.

سعودی عرب: الاحسا کی 127 اقسام کی کھجوریں گینز بک میں شامل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کی عالمی معیار کی کئی اقسام کی عالمی شہرت کے بعد مملکت کے مشرقی علاقے الاحسا کی مقامی سطح پر کاشت کی جانے والی 127 اقسام کی کھجوروں کو گینز بک میں شامل کیا گیا۔

الاحسا میں کھجور مرکز کی طرف سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ عالمی معیاری کھجوروں کی گینز بک میں شمولیت کا کریڈٹ سعودی عرب کی وزارت زراعت، پانی اور ماحولیات کو جاتا ہے۔ سعودی عرب کی وزارت زراعت کی مساعی سے الاحسا کی کھجوروں کو نہ صرف عالمی پذیرائی ملی ہے بلکہ مقامی سطح پر الاحسا میں دُنیا کا کھجوروں کا جینیاتی اثاثوں کا بنک قرار دیاجاتا ہے۔

مرکز کے ڈائریکٹر انجینیر خالد الحسینی نے وضاحت کی کہ یہ مرکز کھجوروں کے لیے ایک ڈیٹا بیس بنانے، ان کی جڑوں کو مضبوط بنانے، انہیں ناپید ہونے سے بچانے، ان اقسام پر فزیکل اور مورفولوجیکل اسٹڈیز اور تحقیق کے کام کو آسان بنانے کا کام کر رہا ہے تاکہ کھجوروں کو موسمی تبدیلیوں سے ہونے والے مضر اثرات سے بچایا جاسکے۔

انہوں نے کہا کہ الاحسا کی کھجوروں کی گینز بک میں شمولیت پورے ملک کے لیے اعزاز کا باعث اور قومی ترقی کا حصہ ہے۔ یہ کامیابی زرعی امور میں محققین اور ماہرین کے سائنسی پہلو کو تقویت بخشنے کے لیے مملکت کے وژن 2030 کے اہداف کی کامیابی کا حصہ ہے۔الاحسا کو ملنے والا یہ واحد عالمی ریکارڈ نہیں بلکہ الاحسا اس وقت تک گینز بک میں 12 مختلف ریکارڈ حاصل کرچکا ہے۔

انہوں نےکہا کہ بہت جلد الاحسا کے کھجور کے فارموں کو سیاحت کے لیے کھول دیا جائے گا۔ یہ زرعی سیاحت کا ایک اہم مرکز ثابت ہوگا جو زراعت کے فروغ اور اس کی تقری میں مدد گار ثابت ہوگا۔

سعودی عرب کی عالمی معیار کی کئی اقسام کی عالمی شہرت کے بعد مملکت کے مشرقی علاقے الاحسا کی مقامی سطح پرکاشت کی جانے والی 127 اقسام کی کھجوروں کو گینز بک میں شامل کیا گیا۔

الاحسا میں کھجور مرکز کی طرف سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ عالمی معیاری کھجوروں کی گینز بک میں شمولیت کا کریڈٹ سعودی عرب کی وزارت زراعت، پانی اور ماحولیات کو جاتا ہے۔ سعودی عرب کی وزارت زراعت کی مساعی سے الاحسا کی کھجوروں کو نہ صرف عالمی پذیرائی ملی ہے بلکہ مقامی سطح پرالاحسا میں دُنیا کا کھجوروں کا جینیاتی اثاثوں کا بنک قرار دیاجاتا ہے۔

مرکزکے ڈائریکٹر انجینیر خالد الحسینی نے وضاحت کی کہ یہ مرکز کھجوروں کے لیے ایک ڈیٹا بیس بنانے ، ان کی جڑوں کو مضبوط بنانے، انہیں ناپید ہونے سے بچانے، ان اقسام پر فزیکل اور مورفولوجیکل اسٹڈیز اور تحقیق کے کام کو آسان بنانے کا کام کررہا ہے تاکہ کھجوروں کو موسمی تبدیلیوں سے ہونے والے مضر اثرات سے بچایا جاسکے۔

انہوں نے کہا کہ الاحسا کی کھجوروں کی گینز بک میں شمولیت پورے ملک کے لیے اعزاز کا باعث اور قومی ترقی کا حصہ ہے۔ یہ کامیابی زرعی امور میں محققین اور ماہرین کے سائنسی پہلو کو تقویت بخشنے کے لیے مملکت کے وژن 2030 کے اہداف کی کامیابی کا حصہ ہے۔الاحسا کو ملنے والا یہ واحد عالمی ریکارڈ نہیں بلکہ الاحسا اس وقت تک گینز بک میں 12 مختلف ریکارڈ حاصل کرچکا ہے۔

انہوں نےکہا کہ بہت جلد الاحسا کے کھجور کے فارموں کو سیاحت کے لیے کھول دیا جائے گا۔ یہ زرعی سیاحت کا ایک اہم مرکز ثابت ہوگا جو زراعت کے فروغ اور اس کی تقری میں مدد گار ثابت ہوگا۔

سعودی عرب کی عالمی معیار کی کئی اقسام کی عالمی شہرت کے بعد مملکت کے مشرقی علاقے الاحسا کی مقامی سطح پرکاشت کی جانے والی 127 اقسام کی کھجوروں کو گینز بک میں شامل کیا گیا۔

الاحسا میں کھجور مرکز کی طرف سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ عالمی معیاری کھجوروں کی گینز بک میں شمولیت کا کریڈٹ سعودی عرب کی وزارت زراعت، پانی اور ماحولیات کو جاتا ہے۔ سعودی عرب کی وزارت زراعت کی مساعی سے الاحسا کی کھجوروں کو نہ صرف عالمی پذیرائی ملی ہے بلکہ مقامی سطح پرالاحسا میں دُنیا کا کھجوروں کا جینیاتی اثاثوں کا بنک قرار دیاجاتا ہے۔

مرکزکے ڈائریکٹر انجینیر خالد الحسینی نے وضاحت کی کہ یہ مرکز کھجوروں کے لیے ایک ڈیٹا بیس بنانے ، ان کی جڑوں کو مضبوط بنانے، انہیں ناپید ہونے سے بچانے، ان اقسام پر فزیکل اور مورفولوجیکل اسٹڈیز اور تحقیق کے کام کو آسان بنانے کا کام کررہا ہے تاکہ کھجوروں کو موسمی تبدیلیوں سے ہونے والے مضر اثرات سے بچایا جاسکے۔

انہوں نے کہا کہ الاحسا کی کھجوروں کی گینز بک میں شمولیت پورے ملک کے لیے اعزاز کا باعث اور قومی ترقی کا حصہ ہے۔ یہ کامیابی زرعی امور میں محققین اور ماہرین کے سائنسی پہلو کو تقویت بخشنے کے لیے مملکت کے وژن 2030 کے اہداف کی کامیابی کا حصہ ہے۔الاحسا کو ملنے والا یہ واحد عالمی ریکارڈ نہیں بلکہ الاحسا اس وقت تک گینز بک میں 12 مختلف ریکارڈ حاصل کرچکا ہے۔

انہوں نےکہا کہ بہت جلد الاحسا کے کھجور کے فارموں کو سیاحت کے لیے کھول دیا جائے گا۔ یہ زرعی سیاحت کا ایک اہم مرکز ثابت ہوگا جو زراعت کے فروغ اور اس کی تقری میں مدد گار ثابت ہوگا۔