.
کرونا وائرس

50لاکھ،نہیں؟کیاکووِڈ-19سے ہلاکتوں کی حقیقی تعدادقریباً ایک کروڑ 70 لاکھ ہے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عالمی سطح پر کووِڈ-19 سے اموات کی سرکاری تعداد پچاس لاکھ سے متجاوز بتائی جاتی ہے لیکن ایک نئی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ اس وَبا سے ہلاکتوں کی حقیقی تعداد اس سے تین گنا زیادہ ہوسکتی ہے۔

ورلڈومیٹر کووِڈ-19 ٹریکنگ ٹول کے مطابق وبا کے آغاز سے اب تک دنیا بھرمیں 50 لاکھ 39 ہزار 536 افراد اس وائرس سے ہلاک ہوچکے ہیں جبکہ جمعرات کو تازہ اعداد و شمار سے پتاچلتا ہے کہ آج تک 248، 938، 575 افراد میں اس بیماری کی تشخیص ہوئی ہے۔

امریکا عالمی سطح پر کووِڈ-19 سے اموات کی تعداد میں سب سے آگے ہے اوراب تک وہاں 750,000 سے زیادہ ہلاکتیں ہوئی ہیں۔لیکن دی اکانومسٹ کی ایک رپورٹ سے پتا چلتا ہے کہ مرنے والوں کی حقیقی تعداد ایک کروڑ 70 لاکھ سے زیادہ ہوسکتی ہے۔

اس جریدے کا کہنا ہے کہ فروری 2020ء میں جب کووِڈ-19 نے پہلی مرتبہ شمالی اٹلی کو نشانہ بنایا تووہاں یہ دیکھا گیا کہ ’’کچھ عجیب ہو رہا ہے۔‘‘مثال کے طورپرمارچ میں اٹلی کے صوبہ برگامو کے کچھ حصوں میں وائرس کی وجہ سے 1140 اموات ہوئیں لیکن گذشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں مجموعی طورپر2420 اموات ہوئیں۔ دی اکانومسٹ کی رپورٹ کے مطابق امریکا، برطانیہ، اسپین اوردیگر ممالک میں بھی جلد اسی طرح کے مظاہردیکھنے میں آئے تھے۔

جولائی میں بھارت کی حکومت نے ان مطالعات کو مسترد کر دیا جن میں بتایا گیا تھا کہ اس گنجان آباد ملک میں کووِڈ-19 سے لاکھوں افراد ہلاک ہو چکے ہیں جواموات کی سرکاری تعداد قریباً 420,000 سے کئی گنا زیادہ ہے۔

تاہم اس نے ایک بیان میں کہا کہ اپریل اور مئی میں یومیہ کیسوں میں اضافے سے نمٹنے کے بعد متعدد ہندوستانی ریاستیں اب اپنے اعدادوشمار میں’’مصالحت‘‘ سے کام لےرہی ہیں۔اس کے بعد امریکا کے ایک تحقیقاتی گروپ سینٹر فار گلوبل ڈویلپمنٹ نے یہ سفارش کی تھی کہ بھارت میں 34 لاکھ سے 47 لاکھ افراد ہلاک ہوچکے ہیں جو سرکاری تعداد سے آٹھ سے گیارہ گنا زیادہ ہے۔دی اکانومسٹ کا کہنا ہے کہ بھارت میں کووِڈ-19 سے ہلاکتوں کے سرکاری اعدادوشمارغلط تھے اوراب بھی ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ وہ عام طور پروائرس کی جانچ پرانحصارکرتے ہیں جوپیچیدہ ہوسکتا ہے اور ایسی تعریفیں استعمال کرتے ہیں جن میں وبا کے بالواسطہ نتائج شامل نہیں ہوتے مثلاً زیادہ مریضوں والےاسپتالوں میں اضافی اموات۔ہلاکتوں کی تعداد کا حساب لگانے کا ایک بہتر طریقہ ہے۔ جنگوں جیسے واقعات کی پیمائش کے لیے محققین یہ جانچ نہیں کرتے کہ کتنے مردہ افراد میں گولیاں ہیں، بلکہ اس سے کہیں زیادہ قابل اعتماد بات پر انحصار کرتے ہیں کہ ان کے دوران میں عام برسوں میں کسی کی توقع سے زیادہ کتنی ہلاکتیں ہوئی ہیں۔اسے ’’اضافی اموات‘‘کہا جاتا ہے۔

کووِڈ سے متعلق اموات کے سرکاری اور قابل اعتماداعدادو شمارکے درمیان خلیج کا مطلب یہ ہے کہ اگرچہ یکم نومبر کوہلاکتوں کی عالمی تعدادباضابطہ طور پر50 لاکھ سے متجاوز ہوگئی ہے لیکن دی اکانومسٹ کی گنتی کے مطابق وائرس سے جان کی بازی ہارنے والے افراد کی اصل تعداد ایک کروڑ 70 لاکھ کے قریب ہے۔

