.

رسول اللہ کی سواری کی خیالی تصویر الریاض میلے میں توجہ کا مرکز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری [جانور] کی پہلی خیالی تصویر نے ریاض بین الاقوامی کتاب میلے میں آنے والوں کو اپنی طرف متوجہ کیا ہے۔ یہ پینٹنگ پولینڈ کے مستشرق شہزادہ ووکاوا جیووسکی نے بنائی تھی۔ میلے میں آنے والے اس کے آرٹسٹ کے بارے میں جان کاری حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ لوگ یہ پوچھتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری کی پینٹنگ کس نے اور کب بنائی تھی؟ یہ آج سے صدیوں پرانی بات ہے جب جیووسکی نے سعودی عرب کا دورہ کیا، عربی سیکھی اور مشرف بہ اسلام ہوئے۔

پولینڈ کے مسافر آرٹسٹ نے 1817ء سے 1819ء کے دوران دو سال عربوں کے درمیان گزارے۔ انہوں نے اپنا زیادہ وقت جزیرہ نما کے بدووں کے ساتھ گذارا۔ مونو سکرپٹم پبلشنگ ہاؤس نے اس کی علمی وراثت اور سوانح عمری تیار کی اور تاریخی اور ڈیڑھ ہزار سال پہلے تیار ہونے والے نایاب مخطوطے بھی محفوظ کر رکھے ہیں۔

اس ادارے کی طرف سے الریاض میلے میں ایک اسٹال بھی لگایا گیا ہے۔ اس میلے میں آنے والے مونوسکرپٹم پبلشنگ کے اسٹال کو وزٹ کررہے ہیں مگر ان کی نظریں اس تصویر پر جا کر رک جاتی ہیں جس میں آرٹسٹ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری کا ایک خاکہ تیار کیا ہے۔

پولش آرٹسٹ نے ایسی کئی پینٹنگز بنائیں جن میں گھوڑوں کی تصاویر، عثمانی دور میں حرم مکی کا تخیلاتی منظر، انیسویں صدی کے اوائل کے دور کی مظہر تصاویر شامل ہیں۔

مونو سکرپٹم پبلشنگ ہاؤس نے فرعونی نسخوں کے ساتھ ساتھ دنیا کی سب سے پر اسرار کتاب کو بھی محفوظ کیا ہے جس کے مصنف کا نام اور زبان معلوم نہیں۔

اسے منفرد اور ممتاز قرار دیا گیا ہے، جو آرٹ، تاریخ اور انسانی ورثے سے محبت کرنے والوں کے لیے دلچسپی کا باعث ہے۔