.

امارت دبئی اور بھارت میں متنازع ریاست کشمیرمیں بنیادی ڈھانچےکی تعمیرکا معاہدہ

دبئی معاہدے کے تحت کشمیرمیں صنعتی پارکوں، آئی ٹی ٹاورزاور میڈیکل کالج سمیت بنیادی ڈھانچے کی تعمیرمیں مالی معاونت کرے گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بھارت اور امارت دبئی کے درمیان متنازع ریاست جموں و کشمیر میں بنیادی ڈھانچے کی تعمیر میں سرمایہ کاری کا ایک معاہدہ طے پایا ہے۔

بھارتی حکومت نے سوموار کو اس ضمن میں امارت دبئی کے ساتھ مفاہمت کی ایک یادداشت دست خطوں کی اطلاع دی ہے لیکن اس نے اس معاہدے کی مالی قدر کے کوئی اعدادوشمار جاری نہیں کیے ہیں۔

نئی دہلی حکومت نے کہا کہ اس معاہدے کے تحت دبئی کشمیر میں صنعتی پارکوں، آئی ٹی ٹاورز، کثیرالمقاصد ٹاور، لاجسٹک مراکز، میڈیکل کالج اور ایک خصوصی اسپتال سمیت بنیادی ڈھانچے کی تعمیرمیں مالی معاونت کرے گا۔

بھارت کے مرکزی وزیراور حکمران بھارتیہ جنتاپارٹی کے لیڈر پیوش گویل نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’’ریاست جموں وکشمیرجس رفتار سے ترقی کا سفر طے کررہی ہے،دنیا نے اب اس کو تسلیم کرنا شروع کردیا ہے۔‘‘انھوں نے دعویٰ کیا ہے کہ دبئی کے مختلف اداروں نے جموں و کشمیرمیں سرمایہ کاری میں گہری دلچسپی ظاہرکی ہے۔

متحدہ عرب امارات میں شامل دبئی کی جانب سے بھارت کے5 اگست 2019ء کودستورہند کی دفعہ 370 کو ختم کرنے اورریاست جموں وکشمیرکو دویونین علاقوں میں تقسیم کرنے کے اقدام کےبعد اس متنازع اورحساس علاقے میں سرمایہ کاری کا یہ پہلا غیرملکی سمجھوتا ہے۔

بھارت کی نریندرمودی سرکارنے اس اقدام کے ذریعے متنازع ریاست جموں وکشمیر کی گذشتہ سترسال سے جاری خصوصی حیثیت ختم کردی تھی اوراس کوانتظامی طور پر دوعلاقوں میں تقسیم کرکے براہ راست نئی دہلی کے کنٹرول میں دے دیا تھا۔اس متنازع اقدام کے بعد کسی اور ملک یا ریاست نے اس متنازع علاقے میں کسی منصوبے میں سرمایہ کاری کرنے ہامی نہیں بھری ہے۔

واضح رہے کہ ریاست جموں وکشمیر1947ء میں تقسیم ہند کے وقت سے پاکستان اوربھارت کے درمیان متنازع چلی آرہی ہے۔اس کے ایک حصے پر بھارت کا غاصبانہ قبضہ ہے اور دوسرے حصے پرپاکستان کا انتظامی کنٹرول ہے۔دونوں ملکوں کے درمیان اس متنازع ریاست پر تین جنگیں بھیی لڑی جاچکی ہیں۔پاکستان اس تنازع کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق طے کرناچاہتا ہے جبکہ بھارت مقبوضہ وادیِ کشمیر اور جموں پر کشمیریوں کی اُمنگوں کے برعکس اپنا غاصبانہ کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے۔