.

متحدہ عرب امارات میں تارکینِ وطن کی اکثریت ریٹائرمنٹ کے لیے رقم پس اندازکرنےمیں ناکام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مالیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ متحدہ عرب امارات میں مقیم تارکینِ وطن کی ایک بڑی اکثریت اپنی ریٹائرمنٹ کے بعد کی زندگی کے لیے کافی رقم بچانے میں ناکام ہو رہی ہے اور بہت سے لوگوں نے کچھ بھی پس انداز نہیں کیا ہے۔

فنسبری ایسوسی ایٹس کی منیجنگ ڈائریکٹر حناہ گرین ووڈ نے العربیہ انگلش کو بتایا کہ زیادہ ترغیرملکی صرف اپنی سروس کے اختتام پرگریجوایٹی کی وصولی پرانحصار کر رہے ہیں۔اکثر اپنے طور پر ریٹائرمنٹ کے لیے کچھ بھی بچا کررکھنے کو ترجیح نہیں دیتے۔

انھوں نےبتایاکہ ایچ ایس بی سی بنک کی جانب سے کی گئی ایک حالیہ تحقیق سے پتا چلا ہے کہ متحدہ عرب امارات کے 75 فی صد رہائشی اپنی ریٹائرمنٹ کے لیے کچھ بھی نہیں بچا رہے ہیں۔یو اے ای میں اکثریت کو کام کی جگہ پر بچت کے منصوبے تک رسائی حاصل نہیں اور اس کے بجائے وہ اپنی ملازمت کے اختتام پرگریجوایٹی حاصل کرتی ہے۔ تاہم گریجوایٹی کی شکل میں ملنے والی رقم عام طور پر کسی کی ریٹائرمنٹ کی زندگی کے لیے کافی نہیں ہوتی ہے۔

انھوں نے وضاحت کی کہ مثال کے طور پریو اے ای میں زیادہ سے زیادہ گریجوایٹی کی ادائی دو سال کی بنیادی تن خواہ ہے اور ایک ملازم کو زیادہ سے زیادہ رقم وصول کرنے کے لیے 26 سال تک ایک ہی کمپنی میں کام کرنا پڑے گا۔

جلد بچت کریں

بہت سے دیگر ممالک کے برعکس یواے ای میں کام کی جگہ پر بچت کا کوئی لازمی منصوبہ نہیں۔ گرین ووڈ نے بتایا کہ ملازمین اکثراپنے طور پربچت کرنے میں ناکام رہتے ہیں، بجائے اس کے کہ وہ پہلے خرچ کریں اور بچت نہ کریں کا طریقہ اختیار کریں۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم دیکھ سکتے ہیں جن لوگوں کے پاس کام کی جگہ پر بچت کی سہولت ہے تواس کا مطلب یہ ہے کہ وہاں لوگ بہت زیادہ بچت کرتے ہیں۔

ان کے بہ قول ’’آپ کے پاس جو کچھ بھی دستیاب ہے،اس کے ساتھ بچت شروع کرسکتے ہیں،اس سے مستقبل کے اہداف کو حاصل کرنا اتنا ہی آسان ہوتا ہے۔ خاص طورپر مرکب سود یا فوائدکو مدنظر رکھتے ہوئےجتنا پہلے آپ بچت شروع کریں گے،اس سے آپ کے لیے اپنے مالی اہداف کو حاصل کرنا اتنا ہی آسان ہوگا۔‘‘

گرین ووڈ کا کہنا ہے کہ ’’اگر آپ 65 سال کی عمر میں ریٹائرمنٹ لینا چاہتے ہیں اور 10 لاکھ ڈالر تک رقم حاصل کرنا چاہتے ہیں تو یو اے ای میں آپ کو ریٹائرمنٹ تک پہنچنے سے بہت پہلے 20 سال کی عمر سے روزانہ 16 ڈالربچانا ہوں گے، 30 سال کی عمر تک 32 ڈالر، 40 سال کی عمر تک 64 ڈالر یومیہ کی بچت کرنا ہوگی لیکن 50 سال کی عمر میں یہ رقم قریباً 120 ڈالر یومیہ تک ہونی چاہیے۔‘‘

سینچری فنانشیل کے سی آئی او وجے ویلیچا نے بھی اس بات سے اتفاق کیا کہ متحدہ عرب امارات کے بیشترمکینوں نے اپنی ریٹائرمنٹ کے منصوبوں کے بارے میں مناسب طور پر نہیں سوچا ہے۔

فروری 2020ء میں عالمی مشاورتی کمپنی مرسرکی طرف سے کیے گئے ایک سروے سے پتاچلا ہے کہ متحدہ عرب امارات میں قریباً نصف باشندے اپنی عمر کی 40 اور 50 کی دہائی کے آخر تک ریٹائرمنٹ کی تیاری کر رہے ہیں۔اس میں یہ بھی پایا گیا کہ قریباً 45 فی صد آبادی کا ریٹائر ہونے کے بعد مناسب معیار زندگی کو یقینی بنانے کا کوئی منصوبہ نہیں تھا۔

