.

سعودی عرب سائنسی تحقیق میں2021ءکے’نیچرانڈیکس‘ میں عرب ممالک میں سرِفہرست

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب سائنسی تحقیق کے2021ء کے’نیچرانڈیکس‘ میں عرب ممالک میں سرفہرست قرارپایا ہے۔اس انڈیکس کے مطابق سعودی عرب دنیا کے ان پچاس سرفہرست ممالک میں شامل ہے جن کا سائنس کی تحقیق میں حصہ سب سے زیادہ ہے۔

نیچرانڈیکس نے کہا کہ سعودی عرب مشرقِ اوسط میں سائنسی تحقیق کے اہم کرداروں میں تیزی سے شامل ہونے والے ممالک میں سے ایک ہے۔اس کے مطابق گذشتہ چارسال کے دوران میں سعودی عرب کی درجہ بندی میں اضافہ ہوا ہے اورمغربی ایشیا کے خطے میں وہ دوسرے نمبرپرہے۔

سعودی عرب کی سرکاری پریس ایجنسی (ایس پی اے) نے شاہ عبدالعزیزشہربرائے سائنس اورٹیکنالوجی (کے اے سی ایس ٹی) کے صدر ڈاکٹر منیر بن محمودالدیسوکی کے حوالے سے کہا کہ ’’یہ اہم کامیابی ملک میں تحقیق، ترقی اور اختراعی شعبوں کے لیے سعودی حکومت کی لامحدود حمایت کی مرہون منت ہے۔‘‘

نیچرانڈیکس مصنفین کی وابستگی اورادارہ جاتی تعلق داری کا ایک ڈیٹابیس ہے۔یہ انتہائی اعلیٰ منتخبہ سائنسی جرائد میں شائع ہونے والے تحقیقی مضامین اوران کے مصنفین کا سراغ لگاتا ہے۔اس کے ڈیٹاکا انتخاب فعال محققین کا ایک آزاد گروپ کرتا ہے۔یہ انڈیکس قومی اور بین الاقوامی سطح پر مطبوعات اور مطالعات کی تیاری اور اشاعت اور ان کی تعداد کے بارے میں تفصیل فراہم کرتا ہے۔

ایس پی اے کی رپورٹ کے مطابق ڈاکٹرالدیسوکی نے کہا کہ یہ کامیابی بین الاقوامی سطح پرسائنسی تحقیق میں مملکت کی پوزیشن کو بہتربنانے کے لیے ملکی قیادت کے تیزرفتار اقدامات کی بدولت ممکن ہوئی ہے۔انھوں نے اس ضمن میں تحقیق،ترقی اور اختراعی اقدامات کے لیے حکومت کی تشکیل کردہ اعلیٰ کمیٹی کا حوالہ دیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ یہ کامیابی سعودی عرب کے ویژن 2030ء کے اہداف کے حصول کی جانب پیش رفت کی بھی عکاس ہے۔اس ویژن کے تحت سعودی معیشت کو متنوع بنانے اور تیل کی دولت پرانحصار کم کرنے کے لیے مختلف جدتیں اختراعی منصوبے متعارف کرائے جارہے ہیں۔

نیچرانڈیکس کے مطابق،’’گذشتہ ایک دہائی کے دوران میں مملکت نے اپنے تحقیقاتی اداروں کو بہتربنایا ہے، اعلیٰ معیارکی یونیورسٹیاں قائم کی ہیں اوراپنے ہدف کو پورا کرنے کے لیے بیرون ملک سعودی طلبہ کوتعلیم دلانے کے لیے وظائف مختص کیے ہیں اور اس شعبے میں نمایاں سرمایہ کاری کی ہے۔‘‘

انڈیکس میں مزید کہا گیا ہے کہ آج سعودی عرب دنیا بھر سے اعلیٰ مہارتوں کواپنے اداروں کی طرف راغب کرنے میں کامیاب ہورہا ہے اور سعودی محققین اپنے بین الاقوامی ساتھیوں کے ساتھ تحقیقی اشتراک میں نمایاں حصہ ڈال رہے ہیں۔