.

کووِڈ-19 سے دماغ کو پہنچنے والا نقصان اسٹروک ایسا ہے: نئی تحقیق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایک نئی تحقیق کے مطابق کووِڈ-19 سے لاحق ہونے والی بیماری سے دماغ کو پہنچنے والا نقصان اسٹروک (دل کے دورے) کی وجہ سے ہونے والا نقصان ایسا ہے۔

جریدے نیچرنیوروسائنس میں شائع ہونے والی اس تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ کس طرح کووِڈ-19 دماغ میں خون کے بہاؤمیں خلل ڈال کر نقصان پہنچا سکتا ہے۔

اس مطالعہ میں کہا گیا ہے کہ دماغ میں خون کی شریانوں پر اثر’’دماغ کی چھوٹی شریانوں کی بیماری سے مطابقت رکھتا تھا‘‘۔یہ اسٹروک سمیت دماغی بیماریوں کے لیے ایک مرکب اصطلاح ہے۔

جرمنی میں سائنسدانوں کے تحریرکردہ اس مقالے میں کہا گیا ہے کہ کووِڈ-19 کے 76 فی صد مریضوں کو انفیکشن کے چارہفتوں سے زیادہ عرصے کے بعد وقوفی کمزوری اوردیگرنفسیاتی علامات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔

دماغ کے میگنیٹک ریزوننس امیجنگ (ایم آر آئی) کے اسکین سے پتاچلا ہے کہ کووِڈ-19 کے شدید انفیکشن والے افراد میں زیادہ 'سٹرِنگ ویسلز' ہوتے ہیں جن سے خون نہیں گزرسکتا۔’’دی سارس-کووی-2 مین پروٹیز ایم پرو‘‘کے عنوان سے کی گئی تحقیق کے مطابق دماغ کے انڈوتھیلیئل خلیوں میں ’نیمو‘کو چیرکر مائیکرو ویسکولربرین پیتھالوجی کا سبب بنتا ہے۔

تارکی شریانیں خون کی شریانوں میں خلیات کے مرنے کے بعد بچ جانے والے ٹشو کی نمائندگی کرتی ہیں، جس سے خون کا ان سے گزرناناممکن ہوجاتاہے۔مطالعہ میں کہاگیا ہے کہ کووِڈ-19 براہِ راست اسٹروک کا سبب بھی بن سکتا ہے۔

کووِڈ-19 کے سخت شکارہونے والے 84 فی صد افراد میں اعصابی علامات ظاہر ہوتی ہیں۔ان میں سونگھنے کی حس کھودینا، مرگی کے دورے، اسٹروک، بے ہوشی اورالجھاؤ شامل ہیں۔

کووِڈ-19 کے دماغ کو نقصان پہنچانے کے شواہد کے باوجود محققین کا کہنا ہے کہ یہ اب بھی بحث کا موضوع ہے کہ آیا وائرس براہ راست دماغ کومتاثرکرتا ہے یا نہیں۔یہ کہا جارہا ہے کہ مطالعے کے مصنفین نے مریضوں کے دماغ اورریڑھ کی ہڈی کے سیال میں وائرل جینوم کی شکل میں کووِڈ-19 کے جینیاتی مواد کا سراغ لگایا ہے۔ اس سے پتاچلتا ہے کہ کووِڈ-19 وائرس دماغ تک رسائی حاصل کرسکتا ہے۔

کووِڈ-19 آراین اے مواد دماغ میں خون کی شریانوں میں پایاگیا ہے۔اس سے پتاچلتا ہے کہ وائرس مریض کے خون کے ذریعے نظام تنفس سے دماغ میں پھیل سکتا ہے۔مطالعہ میں ایک قسم کے پروٹین کی نشان دہی بھی کی گئی ہے۔اس کوریسیپٹرتعامل کرنے والے پروٹین کینیس (آر آئی پی کے) کہاجاتا ہے جوکووِڈ-19 کے اعصابی اثرات کے علاج کا ممکنہ ہدف ہوسکتا ہے۔