ویلیچا نے کہا کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ متحدہ عرب امارات کی قریباً 43 فی صد آبادی کو یہ توقع ہے کہ ان کی ملازمت کے اختتامی فوائد ان کی طویل مدتی مالی ضروریات کو پورا کردیں گے مگرلوگ یہ سمجھنے میں ناکام رہتے ہیں کہ ملازمے کے اختتام کے موجودہ فوائد ریٹائرمنٹ کے بعد مناسب معیارزندگی کو یقینی بنانے کے لیے کافی نہیں ہیں۔


متوقع عمرمیں اضافہ

وہ خبردارکرتے ہیں کہ حفظانِ صحت میں پیش رفت اور بہتر معیارزندگی کی بدولت متوقع اوسط عمرمیں اضافہ ہو رہا ہے اور ریٹائرمنٹ کا روایتی تصور تیزی سے ختم ہو رہا ہے۔

کتنی بچت کرنی چاہیے؟ اس حوالے سے ویلیچا نے کہا کہ ہرشخص دوسرے سے بہت مختلف ہوتا ہے۔بچت کے اعدادوشمار کسی شخص کی عمر، زندگی کے اہداف، طرز زندگی اورریٹائرمنٹ کے مقام پربھی منحصر ہیں۔

ان کے بہ قول عمر کی 20 اور30 کی دہائی کے اوائل میں افراد کو اپنی بچت کے ساتھ لچک دارہونا چاہیے تاکہ وہ زندگی میں غیرمتوقع واقعات سے نمٹنے کے لیے بھی تیار رہ سکیں جبکہ 40 کی دہائی میں اشخاص اپنی کمائی کےعروج پر پہنچ جاتے ہیں اور یہ پچھلی غلطیوں کا ازالہ کرنے یا سنہری مستقبل کے لیے مزید بچت کا مقصدپانے کا بہترین وقت ہے۔

ویلیچا نے کہا کہ ’’جب آپ اپنے پیسے کی جلد بچت کرتے اور اس میں سے کہیں سرمایہ کاری کرتے ہیں، تو آپ مرکب نمو سے فائدہ اٹھانے کے لیے تیار ہوتے ہیں، جو مرکب سود ایسا ہی تصور ہے اور اس سے بھی بڑا منافع حاصل ہوتا ہے۔مزید برآں، محتاط سرمایہ کار بھی مارکیٹ میں مندے سے متاثر ہوسکتے ہیں۔اس بنا پر بھی بچت کرنا بہت ضروری ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر منڈیاں مندے کا شکارہوجاتی ہیں تو آپ کے پاس اس کی تلافی کا وقت ہونا چاہیے۔‘‘

اثاثوں میں تنوع

ویلیچا نے بتایا کہ ریٹائرمنٹ کے لیے سرمایہ کاری کرتے وقت اثاثے مختص کرنا ایک اہم عنصر ہے۔اس میں تنوع ضروری ہے اور فنڈز کو دو سے تین نامورمالیاتی فرموں کے درمیان تقسیم کیا جانا چاہیے۔

’’مزید برآں، بنک کھاتوں میں ریٹائرمنٹ کے لیے رقم جمع کراناایک سنگین مالی غلطی ہوگی۔ بنکوں کی بچت کی اسکیموں نے شاید ہی افراط زر کو شکست دی ہو۔ سرمایہ کاروں کو مرکب کی طاقت کو سمجھنے کی ضرورت ہے اور بازاروں میں اتارچڑھاؤ کو اپنے فائدے کے لیے استعمال کرنا چاہیے۔‘‘

ویلتھ ہائٹس کے بانی اور مالیاتی ماہرہیثم صادق نے العربیہ کوبتایا کہ بچت کی کمی اوردوراندیش ہونے کی وجہ سے بہت سے لوگ ریٹائر نہیں ہو سکیں گے۔ان کے بہ قول ’’امریکا میں انتہائی افسوسناک اعدادوشمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ قریباً 80 فی صد لوگ کافی بچت نہ ہونے کی وجہ سے ریٹائر ہونے کو تیار نہیں ہیں۔ مشرق اوسط کے خطے میں یہ شرح بہت زیادہ ہے۔‘‘

صادق نے کہا کہ مالی تعلیم کا فقدان بھی بنیادی طور پر لوگوں کو کافی بچت کی جانب راغب نہ کرنے کا ذمے دار ہے۔انھوں نے مزید کہا کہ رئیل اسٹیٹ، اسٹاک مارکیٹ، بانڈز اور سونے جیسی قیمتی دھاتوں میں سرمایہ کاری کی تعلیم دینے کے لیے مزید کام کرنے کی ضرورت ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’’لوگوں کو جلد سے جلد اپنی ریٹائرمنٹ کے لیے بچت شروع کرنی چاہیے۔ میرے خیال میں انھیں زیادہ سے زیادہ سرمایہ کاری کرنی چاہیے لیکن ایک اصول کے طور پران کی ماہانہ آمدنی کا کم سے کم 20 فی صد مختلف النوع سرمایہ کاری پر صرف ہونا چاہیے۔

ان کے بہ قول ’’مالیات کی تعلیم نہایت ضروری ہے اور یہ فی الواقع بہت آسان ہے کہ اگر آپ صحیح کوشش کریں تو آپ خود ایسا کرسکتے ہیں۔ اس کے لیے طویل مدتی سوچ کی ضرورت ہے اورکم وقت میں امیرکبیر بننے کے گھوٹالوں اور دھندوں سے گریز کرنا چاہیے۔‘‘