.

امریکا:ویکسین لگوانے کی شرط پرملازمین مستعفی؛اسپتال میں بچّوں کی ولادت کا عمل معطل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کے شہر نیویارک میں قائم ایک اسپتال کے نرسنگ ڈیپارٹمنٹ کے عملہ کے بیشترارکان کووِڈ-19 کی ویکسین لازمی طور پرلگوانے کی شرط کے خلاف بہ طور احتجاج ملازمت کوخیرباد کہہ گئے ہیں۔اس کے بعد اس اسپتال نے اپنے ہاں بچوں کی پیدائش کا یونٹ بند کرنے کااعلان کیا ہے اور اب وہاں عارضی طور پربچوں کی جنائی کی سہولت دستیاب نہیں ہوگی۔

اسپتال کے چیف ایگزیکٹو جیرالڈکائیر نے ایک نیوزکانفرنس میں کہا ہے کہ ملازمین کے موصولہ استعفوں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔اس کے پیش نظر ہمارے پاس لیوس کاؤنٹی جنرل اسپتال میں بچوں کی ولادت کا عمل روکنے کے سواکوئی چارہ نہیں ہے۔

کائیر نے کہا کہ زچہ بچہ یونٹ کے عملہ کے چھے ارکان مستعفی ہوچکے ہیں۔ انھوں نے کرونا وائرس کی ویکسین کے انجیکشن نہیں لگوائے ہیں جبکہ سات دیگر ملازمین نے ابھی تک یہ فیصلہ نہیں کیا کہ انھیں ویکسین لگوانی چاہیے یا نہیں۔

انھوں نے مزید کہا کہ اس کی وجہ سے اسپتال 25 ستمبر تک اپنے زچگی کے یونٹ کو فعال نہیں رکھ سکے گا۔مجھے امید ہے کہ ریاست نیویارک کا محکمہ صحت زچگی کا شعبہ بند کرنے کے بجائے اس سہولت کو بحال رکھنے کے لیے ہمارے ساتھ کام کرے گا۔

اس اسپتال کی قریباً 27 فی صد افرادی قوت کوکووڈ-19 سے بچاؤ کے لیے ویکسین کے ٹیکے نہیں لگائے گئے ہیں۔ان کی تعداد 165 بنتی ہے۔ان میں سے 73 فی صد اسی تولیدی صحت کے یونٹ میں طبی خدمات فراہم کرتے ہیں۔

اسپتال کا اعلان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب محکمہ صحت میں خدمت انجام دینے والے کارکنوں پر ویکسین لگوانے کے لیے دباؤ بڑھ رہا ہے تاکہ اسپتالوں کو انجیکشن نہ لگوانے والے مریضوں سے نمٹنے میں مدد مل سکے۔ اتوار تک امریکامیں 97,000 سے زیادہ افراد کووڈ-19 انفیکشن کی وجہ سے اسپتالوں میں داخل تھے۔ واشنگٹن پوسٹ کے مطابق ان میں سےایک چوتھائی مریض انتہائی نگہداشت کے یونٹ (آئی سی یو)میں زیرعلاج تھے۔