.

سعودی ولی عہد کی پیش کردہ قومی سرمایہ کاری حکمت عملی کا آغاز

ہم متنوع اورپائیدارمعیشت سے مالامال روشن مستقبل کی راہ ہموار کرنے کے لیے اپنا کام جاری رکھیں گے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے سوموار کو مملکت کی قومی سرمایہ کاری حکمت عملی (این آئی ایس) پیش کر دی ہے۔

سرکاری سعودی پریس ایجنسی (ایس پی اے) کی رپورٹ کے مطابق نیشنل انویسٹمنٹ اسٹریٹجی سعودی عرب کے وژن 2030 کے اہداف کے حصول کے لیے اہم عوامل میں سے ایک ہے۔

سرمایہ کاری کی قومی حکمت عملی سعودی معیشت کی ترقی اور اس کے ذرائع کو متنوع بنانے میں معاون ثابت ہوگی جس سے وژن 2030 کے بہت سے اہداف حاصل ہوں گے۔ان میں نجی شعبے کی مجموعی ملکی پیداوار میں شراکت کو 65 فی صد تک بڑھانا اور براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کو فروغ دینا شامل ہے تاکہ وہ مجموعی قومی پیداوار(جی ڈی پی) 5.7 فی صد تک پہنچ سکے۔

سعودی وژن 2030 کا آغاز کرتے ہوئے ولی عہد نے کہا تھا:’’ہمارے ملک میں سرمایہ کاری کے بہت زیادہ مواقع موجود ہیں اور ہم اپنی معیشت کے لیے ایک انجن اور اپنے ملک کے لیے اضافی وسائل پیدا کرنے کی کوشش کریں گے۔‘‘

سرمایہ کاری کی نئی حکمت عملی سے سعودی عرب کی غیرتیل برآمدات کے تناسب کو مجموعی غیرتیل جی ڈی پی کے 16 فی صد سے بڑھا کر 50 فی صد تک کیا جائے گا۔ نیز بے روزگاری کی شرح کو 7 فی صد تک کم کرنے اور 2030 تک عالمی مسابقتی اشاریہ میں مملکت کودس اعلیٰ ممالک میں شامل کرنے کے وژن کے اہداف بھی حاصل ہوں گے۔

ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے کہا کہ آج ہمیں خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیزآل سعود کی قیادت میں وژن 2030 کے پہلے مرحلے کے دوران میں حاصل ہونے والی قابل ذکر کامیابیوں پر فخر ہے۔انھوں نے قومی سرمایہ کاری حکمت عملی کے آغاز کے موقع پر کہا کہ ہم متنوع اور پائیدار معیشت سے مالامال روشن مستقبل کی راہ ہموار کرنے کے لیے اپنا کام جاری رکھیں گے۔

انھوں نے مزید کہا کہ یہ حکمت عملی اس مقصد کے حصول کا ایک ذریعہ ہے اور ہمیں اپنے اولین اہداف تک پہنچنے اور اپنے عظیم لوگوں کی امنگوں کو پورا کرنے کے لیےاپنی صلاحیتوں پر بھروسے کی بھی مظہرہے۔

ولی عہد کے مطابق قومی سرمایہ کاری حکمت عملی کا محور’’سرمایہ کاروں کو بااختیار بنانا، سرمایہ کاری کے مواقع پیدا کرنا، مالیاتی حل فراہم کرنا اور مسابقت کو بڑھانا‘‘ہے۔یہ سرکاری اور نجی شعبوں کے درمیان شراکت داری کو بڑھانے میں بھی معاون ثابت ہوگی۔

شہزادہ محمد نے وضاحت کی ہے کہ مملکت کے اہم سرمایہ کاری اہداف مشترکہ کوششوں اور پبلک انویسٹمنٹ فنڈ (پی آئی ایف) جیسے متعدد اداروں کی اپنی حکمت عملی کے مطابق سعودی عرب میں سرمایہ کاری کے ذریعے حاصل کیے جائیں گے۔

انھوں نے زور دے کر کہا کہ حکمت عملی کے اگلے مرحلے میں قابل تجدید توانائی کے شعبے، ٹرانسپورٹ اور لاجسٹک سیکٹر اور سیاحت سمیت مختلف شعبوں کے لیے سرمایہ کاری کے تفصیلی منصوبوں پر توجہ مرکوز کی جائے گی۔

انھوں نے بتایا کہ 2030 تک 120 کھرب ریال (32 کھرب ڈالر) سے زیادہ کی رقوم ملکی معیشت میں شامل کی جائیں گی۔معیشت کو اگلے دس سال کے دوران میں ریاست کے عام بجٹ کے ذریعے مزید 100کھرب ریال (26 کھرب 70ارب ڈالر) اور اسی مدت میں مزید 50 کھرب ریال (13کھرب 30 ارب ڈالر) نجی کھپت کے اخراجات سے حاصل ہوں گے جس سے مجموعی اخراجات قریباً 270 کھرب ریال (72 کھرب ڈالر) تک پہنچ جائیں گے۔

قومی سرمایہ کاری حکمت عملی کا مقصد براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کے خالص بہاؤ کو سالانہ 388 ارب ریال (103.46 ارب ڈالر) تک بڑھانا اور 2030 تک ملکی سرمایہ کاری کو بڑھا کرقریباً 17 کھرب ریال ( ساڑھے چار کھرب ڈالر) سالانہ تک پہنچانا ہے۔

ایس پی اے کے مطابق توقع ہے کہ مملکت کی جی ڈی پی میں سرمایہ کاری کا تناسب 2019 میں 22 فی صد سے بڑھ کر 2030 میں 30 فی صد ہو جائے گا جس سے سعودی معیشت کی ترقی میں مدد ملے گی اور وہ دنیا کی پندرہ بڑی معیشتوں میں سے ایک بن جائے گی۔