.

تین براعظموں کے 52 ملکوں کی سیر کرنے والے سعودی مہم جو کون ہیں؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سیر وسیاحت جہاں تفریح کا ایک موقع ہوتا ہے وہیں دوسرے ممالک یا دشوار گذار علاقوں میں سفر کرنا مشکلات سے بھرپور تجربہ بھی ہو سکتا ہے۔

کرونا کی وبا نے سیاحت کے شوقین اور مہم جوئی کا جذبہ رکھنے والے سیاحوں کو بھی مشکلات سے دوچار کیا ہے۔ کرونا کی وبا سے متاثر ہونےوالے سیاحوں میں سعودی عرب کے فہد الزہرانی بھی شامل ہیں جو پچھلے سات سال کے دوران تین براعظموں کے 52 ممالک کی سیر کر چکے ہیں مگر کرونا نے ان کے سفر اور سیاحت کے پروگرام بری طرح متاثر کیے ہیں۔

ان دنوں فہد الزہرانی جنوبی افریقا کے دارالحکومت کیپ ٹاؤن کے سفر کی تیاری کر رہے ہیں مگر یہ سفر اتنا آسان نہیں۔ کرونا کی وجہ سے یہ اور بھی مشکل ہوگیا ہے۔

الزھرانی کا کہنا ہے کہ جنوبی افریقا کا سیاحتی ٹور مشکلات سے بھرپور ایک چیلنج سفر ہو گا کیونکہ جنوبی افریقا بھی اس وقت کرونا سے متاثرہ ممالک کی فہرست میں شامل ہے۔ جنوبی افریقا جیسے ممالک کا ویزہ حاصل کرنا بھی آسان کام نہیں کیونکہ اس وقت مملکت میں جنوبی افریقا کا کوئی سفارت خانہ، قونصل خانہ یا نمائندہ دفتر کام نہیں کر رہا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے فہد الزھرانی نے اندرون اور بیرون ملک سیاحتی سفر کے دوران پیش آنے والی مشکلات کا تفصیلی احوال بیان کیا۔ اس نے کہا کہ دوسرے ملکوں کی سیاحت کا شوق اپنی جگہ مگر وہ جہاں بھی گیا اس نے اپنے وطن کی نمائندگی کی، سماجی مسائل کے حل کے لیے خدمات انجام دیں اور انسانی بہبود کے اقدامات کیے کیونکہ رواداری، کشادہ دلی اور امن کی ثقافت ان کے ملک کے ان اصولوں میں سے ہیں جنہیں دوسری اقوام تک پہنچانا کسی بھی سعودی شہری کی ذمہ داری ہے۔ میں سعودی عرب کی انہی روایات کو لے کردوسری اقوام تک پہنچا۔

مملکت کے سیاحتی اور جغرافیائی خزانوں کا اظہار

فہد الزھرانی نے اپنی موٹرسائیکل پر سعودی عرب کے کونے کونے تک پہنچے۔ مملکت کا واحد علاقہ ’شرورہ‘ ایسا مقام ہے جہاں فہد نے قدم نہیں رکھا۔ یہ علاقہ یمن کی سرحد پر واقع ہے۔ اس کے علاوہ اس نے ملک کے کونے کونے کا سفر کیا اور ملک میں موجود سیاحتی اور جغرافیائی خزانوں، تاریخی، ثقافتی اور قدرتی مقامات کی سیر کی اور ان کی خوبصورتی کو دیگر دنیا تک پہنچانے اور اسے متعارف کرانے کے لیے ان مناظر کو تفصیلات کے ساتھ سوشل میڈیا کے پلیٹ فارم تک پہنچایا۔

سعودی سیاح فہد الزھرانی کے پاس بہت سی کہانیاں اور تجربات ہیں جن میں سب سے نمایاں وہ دورے ہیں جو انہوں نے رضاکارانہ طورپر کمیونٹی کی خدمت کے جذبے کے تحت کیے۔ اس نے کئی ایسی مہمات میں حصہ لیا جن کا مقصد انسانی فلاح وبہبود ہے۔ ان مہمات میں عمان میں بلڈ ڈونیشن مہم، اردن میں بلائنڈ ایسوسی ایشن کا دورہ، دبئی میں چھاتی کے کینسر کے حوالے سے ہونےو الی آگہی میں رضاکارانہ شرکت کے ساتھ مملکت کے قومی دن کی سرگرمیوں میں حصہ لینا ، بہت سی کھیلوں ، سیاحت اور تفریحی سرگرمیوں میں رضاکارانہ خدمات انجام دینا اس کا مشغلہ ہے۔

 فهد الزهراني
فهد الزهراني

تین براعظموں میں مہم جوئی اور یادیں

فہد الزھرانی پیشے کے اعتبار سے استاد ہیں۔ اس نے 2014 سے اب تک تقریبا 52 ممالک کا سفر کیا ہے۔ وہ پوری دنیا میں اپنی موٹر سائیکل پر سفر کی خواہش رکھتا ہے۔ سخت ترین اور تاریک ترین حالات میں وہ دنیا کے 3 براعظموں کا چکر لگانے میں کامیاب رہا۔ ان میں افریقہ ، ایشیا اور یورپ جیسے بڑے براعظم شامل ہیں جن پر وہ موٹرسائیکل پر گھوم چکا ہے۔

