.

عراق نژادبرطانوی عازمِ حج برطانیہ سےمکہ تک 6500 کلومیٹرطویل سفر پرپاپیادہ روانہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق نژاد ایک کرد برطانوی شہری حج کے مقدس سفر پر پاپیادہ روانہ ہوگئے ہیں۔وہ برطانیہ سے مقدس سرزمین تک پہنچنے کے لیے گھریلوساختہ گاڑی کے ساتھ سفر کررہے ہیں۔وہ آیندہ سال حج سے قبل برطانیہ سے مکہ مکرمہ پہنچنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

پچاس سالہ آدم محمد پہلے ہی وولورہیمپٹن سے مکہ تک اپنے 6500 کلومیٹر طویل سفر کاآغاز کرچکے ہیں اور پڑوسی ملک ہالینڈ پہنچ گئے ہیں۔ توقع ہے کہ آدم محمد اردن پہنچنے سے پہلے جرمنی، جمہوریہ چیک ، بلغاریہ، ترکی، شام سے گزریں گے۔وہ اردن سے زمینی سرحد عبور کرکے سعودی عرب جائیں گے۔

آدم محمد کو اتنا طویل سفر پیدل گاڑی کے ساتھ طے کرنے کی کیا سوجھی؟اس بارے میں وہ بتاتے ہیں:’’ایک صبح میں بیدار ہوا اور میں نے سوچاکہ مجھے حج کے لیے مکہ کی طرف جانا ہے اور راستے میں دعا کروں گا اور اللہ سے درخواست کروں گا کہ وہ ہمیں اپنی رحمتوں سے نوازے اور ہم بنی نوع انسانوں کو معاف کردے، ہم سب کو، صرف ایک نسل، یا ایک شناخت، یا ایک اعتقاد رکھنے والوں کو نہیں،بلکہ سب کو معاف کردے۔‘‘

آدم کا کہنا ہے کہ وہ قریباً 4,200 میل کا سفر300 کلوگرام سے زیادہ وزنی گاڑی کو دھکیلتے ہوئے پیدل طے کرنا چاہتے ہیں۔انھیں اس طویل سفر میں 1,330 گھنٹے لگیں گے۔وہ نہ صرف پیدل چل رہے ہوں گے بلکہ اپنے ساتھ ٹرالی کو بھی دھکیل رہے ہوں گے۔یہ ایک بالغ کے تابوت جتنی ہے ۔حج کے لیے مکہ معظمہ پہنچنے تک اگلے پورے سال کے لیے ان کا گھریہی ہتھ گاڑی ہوگی۔ہرسردوگرم موسم میں ان کا بسیرا اسی میں ہوگا،اسی میں سوئیں اور کھائیں پکائیں گے۔

عرب نیوز کے مطابق آدم محمد 1990 کی دہائی کے آخر تک عراقی فوج میں بہ طور فوجی خدمات انجام دیتے رہے تھے ،پھر وہ جنگی قیدی بن گئے تھے۔اس کے بعد وہ برطانیہ چلے گئے تھے۔