.

سعودی عرب:اقامتی اپارٹمنٹس کی قیمتوں میں پانچ سال میں پہلی مرتبہ تیزرفتاراضافہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب میں اقامتی اپارٹمنٹس کی قیمتوں میں گذشتہ پانچ سال کے دوران میں تیزی سے اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔پراپرٹی کنسلٹنٹ فرم نائٹ فرینک کے مارکیٹ کے تازہ تجزیے کے مطابق کی رہائشی مارکیٹ میں تیزی سے توسیع جاری ہے۔دارالحکومت الریاض اور جدہ میں اپارٹمنٹس کی قیمتوں میں پانچ سال میں تیزی سے اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

نائٹ فرینک نے واضح کیا ہے کہ الریاض اور جدہ میں صرف گذشتہ 12 ماہ کے دوران میں اپارٹمنٹ کی قدرمیں بالترتیب 17 فی صد اور 12 فی صد تیزی دیکھی گئی ہے، پہلی بارخریداروں میں چھوٹے اور زیادہ سستے یونٹ خریدکرنے کا رجحان دیکھا گیا ہے۔

نائٹ فرینک میں مڈل ایسٹ ریسرچ کے شراکت داراور سربراہ فیصل درانی کا کہنا ہے:’’گھر کے حق ملکیت کی شرح بڑھانے کے لیے حکومت کی مہم 2016 میں شروع ہوئی تھی۔ البتہ گھروں کی قیمتوں میں صرف 2019 میں تیزی آنا شروع ہوئی تھی اوراس کے بعد سے الریاض میں اپارٹمنٹ کی قیمتوں میں 14.4 فی صد اضافہ ہوا ہے۔‘‘

سعودی عرب میں نئے ہاؤسنگ یونٹوں کی دستیابی میں بھی اضافہ ہوا ہے کیونکہ حکومت کے سکنی اور وافی پروگراموں نے سستے مکانات کی تعمیرکے منصوبوں کوآگے بڑھایا ہے۔نائٹ فرینک کے تجزیے میں کہا گیا ہے کہ وِلا کی قیمت میں کمی واقع ہونا شروع ہوگئی ہے۔اس کا سبب مارکیٹ میں ڈھانچاجاتی تبدیلیاں اور دیگر مسائل ہیں۔

فیصل درانی کا کہنا ہے کہ اس کے برعکس قومی تبدیلی کے منصوبے کے آغاز کے بعد سے گھر کی ملکیت درحقیقت زیادہ ارزاں ہو گئی ہے۔ مثال کے طور پر دو کمروں والے اپارٹمنٹس کی قیمت سالانہ آمدن سے اوسطاً 2.4 گنا زیادہ ہے جبکہ 2016 میں یہ 2.7 گنا زیادہ تھی جوعالمی سطح پرقبول شدہ ارزانی کی حد کے اندر ہے۔وِلا بھی زیادہ سستے ہوچکے ہیں لیکن پھر بھی ان کی قیمت کہیں بھی سالانہ آمدن سے 7 سے 12 گنا کے درمیان ہو سکتی ہے۔

درانی نے وضاحت کی کہ ’’ارزانی کے چیلنج کے ساتھ ساتھ سماجی تبدیلیوں سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ روایتی واحد ولا کی ملکیت کی طلب کو ختم کردیں گی۔ مکانوں کی چھوٹی اکائیاں کمیونٹی اور طرززندگی مرتکز ترقی کے ساتھ مملکت میں رہائشی منظرنامے کو نئی شکل دینے کے لیے تیار ہیں۔اب ایک خاندان کے لیے ان کے پہلے گھر کے طور پرایک اپارٹمنٹ خریدکرنا سستا ہونے کے علاوہ ثقافتی طور پرزیادہ قابل قبول ہے۔‘‘

اس کے علاوہ ملک کی نوجوان آبادی یعنی 56 فی صد افراد کی عمر35 سال سے کم ہے اور توقع کی جاتی ہے کہ وہ کثیرنسلی زندگی کے حق میں کم ہوں گے جس سے رہائش کی مانگ اور بھی زیادہ ہو جائے گی۔ مزید برآں، مملکت کے معاشی دل الریاض میں نئی ملازمتوں کی تخلیق کی شرح میں تیزی سے اضافہ ہوتا ہے توفرد واحد کے لیے رہائش گاہوں کی مانگ میں تیزی آنے کا امکان ہے اور یہ مارکیٹ کی طلب کی حرکیات میں ڈھانچا جاتی تبدیلی کے آغاز کی طرف اشارہ کرتا ہے۔

نائٹ فرینک کے فراہم کردہ اعدادوشمار کے مطابق 2030 کے آخر تک الریاض میں 730,000 گھروں کا اضافہ متوقع ہے،مگر اس کے باوجود یہ تعداد درکار مکانوں کے مقابلے میں 420,000 کم ہے۔

سعودی عرب کے ساحلی شہر جدہ کی رہائشی مارکیٹ میں گذشتہ 12 ماہ میں اپارٹمنٹ کی قیمتوں میں 11.7 فی صد اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اور یہ گذشتہ پانچ سال میں ترقی کی سب سے مضبوط شرح بھی ہے۔ دوسری جانب ولا کی قیمتوں میں اسی عرصے کے دوران میں صرف 1۰3 فی صداضافہ ہوا ہے۔ جدہ میں ایک وِلا کی قیمت اوسط سالانہ آمدن سے 12 گنا زیادہ ہے اور یہ عالمی سطح پر ایک فرد کی آمدنی سے 4 سے 6 گنا زیادہ ہے۔

جدہ مارکیٹ کاآئینہ دار، الدمام میٹروپولیٹن ایریا (ڈی ایم اے) میں اپارٹمنٹ کی اوسط قیمتوں میں سال میں 5.5 فی صد اضافہ ہوا ہے۔یہ2021 ء کی تیسری سہ ماہی تک کے اعدادوشمار ہیں جبکہ اس عرصے کے دوران ولا کی اوسط قیمتوں میں 1.9 فی صد کمی واقع ہوئی ہے۔ تاہم الریاض کے برعکس ڈویلپرز پہلی بار خریداروں کے متبادل آپشن کے طور پرابھرنے والے ٹاؤن ہاؤس منصوبوں پر توجہ مرکوز کررہے ہیں۔ ان کی قیمت زیادہ ارزاں رکھی جا رہی ہے۔اس کے بارے میں نائٹ فرینک کا خیال ہے کہ اس سے ڈی ایم اے کی رہائشی مارکیٹ میں ارزانی کی خلیج کوپاٹنے میں مدد ملے گی۔