.

یواےای:نوجوانوں میں امراضِ قلب میں اضافہ،دورے کے نصف مریضوں کی عمر50 سال سے کم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

متحدہ عرب امارات میں ڈاکٹروں نے دل کی بیماری میں مبتلا نوجوانوں کی تعداد میں اضافے کے بارے میں خبردارکیا ہے۔تحقیقی رپورٹس کے مطابق یواے ای میں دل کے دورے کے نصف مریضوں کی عمریں 50 سال سے کم ہیں۔

امراض قلب (سی وی ڈی) دنیا بھرمیں اموات کاایک اہم سبب ہیں اورمتحدہ عرب امارات میں ہونے والی تمام اموات میں 40 فی صد کا تعلق امراض قلب کے مریضوں سے ہوتا ہے۔

کلیولینڈ کلینک ابوظبی کے معالجین کے مطابق دل کی بیماری کے زیادہ کیس پیٹ کے موٹاپے،ذیابیطس، تمباکو نوشی،بلند فشار خون اور کولیسٹرول کی بلند سطح سمیت خطرے کے متعدد عوامل کی وجہ سے ہوتے ہیں۔اب ملک میں کم عمربالغوں میں بھی امراضِ قلب کے مریضوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔

کلیولینڈ کلینک میں گذشتہ تین سال میں دل کے بڑے دورے کے بعدداخل ہونے والے مریضوں کے جائزے سے پتا چلا ہے کہ ان میں قریباً نصف کی عمر50 سال سے کم تھی اور ہردس مریضوں میں سے ایک کی عمر 40 سال سے کم تھی۔

اس کلینک کے ہارٹ اینڈ ویسکولرانسٹی ٹیوٹ کے اسٹاف فزیشن ڈاکٹر فراس بدر کا کہنا ہے کہ بہت سے نوجوان مریض اپنے خطرے کے عوامل سے لاعلم ہوتے ہیں کیونکہ وہ دل کی بیماری کے خطرے کی تشخیص کے لیے ڈاکٹر کے پاس جانے سے اس وقت تک گریزکرتے ہیں جب تک کہ انھیں بڑی علامات ظاہرنہ ہویا دل کا دورہ نہ پڑ جائے۔

گذشتہ تین سال میں اسپتال میں دل کے بڑے دورے کے جن مریضوں کا طبی معائنہ کیا گیا،ان میں 95 فی صد سے زیادہ مریضوں میں کم سے کم ایک خطرے سے دوچارتھا۔

ڈاکٹر بدر کے بہ قول:’’ہمیں یہ دیکھ کر مایوسی ہوتی ہے کہ بہت سے نوجوان مریض اس طرح دل کی خطرناک بیماری میں مبتلا ہیں۔اب 30 اور 40 سال کی عمرکے مریضوں کی شریانوں کو پہنچنے والے نقصان کی حد کچھ ایسی ہوتی ہےجو ہم پہلے صرف 70 سال یا اس سے زیادہ عمر کے مریضوں میں دیکھتے تھے۔‘‘

ان کا کہنا ہے کہ ’’نوجوان مریضوں کی صحت سے یہ پتا چلتا ہے کہ وہ کولیسٹرول، بلڈ شوگراور بلڈ پریشر کے بارے میں کچھ زیادہ نہیں جانتے اور اس بات سے بھی بے خبرہوتے ہیں کہ خطرے کے عوامل کس طرح ان کے دل پر دباؤ ڈال رہے ہوتے ہیں۔ان کا یہ بھی خیال ہوتا ہے کہ عارضہ قلب توبڑھاپے کی بیماری ہے۔‘‘

دل کی صحت کے بارے میں غلط فہمیاں

ڈاکٹر بدر کا کہنا تھا کہ ’’جب دل کی صحت کی بات آتی ہے تواس سے متعلق کئی ایک اور بھی غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں۔مریض بعض اوقات یہ فرض کرلیتے ہیں کہ اگر وہ خود کو فٹ محسوس کرتے ہیں یا ان کا باڈی ماس انڈیکس عام ہے تووہ دل کی بیماری سے محفوظ ہیں لیکن اگر آپ دبلے پتلے ہیں توپھر بھی آپ کا کولیسٹرول زیادہ ہوسکتا ہے کیونکہ آپ سگریٹ نوش ہوسکتے ہیں-‘‘

وہ بتاتے ہیں کہ ’’یہاں کے نوجوانوں میں ایک بڑامسئلہ یہ ہے کہ وہ تلی ہوئی (پروسیسڈ) غذاؤں کا زیادہ استعمال کرتے ہیں۔ان کے ذریعے وہ پیٹ میں زیادہ چربی لے جاتے ہیں، یہ سب غذائیں دل پراثراندازہوتی ہیں۔‘‘

متحدہ عرب امارات کی ایک جامعہ کی حالیہ تحقیق کے مطابق 42 فی صد اماراتی مرد تمباکو نوشی کرتے ہیں۔یہ عادت بھی دل کے امراض میں اضافے کا ایک سبب ہے۔

ڈاکٹر بدربتاتے ہیں کہ ’’دل کے عارضے میں مبتلا افراداکثراپنی خاندانی تاریخ کے کردارکو اس معاملے میں فراموش کردیتے ہیں یااس کو کم ترسمجھتے ہیں حالانکہ اگر کسی کےآباواجداد دل کے عارضے میں مبتلا رہے ہیں تو ان کی یہ تاریخ دل کی بیماری کے خطرے کو بڑھانے میں اہم کردارادا کرتی ہے۔‘‘

چاق چوبند زندگی کے فوائد

انھوں نے کہا کہ اس بیماری کا رخ موڑنے کا واحد طریقہ نوجوانوں کوطویل، صحت مند زندگی کے لیے اسمارٹ انتخاب کی ضرورت ہے۔انھیں چاق چوبند رہنے کے لیے اپنا طرزِزندگی تبدیل کرنا چاہیے۔

بیس سال کی عمر سے باقاعدگی سے تندرستی کو برقرار رکھنے پر توجہ دی جائے۔معمول کے مطابق جسمانی سرگرمی پرعمل کیا جائے۔صحت مند کھانے استعمال کیے جائیں۔اس طرح مریض دل کی بیماری کی اپنی جانب پیش رفت کوروک سکتے ہیں اوراس کا رُخ پھیرسکتے ہیں۔

29 ستمبر کودل کے عالمی دن سے قبل اسپتال نے متحدہ عرب امارات میں دل کے دورے کے بڑھتے ہوئے مسئلے کے بارے میں لوگوں کوآگاہ کرنے کے لیے ایک نئی مہم ’’مل جل کر صحت مند دل‘‘ کے نام سے شروع کی ہے۔اس میں خطرے کے عوامل اورانتباہی آثار کے بارے میں شہریوں میں شعور اجاگر کیا جائے گا۔

اس اقدام کا مقصد عوام کو بلڈ پریشر،کولیسٹرول اور بلڈ شوگرجیسے عوامل کی جلد اور باقاعدگی سے جانچ کے بارے میں آگاہ کرنا ہے تاکہ وہ اپنی صحت کا کنٹرول اپنے ہاتھ میں رکھیں۔اپنےطرززندگی میں اس انداز میں تبدیلیاں لائیں کہ اس سے ان کے دل کی بیماری میں مبتلا ہونے کے خطرے کو کم سے کم کیا جاسکے۔