.

جی سی سی کے نوجوان پُرامید ہیں،ان کی آوازوں پرکان دھرے جائیں:عرب ماہرین

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب سمیت خطۂ خلیج کے معروف ماہرین اور تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عرب نوجوانوں کی آوازوں پر کان دھرے جائیں،مشرق اوسط اور شمالی افریقا (مینا)کے خطے میں فیصلہ سازوں کو اگلی نسل کے بہترمستقبل کی تعمیرکے لیے ان کی آوازوں پرعمل کرنا ہوگا۔

انھوں نے یہ اظہار خیال تیرھویں سالانہ اے ایس ڈی اے (اسدا)اے بی سی ڈبلیوعرب یوتھ سروے کے نتائج پر تبصرہ کرتے ہوئے کیا ہے۔ یہ سروے منگل کو جاری کیا گیا ہے۔اس جائزے سے ظاہرہوتا ہے کہ کووِڈ-19 کی وَبا کے نقصان دہ اثرات، وسیع پیمانے پر معاشی ابتری اور خطے کے کچھ حصوں میں جاری فوجی تنازعات کے باوجود مینا میں مجموعی طورپرعرب نوجوان مستقبل کے بارے میں حیرت انگیزطور پرخوش امید ہیں اورقریباًدو تہائی (60 فی صد) کا کہنا ہے کہ ان کے بہترین دن آنے والے ہیں۔

سعودی عرب کے معروف تجزیہ کار اور کہنہ مشق مدیر خالدالمعینا نے اسدا کے بی سی ڈبلیو عرب یوتھ سروے کی بنیادپراعداد و شمار کی اہمیت پرروشنی ڈالی۔انھوں نے کہا کہ ایک ایسے خطے میں،جہاں بعض اوقات درست معلومات کا فقدان ہوتا ہے، یہ نتائج نوجوان عربوں کی ذہنیت کے بارے میں ایک فرحت بخش بصیرت فراہم کرتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ’’ان امید افزا شہریوں کوجو ایک ایسے معاشرے میں رہتے ہیں جوجزوی طورپر قبائلی اورجزوی پدرسری ہے، انھیں ایک ایسے ماحول کی ضرورت ہے جو انھیں اپنے وژن کو واضح کرنے اور پھراس کو عملی جامہ پہنانے کے لیے جدوجہدکے مواقع مہیاکرے۔‘‘

خالدالمعینا نے مزید کہا:’’وہ چاہتے ہیں کہ ان نوجوانوں کی آواز سنی جائے کیونکہ وہ اس خطے کا مستقبل ہیں،وہ متعلقہ فریق ہیں۔ وہ کوئی ایک طرف کھڑے خاموش تماشائی نہیں ہیں۔‘‘

ان نتائج کی اثباتیت پرروشنی ڈالتے ہوئے سعودی عرب کے شہرجدہ میں قائم غیرمنافع بخش تنظیم العلاء کی چیف ایگزیکٹوآفیسر(سی ای او) دانیہ خالدالمعینا نے کہا:’’عرب نوجوانوں میں مستقبل کے بارے میں امیدافزائی انتہائی تازگی بخش ہے۔‘‘

انھوں نے کہا کہ ’’نوجوان مستقبل کے بارے میں پُرجوش ہیں۔ یہایک ایسا جذبہ ہے جوہم سعودی عرب میں برسرزمین دیکھ رہے ہیں۔ نوجوان اب زیادہ تخلیقی ہیں؛ بہت سے لوگ اب اپنے والدین کی طرح مستقل سرکاری ملازمت نہیں چاہتے ہیں۔اس کے بجائے وہ کوئی ایساکام کرناچاہتے ہیں جس کے بارے میں وہ زیادہ پرجوش ہیں اور جس میں وہ زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں۔‘‘

