہ توڑدیتا ہے۔ نگرانی کے کیمروں کے ذریعے فلم بند کیے گئے مناظرمیں قیدی اور یہاں تک کہ جیل محافظ ایک دوسرے کو مارپیٹ کررہے ہیں۔سنگل کمروں میں قیدی دیواروں کے ساتھ ٹیک لگائے بیٹھے تھے اور گرم رہنے کے لیے خود کو کمبلوں میں لپیٹ رہے تھے۔

ہیکروں کے اس گروپ نے آن لائن اکاؤنٹ سے پیغام میں کہا ہے:’’ہم چاہتے ہیں کہ دنیا ایران میں تمام سیاسی قیدیوں کی آزادی کے لیے ہماری آواز سنے۔‘‘نیویارک میں اقوام متحدہ میں ایرانی مشن نے اس فوٹیج سے متعلق سوال پر فوری طور پرکوئی جواب نہیں دیا ہے۔ ایران کے سرکاری ذرائع ابلاغ نے بھی ایوین جیل کی افشا ہونے والی فوٹیج کا اعتراف نہیں کیا ہے۔

ایوین پابندسلاسل رہنے والے چارسابق قیدیوں اور بیرون ملک انسانی حقوق کے ایک ایرانی کارکن نے اے پی کو بتایا ہے کہ یہ ویڈیوشمالی تہران کے علاقے سے ملتی جلتی ہے۔ کچھ مناظراس جگہ کی تصاویرسے بھی میل کھاتے تھے جو پہلے صحافیوں نے لی تھیں ور جیل کی تصاویر بھی تھیں، جو اے پی کی حاصل کردہ سیٹلائٹ تصاویر میں دیکھی گئی تھیں۔

فوٹیج میں قیدیوں کے زیراستعمال سلائی مشینوں کی قطاریں بھی دکھائی گئی ہیں۔اس میں قیدِ تنہائی کی ایک کوٹھڑی میں ٹوائلٹ ، قیدیوں کے باتھ روم اور جیل کے بیرونی علاقے کی تصاویرہیں۔جیل کے کھلی فضا میں ورزش کے احاطےاوردفاتر کی تصاویربھی موجود ہیں۔

زیادہ تر فوٹیج 2020ء اور رواں سال کی ہے۔ایک کونے میں وقت اور تاریخ لکھی نظرآرہی ہے۔مہرکے بغیر کئی ویڈیوز میں جیل محافظوں کو فیس ماسک پہنے ہوئے دکھایا گیا ہے۔یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ یہ ویڈیو کرونا وائرس کی وبا کے دوران میں بنائی گئی ہے۔

ان ویڈیوزمیں کوئی آواز نہیں لیکن وہ اس جیل میں قیدیوں کو درپیش بھیانک حالات کی بھرپورعکاسی کرتی ہیں۔ایک ویڈیو سے پتا چلتا ہے کہ پارکنگ میں ایک کار سے ایک لاغر شخص پھینکا گیا ہے، اس کو گھسیٹا بھی گیا ہے۔ایک اور میں دکھایا گیا ہے کہ ایک مولوی سیڑھیوں کے نیچے چل رہا ہے اور بغیر رُکے اس شخص کے پاس سے گذرجاتا ہے۔

ایک اور ویڈیو میں جیل محافظ قیدی کی وردی میں ایک شخص کو مارتے ہوئے نظرآرہے ہیں۔ ایک گارڈ ایک اورقیدی کو گھونسے ماررہا ہے۔محافظ بھی قیدیوں کی طرح آپس میں لڑتے جھگڑتے ہیں۔ بہت سے محافظ ایک ہی کمرے میں ٹھونسے ہوئے ہیں۔ان میں سے کسی نے بھی فیس ماسک نہیں پہن رکھا۔

