.
کرونا وائرس

بچّوں میں کووِڈ-19 کی طویل علامات کتناعرصہ باقی رہ سکتی ہیں؟مطالعہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

کووِڈ-19 کے طویل دورانیے کے بارے میں توابھی تک کچھ معلوم نہیں، لیکن ایک نئی تحقیق سے پتاچلاہے کہ جو بچّے وائرس کا شکار ہوتے ہیں،انھیں12 ہفتوں سے زیادہ عرصے کے بعد اس کے اثرات کا شاذونادر ہی سامناہوتا ہے۔

ابوظبی کے برین اسپتال کے انٹرنل میڈیسن کے ماہرڈاکٹر عظیم عبدالسلام محمد نے العربیہ انگلش کو بتایا کہ طویل کووِڈ کی کئی علامات ہیں جو ہفتوں یا مہینوں تک چل سکتی ہیں اور یہ کووِڈ-19 کا شکار ہونے والےکسی بھی شخص کو ہوسکتی ہیں۔

کووِڈ کی طویل علامات

انھوں نے بتایا کہ کووِڈ-19 کی طویل علامات جسمانی اعضاء کے نظاموں کو متاثرکرسکتی ہیں اور جسمانی یا ذہنی سرگرمی اثراندازہوسکتی ہیں۔ان علامات میں سردرد، انتہائی تھکاوٹ، پٹھوں کی کمزوری، پٹھوں میں درد، جوڑوں میں درد اور یادداشت یا حافظے میں تبدیلی شامل ہیں۔

مرڈوک چلڈرن ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (ایم سی آر آئی) کے محققین کی ایک ٹیم کی ’’پیڈیاٹرک انفیکشنڈ ڈیزیز جرنل‘‘ میں شائع شدہ ایک نئی تحقیق سے پتاچلا ہے کہ سب سے عام علامات میں سر درد، تھکاوٹ، نیند میں خلل، پیٹ میں درد اورارتکازمیں مشکلات شامل ہیں۔

یونیورسٹی آف میلبورن سے تعلق رکھنے والے مطالعے کے مرکزی مصنف پروفیسر نیجل کرٹس نے ایک بیان میں کہا کہ شدید بیماری سے پیدا ہونے والے کم خطرے کا مطلب یہ ہے کہ بچوں اور نوعمروں کو کووِڈ کی ویکسین لگانے کا کا ایک اہم فائدہ یہ ہوسکتا ہے کہ انھیں اس طرح کووِڈ کی طویل علامات سے بچایا جاسکتا ہے۔

اس لیے ویکسین لگوانے کے خطرات اور فوائد کے بارے میں بحث میں اس عمر کے گروپ میں طویل کووِڈ کے خطرے کا درست تعین انتہائی اہم ہے۔

کووِڈ-19 کی ڈیلٹا شکل

مطالعے کے مصنفین نے یہ ڈیٹا سے یہ نتیجہ بھی اخذ کیا ہے کہ 10 ماہ کے وقفے کے بعد بچّوں کو کووِڈ-19 کے سابقہ متغیّرات کے مقابلے میں ڈیلٹا شکل نے کوئی زیادہ زیادہ متاثرنہیں کیا ہے۔

امریکا کے مرکزبرائے انسداد امراض اور کنٹرول کے مطابق 12 سال سے زیادہ عمر کے بچّے کرونا وائرس کی ویکسین لینے کے اہل ہیں۔ شواہد سے پتا چلا ہے کہ وائرس کے خلاف ٹیکا لگوانے سے ڈیلٹا شکل سے متاثر ہونے کا خطرہ آدھا رہ جاتا ہے اور شدید انفیکشن ہونے یا اسے دوسرے لوگوں میں پھیلانے کے امکانات بھی کم ہوجاتے ہیں۔

محققین نے اس مطالعے میں کووِڈ-19 میں مبتلا ہونے کے بعد مستقل مسائل کا سامنا کرنے والے 19,000 سے زیادہ بچّوں پردنیا بھر میں کیے گئے 14 مطالعات کے اعداد و شمار کا تجزیہ کیا ہے۔اس میں محققین نے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ گردے کی دائمی بیماری، موٹاپا، مدافعتی نظام کی خرابی اور قلبی امراض میں مبتلا افراد میں وائرس کے شدید کیس کا شکار ہونے کا امکان 25 گنا زیادہ تھا۔

