.

بحرین میں نصف صدی سے زیادہ عرصے کے بعد یہود کی پہلی شادی کی تقریب کا انعقاد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بحرین میں نصف صدی سے زیادہ عرصے کے بعد یہود کی پہلی شادی کی تقریب منعقد ہوئی ہے۔یہودی جوڑا اسرائیل اور بحرین کے درمیان ابراہیم معاہدے کے ایک سال بعد شادی کے بندھن میں بندھا ہے۔

تنظیم برائے خلیج یہودی کمیونٹیز (اے جی جے سی) کی جانب سے بحرین کے دارالحکومت منامہ میں واقع رٹز کارلٹن ہوٹل میں اتوار کو شادی کی اس تقریب کا انعقاد کیا گیا ہے۔یہ مملکت کی تاریخ کی پہلی کوشر شادی بھی تھی اور اس کا اہتمام دنیا کی سب سے بڑی کوشر سرٹی فیکیشن ایجنسی آرتھوڈوکس یونین نے کیا تھا۔

امریکامیں بحرین کی سابق سفیر ہودا نونو نے شادی کے بارے میں ٹویٹ میں بتایا ہے کہ ’’نوبیاہتاجوڑا ان کا بیٹا اور بہو ہے۔‘‘

اے جی جے سی سے وابستہ ربی ڈاکٹرایلی عبادی نے کہا:’’تمام شادیاں ہی دلچسپ واقعات ہوتی ہیں۔ان میں ہم ایک نئے یہودی خاندان کی تشکیل کاجشن مناتے ہیں، مگریہ شادی اس لیے بھی زیادہ اہم تھی کیونکہ یہ خلیج تعاون کونسل کے کسی رکن میں آباد واحد مقامی یہودی برادری کی باون سال کے بعد ایسی پہلی تقریب تھی۔‘‘

انھوں نے کہا کہ ’’مجھے شادی کے کلمات پڑھانے کا فریضہ ادا کرنے کا اعزاز حاصل ہوا۔ مجھے اس خطے میں یہودی زندگی کی بحالی دیکھنا،پورے خطے میں خاندانوں کی مدد کرنا اور جی سی سی میں زندگی کے مسلسل واقعات کا تجربہ کرنا بہت اچھا لگا ہے۔‘‘

1880ء کی دہائی سے بحرین خلیج تعاون کونسل کا واحد ملک ہے جہاں مقامی یہودی برادری آباد ہے اور اس خلیجی ریاست میں خطے کا واحد فعال کنیسہ (ہاؤس آف ٹین کمانڈمنٹس) اور یہودی قبرستان بھی ہے۔

اختتام ہفتہ پر دو اور تقریبات کا بھی انعقاد کیا گیا تھا۔ان میں ایک شباب چتن اور ایک مہندی کی تقریب شامل تھی۔ ان کا سفاردی یہودی برادریوں میں رواج ہے۔یہ شادی یہودی طرززندگی کے واقعات کی بحالی کا تسلسل بھی ہے۔اس کو آسان بنانے میں اے جی جے سی کا فروری 2021 میں اپنے قیام سے اب تک اہم کردار ہے۔اس میں عُمان میں دین یہود کے شرعی حکم (بلے متزواہ) اور بحرین میں بار متزواہ کو عملی جامہ پہنانے کی تقاریب شامل ہیں۔

اے جی جے سی کے صدرابراہیم داؤد نونو نے کہا کہ ’’یہ شادی ہمارے خاندان، بحرین میں کمیونٹی اور زیادہ وسیع پیمانے پرخطے میں یہودی برادری کے لیے ایک اہم لمحہ تھا۔جب ہم چوپاہ (یہودی شادی کی چھتری) کے اردگرد بیٹھے تھے جو نوبیاہتاجوڑے کے لیے تعمیر کیے جانے والے نئے گھر کی علامت ہے تو ماحول خوشی کا باعث تھا اوریہ خطے میں یہودی زندگی کو مزید فروغ دینے کے موقع کی علامت بھی تھا۔‘‘

نونو نے اس امید کا اظہار کیا کہ ’’ہم خطے میں مزید یہودی شادیوں کی میزبانی کریں گے جس کے نتیجے میں مزید نوجوان جوڑے یہاں اپنی عائلی زندگی شروع کریں گے اور ہماری کمیونٹی میں مزید اضافہ ہوگا۔‘‘

بحرین اور خلیجی ہمسایہ ملک متحدہ عرب امارات نے گذشتہ سال اسرائیل کے ساتھ ابراہیم معاہدے پر دست خط کیے تھے اور اس کے ساتھ معمول کے سیاسی اور سفارتی تعلقات استوار کیےتھے۔ان کے درمیان امن معاہدے ایران کے بارے میں مشترکہ کاروباری مفادات اور تشویش پر مبنی تھے۔ ان کے بعد دو اور عرب ملکوں سوڈان اور مراکش نے بھی اسرائیل کے ساتھ معمول کے تعلقات استوار کر لیے ہیں۔