.

تبوک میں انار کے80 ہزار پودوں سے سالانہ تین ملین کلو گرام پیداوار کا حصول

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے شمالی شہر تبوک کو اناروں کی سر زمین کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا۔ ایک رپورٹ کے مطابق تبوک میں انار کے 180 بڑے فارم موجود ہیں جن میں پھل دار درختوں کی تعداد 80 ہزار ہے۔ سال 2021ء کے دوران تبوک کے اعلیٰ معیار کے پھلوں کی پیداوار کے حجم کا تخمینہ تین ملین کلو گرام لگایا گیا ہے۔

تبوک میں معیاری اناروں کے مختلف اقسام کے پودے پائے جاتے ہیں۔ ان میں اندر فل، رید انجل، عکا اور المنفلوطی زیادہ مشہور ہیں اور ان سے سالانہ تین ملین کلو گرام انار کی پیداوار حاصل کی جاتی ہے۔

سعودی عرب کی سرکاری نیوز ایجنسی ’ایس پی اے‘ کی رپورٹ کے مطابق تبوک میں انار کے درختوں کی کاشت پیوند کاری اور بیج دونوں طریقوں سے کی جاتی ہے۔

پہلے سے موجود انار کے درختوں میں سے 30 سینٹی میٹر کی شاخیں کاٹ کر انہیں زراعت اور کاشت کاری کےلیے تیار کی گئی مٹی میں دیگر مخصوص خصوصیات اور اجزا کے ساتھ دبا یا جاتا ہے۔ اس کے بعد دو سال تک اس کی دیکھ بحال کی جاتی ہے۔ دو سال یا زیادہ عرصہ گذر جانے کے بعد وہ ایک پودے کی شکل اختیار کر لیتا ہے جسے بعد ازاں فارم میں منتقل کیا جاتا ہے۔ درخت سے کاٹی کی شاخوں کو اس وقت تک زمین میں رکھا جاتا ہے جب تک کہ ان کی جڑیں نہ نکل آئیں۔

اس کے علاوہ بیج کے ذریعے انار کی کاشت غیر تجارتی طریقہ ہے اور بیج کے ذریعے بہت کم اس کی کاشت کی جاتی ہے۔ انار کے درختوں کی شجر کاری کے لیے موسم بہار یا خزاں کے اوائل کے ایام زیادہ موزوں سمجھے جاتے ہیں۔ انار کے ایک درخت کو ثمر آور ہونے تک 15 سے 20 سال کا عرصہ لگتا ہے اور انار کے پودوں کی اوسط عمر 50 سال تک ہوتی ہے۔

تبوک میں وزارت ماحولیات، پانی اور زراعت کی شاخ کاشتکاروں کو معیاری اناروں کی کاشت، مناسب آب و ہوا فراہم کرنے اور انار کی کاشت کے لیے آبپاشی کے مناسب طریقے سے متعلق ضروری رہ نمائی فراہم کرتی ہے۔ کاشت کاروں کو بتایا جاتا ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ انار لگانے کے لیے قدرتی کھاد کیسے تیار کریں۔ درختوں کو کیڑا لگنے سے روکنے اور شجری بیماریوں کی روک تھام کے لیے ضروری معاونت فراہم کی جاتی ہے۔

تبوک کی زمین زرعی اجناس اور فصلوں کی کاشت کے لیے انتہائی زرخیز ہے اور یہاں پر مختلف فصلوں کے 14000 سے زائد کھیت 270،000 ہیکٹر سے زیادہ رقبے پر پھیلے ہوئے ہیں۔