’’لیکن ہم اپنے نوجوانوں کی امیدپرستی کوخاطر میں نہیں لارہے۔ ہمیں تعلیم کے شعبے اور عملی کام کی ضروریات کے درمیان فرق کوختم کرنا چاہیے۔اس مقصد کے لیے ہُنرمندی کے نئے سیٹ بنانے کی ضرورت ہے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جاسکے کہ ہمارے نوجوان خودکو نئی معیشت کے لیے تیارکررہے ہیں۔‘‘ان کا مزید کہنا تھا۔

مشرقِ اوسط سے تعلق رکھنے والے ماہرین کی ایک بڑی تعداد نے اس سروے پر تبصرہ کیا ہے۔ان میں سرکاری، کثیرالجہت اداروں، سول سوسائٹی، میڈیا،ماہرین تعلیم اور ادبی دنیا کے نمائندے شامل ہیں۔

امریکامیں متحدہ عرب امارات کے سفیر اور وزیرمملکت یوسف العتیبہ نے کہا:’’تیرھویں اسدا اے کے بی سی ڈبلیو عرب یوتھ سروے میں ظاہرہونے والےاعدادوشماراس بات کی نشان دہی کرتے ہیں کہ خطے کے اندرتبدیلی انگڑائی لے رہی ہے،اس سے ہمارے نوجوانوں کے زیادہ امیدافزا نقطہ نظر کی جھلک نظرآتی ہے اور یہ سروے اس وقت جاری گہری تبدیلیوں کے سلسلے کی تصدیق بھی کرتا ہے۔‘‘

انھوں نے کہا کہ ’’عرب نوجوانوں میں قوم پرستی کا بڑھتا ہوا جذبہ گونج رہا ہے۔یہ نسل قیادت کے لیے اپنے عرب بھائیوں کی طرف تیزی سے دیکھ رہی ہے۔خود انحصاری اور خودکفالت، خاص طور پرمتحدہ عرب امارات جیسے ماڈل عرب ممالک میں اس طرزِفکر کی آبیاری کررہے ہیں۔اس وقت متحدہ عرب امارات میں دبئی ایکسپو 2020 جاری ہے اور دسمبر میں ہماری قوم اپنے وطن کی تشکیل کی گولڈن جوبلی منا رہی ہے تو ایسے میں ہمیں روشن مستقبل کی امید محسوس ہو رہی ہے اوریہ اتفاق سے اس سال کےعرب یوتھ سروے کا عنوان بھی ہے۔‘‘

واشنگٹن ڈی سی میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ(آئی ایم ایف) کے مشرق اوسط اور وسط ایشیا کے شعبہ کے ڈائریکٹر ڈاکٹرجہاد ازور نے اپنے تبصرے میں کہا کہ’’سروے کے نتائج سے ظاہرہوتا ہے، عرب نوجوان اعتماد کے ساتھ مستقبل کی طرف دیکھ رہے ہیں۔‘‘

ڈاکٹرازور کی رائے میں سروے ہم سے عملی کارروائی کا تقاضا کرتا ہے اور فیصلہ سازوں کو حکومتی پالیسی پر عمل درآمد کے نتائج اوراثرات کا بغورجائزہ لینا چاہیے۔ان میں مشترکہ بنیاد کے شعبے اور وہ شعبے بھی شامل ہیں جہاں اعداد و شمار مختلف ہوتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ’’عرب نوجوانوں کی امنگوں کے حصول کے لیے ہمیں ان کی مالیاتی امور میں شمولیت میں اضافہ کرنا ہوگااور نوجوان عرب کاروباریوں کوارزاں مالیات تک رسائی فراہم کرنا ہوگی۔ان کے پاس آگے بڑھنے کے لیے برابری کا میدان ہونا چاہیے جہاں سرخ فیتے اور معاشی انتظام میں ریاست کی مداخلت کو کم سے کم رکھا جائے۔ اور ہمیں ایک نئی شہری بنیاد پر سماجی معاہدے کی ضرورت ہے۔‘‘