جب بچّے کووڈ-19 سے متاثر ہوتے ہیں توبالعموم ان میں معمولی یا ہلکی علامات ظاہرہوتی ہیں یا بالکل نہیں۔ وہ وائرس سے متاثربالغوں کے مقابلے میں اسپتال میں بھی کم ہی داخل ہونے کے لیے جاتے ہیں۔ تاہم اس کے باوجود اس عمر کے گروپ میں طویل عرصے سے کووِڈ کے خطرات کو اب بھی ناقص طور پر سمجھا جا رہا ہے۔

مزید تحقیق کی ضرورت

مطالعے کے مصنفین کے مطابق بچّوں اور نوعمروں میں کووِڈ کی علامات کے طویل دورانیے کے بارے میں موجودہ مطالعات بہت حد تک محدود نتائج پیش کرتے ہیں۔

ڈاکٹرکرٹس نے کہا کہ موجودہ مطالعات میں کیس کی واضح تعریف اورعمر سے متعلق ڈیٹا کا فقدان ہے۔بچوں میں کووِڈ-19 کی علاماتت کی کسی لیبارٹری سے تصدیق کے بغیر ان کی خود یا والدین کی رپورٹ کردہ علامات پر انحصار کیا جاتا ہے۔

ایک اور اہم مسئلہ یہ ہے کہ بہت سے مطالعات میں ردعمل کی شرح کم ہوتی ہے جس کا مطلب ہے کہ وہ طویل کووڈ کے خطرے کا زیادہ تخمینہ لگا سکتے ہیں۔

مطالعے کے شریک مصنفین میں سے ایک ایم سی آر آئی کی ڈاکٹر پیٹرازیمرمین کہتی ہیں کہ بچّوں میں طویل عرصے سے کووِڈ کی کچھ علامات کو اسکولوں کی بندش کے بالواسطہ اثرات سے الگ کرنا مشکل تھا۔ان کے ذاتی دوستوں کے ساتھ میل جول میں کمی ہوئی ہے اور وہ کھیلوں کی سرگرمیوں یا دیگرمشاغل میں بھی حصہ نہیں لےسکے ہیں۔ان امورکے اثرات کو ان کی کووِڈ-19 کی علامات سے الگ کرنا مشکل تھا۔

ان کا کہنا ہے کہ مستقبل کے مطالعات میں مزید سخت کنٹرول گروپ شامل کیے جاسکتے ہیں۔ان میں انفیکشن والے بچّے اور دیگر وجوہات کی بنا پراسپتال یا انتہائی نگہداشت میں داخل ہونے والے بچے شامل کیے جاسکتے ہیں۔

ایم سی آر آئی کووڈ-19 گورننس گروپ کے شریک چیئر پروفیسراینڈریواسٹیر نے ان کی اس رائے کی تائید کی ہے اور ان کا کہنا ہے’’تیزی سے ایک فرد سے دوسرے فرد میں منتقل ہونے والی کروناوائرس کی ڈیلٹاشکل کے ظہور کے بعد بچوں اورنوعمروں میں کووڈ-19 کی علامات کو بیان کرنے کے لیے مزید اعداد و شمار کی ضرورت ہے کیونکہ بالغوں کو ویکسین لگانے میں ترجیح دی گئی ہے۔‘‘

انھوں نے مزیدکہا کہ ’’جیسے جیسے پابندیاں کم ہوتی جارہی ہیں اورنظام تنفس کو متاثر کرنے والے وائرس گردش میں بڑھ رہے ہیں، ہمیں یہ بھی سمجھنے کی ضرورت ہے کہ آیا سانس کے دیگر وائرسوں مثلاً آرایس وی یا انفلوئنزا کے ساتھ مخلوط انفیکشن نوجوانوں میں بیماریوں کی شدت میں اضافہ کرتا ہے یا نہیں۔‘‘