.

'آزادی 2014 میں ملی، 47 میں تو بھیک ملی تھی'، کنگنا رناؤت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بالی وڈ کی معروف اداکارہ کنگنا رناؤت کا کہنا ہے کہ بھارت کو آزادی سن 2014 میں اس وقت ملی جب نریندر مودی بھارت کے وزیر اعظم بنے اور سن 47 میں تو بھیک ملی تھی۔

سخت گیر ہندو نظریات کی حامل اداکارہ ماضی میں بھی اس طرح کے بے تکے اور اشتعال انگیز بیانات دیتی رہی ہیں، تاہم اس بار خود بی جے پی کے رہنما بھی ان پر نکتہ چینی کر رہے ہیں۔

ایک بھارتی ٹی وی چینل کے پروگرام میں بات کرتے ہوئے اداکارہ نے جو متنازع بیان دیا تھا اس کا ویڈیو وائرل ہو چکا، جس پر کئی حلقوں کی جانب سے شدید تنقید ہوئي ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ سن 1947 میں ملنے والی، "آزادی تو بھیک تھی اور اصل آزادی تو سن 2014 میں ملی۔" اسی برس مودی بھارت کے وزیر اعظم بنے تھے۔

کنگنا رناؤت کی قوم پرست دائیں بازو کی جماعت بی جے پی کے رہنماؤں سے کافی قربت ہے اور وہ وقتاً فوقتا بی جے پی حکومت کی حمایت میں بیان بھی دیتی رہی ہیں۔ مودی حکومت نے بھی انہیں چند روز قبل ہی پدما شری جیسی اعلی شہری اعزاز سے بھی نوازا ہے۔

تاہم ان کے اس متنازع بیان کے بعد بہت سے لوگ ان سے یہ اعزاز واپس لینے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ کانگریس پارٹی کے سینیئر رہنما آنند شرما نے صدر سے یہ اعزاز واپس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا، "وزیر اعظم کو اپنی خاموشی توڑتے ہوئے بتانا چاہیے کہ کیا وہ کنگنا کی رائے کی حمایت کرتے ہیں؟ اگر نہیں تو حکومت کو ایسے افراد کے خلاف مناسب کارروائی کرنی چاہیے۔"

انہوں نے اپنی ایک اور ٹویٹ میں لکھا کہ اس طرح کے اعزاز سے سرفراز کرنے سے پہلے نامزد افراد کا، "ایوارڈ دینے سے پہلے نفسیاتی جائزہ لیا جانا چاہیے تاکہ ایسے افراد ملک اور اس کے ہیروز کی بے عزتی نہ کر سکیں۔"

بی جے پی سے تعلق رکھنے والے رکن پارلیمان ورن گاندھی نے کنگنا پر شدید نکتہ چینی کی ہے۔ اپنی ایک ٹویٹ میں ورن نے کہا، "کبھی مہاتما گاندھی کی قربانی کی توہین، تو کبھی ان کے قاتلوں کی تعریف، اور اب منگل پانڈے، رانی لکشمی بائی، بھگت سنگھ، چندر شیکھر آزاد، نیتا جی سبھاش چندر بوس اور دیگر لاکھوں مجاہدین آزادی کی قربانیوں کی توہین۔ اس سوچ کو پاگل پن کہوں یا غداری کا نام دوں؟"

دہلی میں بے جی پی کے ایک ترجمان پروین شنکر کپور نے بھی اداکارہ کے بیان کو مجاہدین آزادی کی توہین قرار دیتے ہوئے ان کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے اپنی ایک ٹویٹ میں کہا، "مجھے لگتا ہے کہ یہ مجاہدین آزادی کی توہین ہے اور آزادی (اظہار رائے) کا سب سے زیادہ غلط استعمال ہے۔"

ٹویٹر نے غلط بیانی اور اشتعال انگیز بیانات کے سبب کنگنا پر پہلے سے ہی پابندی عائد کر رکھی ہے اور اس بیان کے بعد ان کے خلاف قانونی چارہ جوئی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ ممبئی میں ایک سیاسی رہنما پریتی شرما مینن نے پولیس کو ایک درخواست دی جس میں ان کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا مطالبہ کیا گيا ہے۔

کانگریس کے ایک رہنما گورو نے اپنی ایک ٹویٹ میں لکھا، "آر ایس ایس اس حقیقت کو کبھی قبول نہیں کر سکتی کہ ان کے برطانوی آقاؤں کو سن 1947 میں ہی ملک کو چھوڑنے پر مجبور کیا گیا تھا۔ ان کی غلامی کی تو کوئی حد ہی نہیں تھی اور اسی لیے کوئی تعجب کی بات نہیں کہ انہوں نے نصف صدی تک بھارت کا قومی پرچم نہیں لہرایا۔ کنگنا رناؤت بھی ان میں سے ایک ہیں۔"