عالمی ادارہ صحت،جس نے مارچ 2020 میں کووِڈ-19 کو عالمی وبا قرار دیا تھا، اس سے قبل کہہ چکا ہے کہ وہ سرکاری طورپررپورٹ کردہ اعدادو شمار کے مقابلے میں مرنے والوں کی اصل تعداد کو کم سے کم 60 فی صد زیادہ سمجھتا ہے۔

دی اکانومسٹ نے لکھا ہے کہ غریب ممالک میں کم گنتی بہت زیادہ اہم ہے۔اس نے بلغاریہ کی طرف اشارہ کیا۔وہاں وبا سے ہونے والی اموات سرکاری تعداد سے شاید دُگنا زیادہ ہیں۔روس میں سرکاری اعداد و شمار کووِڈ-19سے اموات کی حقیقی تعداد کو 3.5 کے عامل (فیکٹر)سے کم تر سمجھتے ہیں؛ دی اکانومسٹ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارتی حکومت کی تعداد ہلاکتوں کی اصل تعداد کو دس کے عامل سے کم تر سمجھتی ہے۔ وائرس کے حقیقی پھیلاؤ کی ناقص تفہیم کے ساتھ ساتھ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس وبا کے اثرات کوان ممالک میں زیادہ ترکم ترسمجھا جاتا ہے جہاں اس سے لڑنے کے لیے کم سے کم وسائل ہیں۔

ورلڈ ان ڈیٹا کی جانب سے جاری کردہ تازہ اعداد وشمار سے پتا چلا ہے کہ دنیا کی قریباًنصف (49.9 فی صد) آبادی کو کووِڈ-19 کی ویکسین کی صرف ایک خوراک ملی ہے جبکہ عالمی سطح پر 7.15 ارب خوراکیں دی گئی ہیں اور اوسطاً روزانہ دوکروڑ 71 لاکھ خوراکیں لگائی جارہی ہیں۔اس کے باوجود زیادہ ترحفاظتی ٹیکے ترقی یافتہ ممالک ہی میں لگائے گئے ہیں۔کم آمدنی والے ممالک میں صرف 3.9 فی صد لوگوں نے کووِڈ-19 ویکسین کی کم از کم ایک خوراک حاصل کی ہے۔

دی اکانومسٹ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کرونا وائرس سے اموات کی سرکاری گنتی استعمال کرنے کی ابھی کچھ وجوہات ہیں۔مثال کے طورپر ان سے ممالک کے اندر وقت کے ساتھ ساتھ وائرس سے متاثرہ افراد اور اموات کے رجحانات کو ملاحظہ کیا جاسکتا ہے لیکن اکثران کا استعمال امیراورغریب ممالک کا موازنہ کرنے یا عالمی سطح پر ہلاکتوں کی تعداد کا جائزہ لینے کے لیے کیاجاتا ہے۔ تاہم ان کا استعمال اب بھی کیا جاتا ہے کیونکہ یہ زیادہ اموات کی گنتی سے بہتراپ ٹو ڈیٹ ہیں اوران کے برعکس تمام ممالک کے لیے دستیاب ہیں۔

دی اکانومسٹ نے کہا کہ اس نے اس صورت حال کے ازالے کا طریقہ ڈھونڈ لیا ہے اوروہ کہ یہ دنیا بھر میں اضافی اموات کے روزانہ تازہ تخمینوں کا واحد ذریعہ ہے۔اس وبا سے حقیقی ہلاکتوں کی تعداد تلاش کرنے کے لیے دی اکانومسٹ نے پہلے ان تمام ممالک کے لیے اموات کے اعداد شمار اکٹھے کیے جہاں یہ دستیاب تھے(محققین اور رضاکاروں کی مدد سے) اور پھر اس کی پیشین گوئی کرنے کے لیے ایک مشین لرننگ ماڈل بنایا جہاں یہ نامعلوم ہے۔

اس نےان تخمینوں کے ساتھ ساتھ ان کے ڈیٹا، کوڈ اور ماڈلز کو بھی آزادانہ طور پرفراہم کیا اور دیگر کے علاوہ عالمی ادارہ صحت کو اپنا کام پیش کیا ہے۔اس کے اندازوں کے مطابق عالمی سطح پرہلاکتوں کی تعداد ایک کروڑ68 لاکھ (16.8ملین) ہے۔اس میں ’’اعتماد کا وقفہ 10.3 ملین سے 19.5 ملین کے درمیان ہے۔‘‘اس میں کہا گیا ہے کہ دسمبر 2020ء کے پہلے ہفتے میں وبا کی وجہ سے ہونے والی اموات کی تعداد پچاس لاکھ سے متجاوز ہوگئی تھی۔