.

ڈینش مصورنےآرٹ ورک کے لیے وصول کردہ 84,000 ڈالرکے عوض خالی کینوس کیوں دیے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایک ڈینش آرٹسٹ نے عجائب گھرکے ساتھ ’’لطیف فنی‘‘ ہاتھ کیا ہے۔اس مصورکومیوزیم نے فن پارے میں استعمال کرنے کے لیے 84 ہزار ڈالرادا کیے تھے لیکن اس نے میوزیم کو صرف دو خالی کینوس مہیا کیے ہیں اور اس آرٹ ورک کو’’ٹیک دا منی اینڈ رن‘‘(رقم لیجیے اور بھاگ جائیے) کا نام دیا ہے۔

آرٹسٹ جینزہاننگ کو ڈنمارک کے شہر البورگ میں کنسٹن میوزیم آف ماڈرن آرٹ کے لیے کچھ فن پارے بنانے کا کام سونپا گیا تھا۔آرٹسٹ کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ میوزیم نے ان سے ان ہی کے دو سابقہ کاموں’اوسط ڈینش سالانہ آمدنی 2010‘ اور ’اوسط آسٹروی سالانہ آمدنی 2007‘ کو دوبارہ تخلیق کرنے کو کہا تھا۔ان دونوں کاموں میں دونوں ممالک کی اوسط آمدنی کوظاہر کیا جانا تھا۔

میوزیم کے ڈائریکٹرلاسے اینڈرسن نے سی بی ایس نیوز کو بتایا کہ آرٹسٹ کو ان فن پاروں کو دوبارہ بنانے کے لیے 84 ہزار ڈالرادا کیے گئے تھے۔اس کے علاوہ انھیں اس مصورانہ کام میں شامل کرنے کے لیے نقد رقم بھی دی گئی۔

آرٹسٹ اور میوزیم کے درمیان معاہدے میں طے کیا گیا تھا کہ ہاننگ کو وقتِ ضرورت کام کواپ ڈیٹ کرنے کے لیے اضافی 6000 یورو دیے جائیں گے۔ہاننگ کے سابقہ کام میں اس بات پر روشنی ڈالی گئی تھی کہ ڈنمارک سالانہ اوسط آمدنی قریباً 37,800 ڈالر (328,000 کرونر) تھی اور آسٹریا کے فن پارے نے قریباً 29,000 ڈالر (25,000 یورو) سالانہ تن خواہ کی عکاسی کی تھی۔

اینڈرسن نے بتایاکہ ہمارے پاس یہ معاہدہ بھی ہے کہ نمائش میں رکھے جانے والے 84 ہزارامریکی ڈالرکی رقم فن پارے میں استعمال کی جائے گی اور یہ جینز کی ملکیتی نہیں ہوگی اورجب یہ نمائش 16 جنوری 2022 کو ختم ہوگی تو اس رقم کو واپس کرنا ہوگا۔انھوں نے کہا کہ اس نمائش کا نام 'ورک اٹ آؤٹ' ہے اور اس میں بہت سے مختلف معاصر فن کاروں کے فن پارے بھی پیش کیے گئے ہیں۔یہ نمائش رواں سال 24 ستمبر سے 16 جنوری 2022 تک جاری رہے گی۔

اینڈرسن نے کہا کہ کیوریٹر کو ایک ای میل موصول ہوئی جس میں جینز ہاننگ نے لکھا کہ انھوں نے آرٹ کا ایک نیا کام کیا ہے اور کام کے عنوان کو’ٹیک دا منی اینڈ رن‘ میں تبدیل کر دیا ہے۔اس کے بعد ہمیں یہ معلوم ہوا کہ مذکورہ رقم کو فن پارے میں استعمال نہیں کیا گیا ہے۔سی بی ایس کی رپورٹ کے مطابق جن فریموں کونقد رقم سے بھراجاناتھا ، وہ بالکل خالی تھے۔

اینڈرسن نے بتایاکہ ’’جب ہمارے عملہ نے کریٹ کھولے اور فن پارے دیکھے تو وہ ہکا بکا رہ گیا۔ کریٹ کھلنے کے وقت تو میں بیرون ملک تھا لیکن اچانک مجھے بہت سی میل موصول ہوئیں۔‘‘

ان کا کہنا تھا کہ ’’جینزہاکنگ اپنے تصوراتی اورفعالیت پسند مزاحیہ ٹچ پر مبنی فن کے ساتھ جانے جاتے ہیں۔انھوں نے کہا کہ وہ کوئی اچھوتا کام کرنا چاہتے تھے کیونکہ ہرکوئی حیرت سے جانتا ہے کہ پیسہ کہاں گیا ہے؟‘‘

تاہم ہاننگ کے بیان کے مطابق،’’اس میں پنہاں یہ خیال دکھانا مقصود تھا کہ تن خواہوں کو کس طرح کام کی قدر کی پیمائش اور یورپی یونین کے ساتھ قومی اختلافات کو اجاگر کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔‘‘ہاننگ کے بہ قول ہرکوئی زیادہ پیسہ حاصل کرنا چاہتا ہے اورہمارے معاشرے میں کام کی صنعتوں کو مختلف قدری اہمیت دی جاتی ہے۔

انھوں نے وضاحت کی ہے کہ’’ یہ فن پارہ بنیادی طورپر فنکاروں کے کام کرنے کے حالات کے بارے میں ہے۔ہم ان ڈھانچوں کے بارے میں بھی سوال اٹھاسکتے ہیں جن کا ہم حصہ ہیں اوراگر یہ ڈھانچے بالکل غیرمعقول ہیں توہمیں ان سے ناتا توڑناہوگا۔ یہ آپ کی شادی، آپ کا کام بھی ہوسکتا ہے۔یہ کسی بھی قسم کا سماجی ڈھانچا ہوسکتا ہے۔‘‘

تاہم اینڈرسن کا کہنا ہے کہ ہاننگ نے تکنیکی طور پر معاہدہ نہیں توڑا اور اس کی وجہ سے انھیں نیا اور دلچسپ فن پارہ دیکھنے کو ملا ہے۔جب 84,000 ڈالر کی رقم کی بات آتی ہے توانھوں نے ابھی تک کوئی معاہدہ نہیں توڑا کیونکہ ابتدائی معاہدے میں کہا گیا ہے کہ ہمیں یہ رقم 16 جنوری 2022 کو واپس ہوگی۔

میوزیم کے حکام کا کہنا ہے کہ وہ ہاننگ کو رقم واپس کرنے کے لیے 16 جنوری 2022ء تک کا وقت دے رہے ہیں ورنہ وہ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے’’ضروری اقدامات‘‘کریں گے کہ وہ ان کے معاہدے کی شرائط کی تعمیل کریں۔