.

خواتین کے لیے ایوکاڈو کے استعمال کے حیرت انگیز فواید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایوکاڈو کے فوائد اس کے معروف فوائد تک محدود نہیں ہیں۔ایک حالیہ سائنسی مطالعے نے اس کی ایک نئی طبی خاصیت کا پتا چلایا ہے جس پر کبھی غور نہیں کیا گیا۔

اس طبی تحقیق میں بتایا گیا کہ ایک دن میں ایک ایوکاڈو کھانے سے خاص طور پر خواتین کو ایک بڑے مسئلے کو حل کرنے میں مدد مل سکتی ہے جس سے چھٹکارا پانا مشکل ہے۔

سائنسی جریدے ’جرنل آف نیوٹریشن‘ میں شائع ہونے والی اس تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ ایو کاڈو کا ایک دانہ روزانہ کھانے سے خواتین کو پیٹ کی چربی کم کرنے میں مدد دیتا ہے- پیٹ کی چربی خواتین کو درپیش مسائل میں ایک عمومی مسئلہ ہے۔ بچے کی پیدائش کے بعد خواتین کے پیٹ کا پھول جانا عام بات ہے۔

یونیورسٹی آف الینوائے کے محققین نے فلوریڈا یونیورسٹی کے محققین کے ساتھ مل کر نے تین ماہ تک خواتین کے ایک گروپ پر اس پھل کا تجربہ کیا۔ اس سےظاہر ہوا کہ جو لوگ ایک دن میں مسلسل ایک ایوکاڈو کھاتے ہیں ان میں ویزرل چربی کم ہوتی ہے۔

مطالعہ کے مصنف پروفیسر نیمان خان نے کہا کہ ان کا مقصد وزن کم کرنا نہیں تھا بلکہ یہ دیکھنا تھا کہ ایوکاڈو کھانے سے لوگوں کے جسم میں چربی پر کیا اثر پڑتا ہے۔

پیٹ کی چربی کی دو اقسام

ماہرین نے بتایا کہ پیٹ میں دو قسم کی چربی ہوتی ہے۔ ایک چربی جو صرف جلد کے نیچے جمع ہوتی ہے۔ اسے جلد کے نیچے جمع ہونے والی چربی کہا جاتا ہے۔یہ چربی پیٹ کی گہرائی میں جمع ہوتی ہے جواندرونی اعضاء کے گرد گھیرا بنا لیتی ہے۔

لوگوں کا عام خیال یہ ہے کہ گہری ویزرل چربی والے لوگ زیادہ خطرے میں ہوتے ہیں۔

نتائج سے پتہ چلتا ہے کہ وہ خواتین جو باقاعدگی سے ایوکاڈو کھاتی تھیں ان کے پیٹ کی چربی میں نمایاں کمی واقع ہوئی۔ جوعام طورپروہ چربی ہوتی ہے جس سے چھٹکارا پانا مشکل ہوتا ہے۔ جبکہ انہی خواتین نے ویزرل چربی کی فیصد میں کمی دیکھی جو ان کے جسموں میں چربی کی دوبارہ تقسیم کی نشاندہی کرتا ہے۔

جہاں تک مردوں کی صحت پر اثرات کا تعلق ہےتو تحقیق سے پتا چلتا ہے کہ مردوں کے ایوکاڈو کھانے سے چربی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔

یہ بات قابل غور ہے کہ ایوکاڈو کے بے شمار فوائد ہیں کیونکہ ایک درمیانے درجے کے پھل میں تقریبا 12 ملی گرام وٹامن سی ہوتا ہے جو کہ پٹھوں کے درد کو کم کرنے میں مدد دیتا ہے۔

ایوکاڈو گودا کا استعمال ورزش کے بعد سیسٹولک بلڈ پریشر کو بحال کرنے کے وقت کو نمایاں طور پر کم کرتا ہے اور دل کی دھڑکن کو متوازن کرتا ہے۔