ہیلتھ پاسپورٹ کا حصول

فہد نے کہا کہ عالمی سفر کے دوران اس کے لیے سب سے مشکل دن وبا کے دوران تھے۔ وبا نے اس کے سیاحتی پروگرامات اور ٹور کو بری طرح متاثر کیا۔ سفر کے لیے اسے ’پی سی آر‘ میڈیکل ٹیسٹ کرانے، ویکسین لگوانے اور عالمی سفر کے لیے ہیلتھ پارسپورٹ بنوانے جیسے مسائل سے گذرنا پڑا۔ تاہم یہ مشکلات صرف فہد الزھرانی کو درپیش نہیں بلکہ دنیا کےسات ارب لوگ ایسی ہی مشکلات سے دوچار ہیں۔

شوق سفر اور بڑھتا گیا

موٹر سائیکل پر سوار ہونے کے شوق کے علاوہ فہد گھڑ سواری ، پیدل سفر ، خیمہ زندی، ککنگ، ہائیکنگ اور فوٹو گرافی کا بھی شوقین ہے۔ یہ تمام مشاغل اس کی مہم جوئی کا حصہ رہتے ہیں۔ وہ ان کو اپنے تمام دوروں کے لیے ایک لازمی حصہ سمجھتا ہے۔ اس کاکہنا ہے کہ جیسے جیسے اس کا سفر طول پکڑتا گیا تو دنیا کے ثقافتوں اور تہذیبوں کی جان کاری کا شوق بھی اتنا ہی بڑھتا چلا گیا۔

سعودی عرب کے قابل دید مقامات

فہد نے سعودی عرب کے نمایاں مقامات کی سیر کی اور ان کا تذکرہ کیا۔ اس نے بتایا مملکت پرکشش سیاحتی اور قدرتی مقامات سے مالامال ہے۔ ہر مقام سیاحوں کو دعوت نظارہ پیش کرتا ہے۔جبوب میں رجال المع کےپہاڑوں میں تین سو پچاس سال پرانی تعمیرات عجائبات میں سے ایک ایک عجوبہ ہے۔ یہ پہاڑ دراصل کئی پہاڑی سلسلوں کا مجموعہ ہے مگر دیکھنے میں یہ ایک ہی دکھائی دیتا ہے۔ حالانکہ ایک سےدوسرے پہاڑ کے درمیان بعض مقامات پر چھ سو کلو میٹر کا فاصلہ ہے۔ اس پہاڑ کی سطح سمندر سے اونچائی 7000 فٹ ہے۔

 فهد الزهراني
فهد الزهراني

جازان گورنری میں کے شمال مشرق میں الرث میں واقع القہر پہاڑ، جبال شد، تاریخی گاؤں ذی عین، نجران میں الاخدود مملکت کے پرکشش سیاحتی مقامات ہیں۔

مملکت کے دیگر سیاحتی مقامات کا تذکرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ العلا شہر، مدائن صالح، الدبسہ، جبال اللوز، مشرقی گورنری کے الاحسا کے علاقے کے اہم اور قابل دید مقامات ہیں۔ دمام، الخبر، الاصفر جھیل، العقیر وسطی الریاض میں ، القصیم، شقرا، اشیقر، الدوادمی، تیما،، ینبع، ضبا اور نیوم شہر بھی مملکت کے ان علاقوں میں شمار کیے جاتے ہیں جو سیاحوں کو دعوت نظارہ پیش کرتے ہیں۔

زبان اور شناسائی میں مشکلات

فہد تمام مسافروں کو درپیش چیلنجوں کی نشاندہی کرتا ہے۔ ان مشکلات میں کسی دوسرے ملک میں سفر کے لیے پہلا مرحلہ ویزہ کا حصول ہوتا ہے۔ یہ بھی آسانی سے نہیں ملتا۔ اس کے بعد اگر آپ دوسرے ملک چلے بھی جائیں تو آپ کو وہاں کی زبان نہیں آتی تو ایک بڑی مشکل پیش آتی ہے۔ البتہ انگریزی زبان کسی حد تک مسئلے کے حل میں مدد دیتی ہے مگر شناسائی اور واقفیت کا فقدان سفر میں روکاٹ بنتے ہیں۔

فهد الزهراني
فهد الزهراني

اس نے کہا کہ ہر ملک اور اس کے باشندوں کا اپنا ایک مخصوص کلچر، طرز زندگی، بودو باش، زبان، ثقافت ہوتی ہے جو ایک کھلی کتاب کی طرح ہوتی ہے۔ ایک سیاح کے سفر کے مقاصد میں دوسرے ممالک کی ثقافت، روایات اور وہاں کے باشندوں کی طبائع سے آگاہی کا حصول بھی شامل ہوتا ہے۔

یورپ الہامی براعظم اور عجائبات کا مرکز

فہد الزھرانی کا کہنا ہے کہ یورپ کے ممالک مجموعی طور پر الہام کے براعظم کی نمائندگی کرتے ہیں۔ اس کے عجائبات اور قدیم فطرتی مظاہر ناقابل بیان ہیں اوریہ خطہ ایسے مقامات سے بھرا پڑا ہے۔ براعظم یورپ کے سفرنے مجھے زندگی کا فن سکھایا اور مجھے اپنی موٹر سائیکل کے ذریعے اس کو دریافت کرنے کا موقع ملا۔

 فهد الزهراني
فهد الزهراني

اٹلی کا سفر حیران کن واقعات سے بھرپور ہے۔ ایسے لگتا ہے کہ اٹلی کےقدرتی حسن نے مجھے اپنے سحر میں جکڑ لیا۔ جمہوریہ چیک اور پولینڈ کی خوبصورتی بھی بے مثال ہے۔ جبل الاسود کے جنگلات سے بھرپور پہاڑوں کے نظارے ، سوئٹرزلینڈ کے طلسماتی مناظر اور آسٹریا کے فنون لطیفہ اور آثار قدیمہ اپنے اندر بے پناہ کشش رکھتے ہیں۔