.

ایلن مسک دنیا سےبھوک ختم کرنے کے لیے ٹیسلا کے حصص کی فروخت کوتیار،مگر۰۰۰؟

پہلے اقوام متحدہ ثبوت فراہم کرے:6 ارب ڈالر سے بھوک کا مسئلہ حل ہوجائے گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

دنیا کی امیرکبیر شخصیت ایلون مسک نے اعلان کیا ہے کہ اگراقوام متحدہ کا عالمی خوراک پروگرام (ڈبلیو ایف پی) یہ ثابت کردے کہ 6ارب ڈالر سے دنیا سے بھوک مٹ جائے گی تو وہ ٹیسلا کا اسٹاک فروخت کردیں گے اوراس سے حاصل ہونے والی آمدن کو اس مقصد کے لیے عطیہ کردیں گے۔

ارب پتی مسک نے اتوار کے روزایک ٹویٹ میں کہا کہ ’’اگر ڈبلیوایف پی اس ٹویٹرتھریڈ پریہ بیان کرسکے کہ 6 ارب ڈالر کی رقم دنیا سے بھوک کا مسئلہ کس طرح حل کرے گی تو میں ابھی ٹیسلا کے اسٹاک کو فروخت کردوں گا۔‘‘

ڈبلیو ایف پی کے سربراہ ڈیوڈ بیسلے نے اس کے جواب میں کہا ہے کہ’’6ارب ڈالر سے دنیا میں بھوک کا مسئلہ توحل نہیں ہوگا لیکن اس سے جغرافیائی عدم استحکام اور بڑے پیمانے پرنقل مکانی کوروکا جا سکے گا جبکہ فاقہ کشی کا شکارچارکروڑ 20 لاکھ افراد کو موت کے مُنھ میں جانے سے روکا جاسکے گا۔ کووِڈ-19،تنازعات اورماحولیاتی بحرانوں کی وجہ سے دنیا کوایک بے مثال بحران اور ایک کامل آفت کا سامنا ہے۔‘‘

انھوں نے مزید کہا کہ’’ ہم آپ (ایلن مسک)کی مدد سے امید دلا سکتے ہیں، استحکام پیدا کرسکتے ہیں اور مستقبل کو بدل سکتے ہیں۔‘‘

بیسلے نے مسک کو یہ بھی یقین دلایا کہ اقوام متحدہ کے عالمی خوراک پروگرام کے پاس ’’شفافیت پر مبنی اوپن سورس اکاؤنٹنگ کا نظام‘‘ موجود ہے۔اس سے پتاچلتا ہے کہ ان کی ٹیمیں اس معاملے کا جائزہ لینے کے لیے مل کر کام کرسکتی ہیں اوروہ اس ضمن میں مکمل طور پر پُراعتماد ہیں۔

ڈبلیو ایف پی کے سربراہ نے دنیا سے بھوک کے خاتمے میں مدد دینے کے لیے ارب پتی افراد سے ایک مرتبہ پھر مدد کی اپیل کا اعادہ کیا ہے۔

بیسلے نے سی این این کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا: "امریکا میں سرفہرست 400 ارب پتی افراد کی مجموعی آمدن میں گذشتہ سال 18 کھرب ڈالر کا اضافہ ہوا۔میں ان کی صرف خالص آمدن میں اضافے کا صرف 0.36 فی صد مانگ رہا ہوں۔ میں پیسہ کمانے والے لوگوں سے مطالبہ کررہا ہوں، لیکن خداجانتا ہے کہ میں ان لوگوں کی مدد کررہا ہوں جو اس وقت نہایت ضرورت مند ہیں اوردنیا مشکل میں ہے۔‘‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’’یہ پیچیدہ نہیں ہے۔ میں ان سے روزانہ یاہرہفتے یا ہرسال عطیہ دینے کے لیے نہیں کَہ رہا ہوں۔‘‘