.

متحدہ عرب امارات میں نصف سے زیادہ مکین دل کے عارضے سے متاثر:سروے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

متحدہ عرب امارات میں ایک نئی تحقیق کے مطابق نصف سے زیادہ مکین اپنی زندگی کے دوران میں دل کی بیماریوں سے کسی نہ کسی طرح متاثر ہوتے ہیں۔

متحدہ عرب امارات میں مقیم ایک ہزار سے زیادہ افراد سے ایک سروے میں ان کے قلب کو درپیش مسائل کے بارے میں پوچھا گیا ہے۔اس میں انکشاف ہوا ہے کہ 55 فی صد جواب دہندگان دل کی بیماری سے براہ راست متاثر ہوئے ہیں۔ان میں 12 فی صد میں خود قلب کی بیماری کی تشخیص ہوئی ہے اور 53 فی صد میں ان کے ساتھ کسی قریبی دوست یا خاندان کے کسی فرد میں دل کی بیماری کی تشخیص ہوئی ہے۔

یہ سروے کلیولینڈ کلینک ابوظبی نے 29 ستمبر کو عالمی یوم قلب سے قبل کیا ہے۔متحدہ عرب امارات میں امراض قلب موت کی سب سے بڑی وجہ ہیں۔امراض قلب کا شکار افراد میں علامات اکثردیگرترقی یافتہ ممالک میں اپنے ہم عمروں کے مقابلے میں ایک عشرہ پہلے ظاہرہوتی ہیں۔

کلیولینڈ کلینک کے ماہر امراض قلب ڈاکٹررونی شانتوف نے کہا کہ دل کی بیماری ایک مریض سے اس کے اہل خانہ اور دوستوں تک پھیلتی ہے جس سے قدرتی طور پر تمام متعلقہ افراد متاثر ہوتے ہیں۔انھوں نے کہا کہ سروے کے نتائج اس بات کے غمازہیں کہ دل کی بیماری کا ہماری کمیونٹی پر کیا افسوس ناک اثر پڑتا ہے۔

سروے میں مثبت نتائج دل کی بیماری کے خطرے کے عوامل کے بارے میں مضبوط آگاہی کی نشان دہی بھی کرتے ہیں۔اس میں 78 فی صد جواب دہندگان نے کہا کہ وہ خطرے کے عوامل کو سمجھتے ہیں اور 77 فی صد یہ بات جانتے ہیں کہ دل کی بیماری سے بچاجا سکتا ہے۔اس کے علاوہ سروے میں شامل نصف سے زیادہ افراد اس بات سے آگاہ تھے کہ معالج ہفتے میں 150 منٹ سے زیادہ دیر تک ورزش کا مشورہ دیتے ہیں تاکہ دل کی بیماری سے بچنے میں مدد مل سکے۔

یو اے ای کے 53 فی صد مکینوں نے بتایا کہ انھوں نے گذشتہ دو سال سے زیادہ عرصے سے اپنے دل کی صحت کی جانچ نہیں کروائی ہے،قریباً ایک تہائی (30 فی صد) نے کہا کہ انھوں نے ایسا کبھی نہیں کیا۔یعنی دل کا کبھی طبی معائنہ نہیں کرایا۔

سروے میں 45 سال سے زیادہ عمر کے گروپ سے سے زیادہ خطرے سے دوچار قرار دیا گیا ہے۔مگر ان میں سے 49 فی صد نے دو سال سے زیادہ عرصے سے دل کی صحت کا معائنہ نہیں کرایا تھا، 22 فی صد اس ضمن میں کبھی کسی ڈاکٹر کے پاس نہیں گئے تھے۔

سروے میں شامل خواتین کا کہنا تھا کہ وہ امراض دل کی جانچ یا دل کی صحت کے بارے میں جانکاری کے لیے کم ہی ڈاکٹروں سے رجوع کرتی ہیں۔ ان میں سے 35 فی صد نے ایسا کبھی نہیں کیا اور26 فی صد نے دو سال سے زیادہ عرصے سے چیک اپ نہیں کرایاتھا۔

ڈاکٹرشانتوف کا کہنا ہے کہ ہماری کمیونٹی میں دل کی بیماریوں میں اضافے اوران سے متعلق نمایاں بیداری کے باوجود لوگ اب بھی کسی ڈاکٹرکو دکھانے اور دل کی بیماری سے بچنے کے اقدامات کرنے سے گریزاں ہیں۔ یہ انتہائی اہم ہے کہ لوگ ڈاکٹر سےملاقات کریں، خاص طور پراگر انھیں زیادہ خطرہ لاحق ہو تو انھیں ضرور کسی ماہرمعالج سے رجوع کرنا چاہیے۔

ان کا کہنا ہے کہ صحت مندزندگی کے لیے دل کی صحت ضروری ہے اورصحت مند تبدیلیوں کے ساتھ سادہ طرز زندگی اور بروقت مناسب تشخیص سے نہ صرف آپ بلکہ آپ کے دوستوں اور خاندان کو بہت سے دکھ ،تکالیف اور پریشانیوں سے بچایاجاسکتا ہے۔

سروے میں جواب دہندگان کی اکثریت نے حالیہ برسوں میں دل کی صحت کا چیک اپ نہیں کیا ہے، صرف 15 فی صد نے بتایا کہ ان میں دل کی بیماری کے لیے کوئی خطرے کے عوامل نہیں ہیں۔سروے میں شامل افراد کی جانب سے رپورٹ کیے گئے سب سے عام خطرے کے عوامل ہائی بلڈ پریشر (46 فی صد)، تناؤ (45 فی صد)، کولیسٹرول (44 فی صد) اور ورزش کی کمی (44 فی صد) تھے۔ اس کے علاوہ موٹاپا اور ذیابیطس، دل کی شدید بیماری سے قریبی طور پر منسلک علامتیں ہیں اور سروے میں شامل افراد میں سے بالترتیب 35 فی صد اور 30 فی صد ان دونوں امراض سے متاثر تھے۔

قبل ازیں اسی ماہ العربیہ نے ایک رپورٹ میں بتایا تھا کہ یواے ای میں دل کے دورے کے نصف مریضوں کی عمریں 50 سال سے کم ہیں۔ ڈاکٹروں نے دل کی بیماری میں مبتلا نوجوانوں کی تعداد میں اضافے کے بارے میں خبردارکیا تھا۔

امراض قلب (سی وی ڈی) دنیا بھرمیں اموات کاایک اہم سبب ہیں اورمتحدہ عرب امارات میں ہونے والی تمام اموات میں 40 فی صد کا تعلق امراض قلب کے مریضوں سے ہوتا ہے۔کلیولینڈ کلینک ابوظبی کے معالجین کے مطابق دل کی بیماری کے زیادہ کیس پیٹ کے موٹاپے،ذیابیطس، تمباکو نوشی،بلند فشار خون اور کولیسٹرول کی بلند سطح سمیت خطرے کے متعدد عوامل کی وجہ سے ہوتے ہیں۔اب ملک میں کم عمربالغوں میں بھی امراضِ قلب کے مریضوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔

کلیولینڈ کلینک میں گذشتہ تین سال میں دل کے بڑے دورے کے بعدداخل ہونے والے مریضوں کے جائزے سے پتا چلا ہے کہ ان میں قریباً نصف کی عمر50 سال سے کم تھی اور ہردس مریضوں میں سے ایک کی عمر 40 سال سے کم تھی۔