اے پی کے ساتھ ویڈیوز شیئر کرنے والےاکاؤنٹ نے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کا بھی مذاق اڑایا ہے۔اس نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کے پاس کئی ماہ قبل ہیک کیے گئے ڈیٹا کے’سینکڑوں‘گیگا بائٹ ہیں۔اس نے اس بارے میں سوالات کا جواب نہیں دیا کہ جیل کی فوٹیج کے افشا میں کون ملوّث تھا اور اس نے یہ کیسے حاصل کی ہے۔

اس اکاؤنٹ نے بتایا ہے کہ ایران میں جون میں منعقدہ صدارتی انتخابات کے دوران میں جیل کا یہ ڈیٹا لیک ہوا تھا۔ان انتخابات میں عدلیہ کے سربراہ ابراہیم رئیسی صدر منتخب ہوئے تھے۔ان پر 1988ء میں ایران،عراق جنگ کے اختتام پر ہزاروں افراد کو تختہ دارپر لٹکانے کے واقعات میں ملوّث ہونے کا الزام عاید کیا جاتا ہے۔جیل کے کنٹرول روم کی سکرینوں پرموجود پیغام میں یہ بھی لکھا گیا کہ ’’ایوین جیل رئیسی کی سیاہ پگڑی اورسفید داڑھی پر داغ ہے۔‘‘

واضح رہے کہ مغرب کی جانب سے عاید کردہ پابندیوں کی وجہ سے ایران کو جدید کمپیوٹرہارڈویئراورسافٹ ویئر کے حصول میں مشکلات کا سامنا ہے اور وہ چین کے تیارکردہ الیکٹرانکس یا پرانے نظاموں پرانحصارکرتا ہے۔مثال کے طورپرویڈیو میں نظر آنے والا کنٹرول روم سسٹم ونڈوز7 چلاتا دکھائی دیا۔اس کے لیے مائیکروسافٹ اب پیچ فراہم نہیں کرتا۔اس وجہ سے ہیکربآسانی اس کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔نیزونڈوزاوردیگرسافٹ ویئرز کے سرقہ شدہ ورژن پورے ایران میں عام ہیں۔

یادرہے کہ ایوین جیل 1971ءمیں ایران کے سابق شاہ محمد رضا پہلوی کے دور میں تعمیر کی گئی تھی۔1979ء میں روح اللہ خمینی کے زیرقیادت انقلاب کے بعد اس میں سیاسی قیدیوں کو رکھا جانے لگا تھا۔اس وقت بھی اس جیل میں بہت سے سیاسی قیدی بند ہیں۔مغربی ممالک کے شہری یا دُہری شہریت کے حامل ایرانی پابند سلاسل ہیں۔ یہ جیل نیم فوجی سپاہ پاسداران انقلاب کے زیرانتظام ہیں اور وہ صرف سپریم لیڈر خامنہ ای کو جواب دہ ہے۔امریکا اور یورپی یونین دونوں نے اس جیل پر پابندیاں عاید کررکھی ہیں۔

اقوام متحدہ کے خصوصی رپورٹر برائے ایران جاوید رحمٰن اپنی رپورٹس میں باربار ایوین جیل کو قیدیوں کے ساتھ بدسلوکی کی آماج گاہ قرار دے چکے ہیں۔ انھوں نے جنوری میں خبردارکیا تھا کہ ایران کے پورے جیل نظام کو’طویل عرصے سے بھیڑبھاڑ،حفظان صحت کی خامیوں‘اور ’’کووِڈ-19 کی وبا سے نمٹنے کے لیے ناقابلِ عبور رکاوٹوں‘کاسامنا ہے۔

انھوں نے لکھا تھاکہ ’’ضمیر کے قیدی اورسیاسی قیدی کووڈ-19 کا شکارہوتے ہیں یا ان میں اس کی علامات ظاہر ہوتی ہیں،توان میں سے بہت سے لوگوں کے ٹیسٹ ہی نہیں کیے جاتے ہیں یاان کے علاج ہی سے انکار کردیا جاتا ہے یا انھیں ٹیسٹوں کے نتائج اورعلاج میں غیرضروری تاخیر کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔‘‘