.

‘‘سعودی عرب پر حوثیوں کے عاقبت نا اندیش اور فضول حملے بند کیے جائیں’’

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکہ، برطانیہ، خلیج تعاون کونسل ’’جی سی سی‘‘، عرب اور اسلامی ملکوں نے سعودی عرب پر ڈرون اور بیلسٹک میزائل حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے فوری طور پر ان حملوں کو روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔

امریکا کا بیان

سعودی عرب میں امریکی سفارتخانے نے بیان میں سعودی عرب کے مشرقی ریجن پر حوثیوں کے حملوں کی واضح مذمت کرتے ہوئے کہا کہ شہریوں پر حملے غیر قانونی اور مکمل طور پر ناقابل قبول ہیں۔ بیان میں کہا گیا کہ ’مملکت پر حوثیوں کے ایسے حملوں سے کوئی عسکری مفاد حاصل نہیں ہورہا ہے بلکہ یمن میں تصادم بڑھ رہا ہے‘۔

بیان کے مطابق ’حوثیوں سے پھر کہیں گے کہ وہ اس قسم کے فضول حملے فوری طور پر بند کریں اور تنازع کے سفارتی اور پرامن حل تک رسائی کے لیے سفارتی عمل شروع کریں‘۔ امریکہ، سعودی عرب کے ساتھ طویل المیعاد اسٹرٹیجک شراکت کا پابند ہے۔ واشنگٹن، سعودی عرب کی سرحدوں اور عوام کے دفاع کے سلسلے میں مملکت کی مدد کا بھی پابند ہے۔

جی سی سی کا ردعمل

خلیج تعاون کونسل "جی سی سی" کے سیکریٹری جنرل ڈاکٹر نایف الحجرف نے حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ’حوثی جان بوجھ کر منصوبہ بند طریقے سے یہ حملے کررہے ہیں۔ شہری ان کے نشانے پر ہیں۔ یہ بین الاقوامی روایات اور قوانین کے منافی ہے‘۔ انہوں نے مملکت سے مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے حملوں کے خلاف کارروائی میں بھرپور تعاون کا یقین دلایا۔

امارات، بحرین، کویت اور اردن

متحدہ عرب امارات کی وزارت خارجہ نے کہا کہ ’حوثیوں کے یہ دہشت گردانہ حملے اس بات کا ثبوت ہیں کہ وہ عالمی برادری کو کھلا چیلنج دے رہے ہیں اور تمام بین الاقوامی قوانین و روایات کا مذاق اڑا رہے ہیں‘۔ عالمی برادری کو یہ حملے بند کرانے کے لیے فوری اور فیصلہ کن اقدام کرنا ہوگا۔ یہ حملے خطے میں امن واستحکام کو سبوتاژ کرنے کے مشن کا حصہ ہیں۔

بحرین نے حملوں کی مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کو دہشت گردانہ حملے روکنے کے لیے دندان شکن سبق سکھانے والے ہر سعودی اقدام کی مکمل حمایت کا اعلان کیا۔ بحرینی دفتر خارجہ نے عالمی برادری سے اپیل کی کہ وہ حوثیوں کے دہشت گردانہ، مجرمانہ حملوں کی مذمت کریں۔ حوثی انسانی اقدار اور بین الاقوامی قوانین کا مذاق اڑا رہے ہیں۔

کویت کے دفتر خارجہ نے بیان میں کہا کہ حوثیوں کے مسلسل جارحانہ حملے بین الاقوامی و انسانی قانون کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔ صورتحال کا تقاضا ہے کہ عالمی برادری حوثیوں کو لگام لگانے اور حملہ کرنے کرانے والوں کے احتساب کے لیے فوری اور فیصلہ کن اقدام کرے۔

مصری دفتر خارجہ نے اپنے بیان میں سعودی عرب کو یقین دہانی کرائی کہ وہ اس قسم کے گھٹیا جارحانہ حملوں کے خلاف کارروائی میں سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہوگا۔ سعودی عرب اور مصر برادر ملکوں کی قومی سلامتی ایک ہے'

اردنی وزارت خارجہ کے ترجمان ھیثم ابو الفول نے حوثیوں کے حملوں کو دہشت گردانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ تمام مذہبی و انسانی اقدار کے منافی ہے۔ ان کا مقصد امن و استحکام کو متزلزل کرنا ہے۔ اردن سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہے۔