.

سعودی عرب میں ذیابیطس کے مریضوں کی تعداد2045ء تک قریباً دگنا ہوجائے گی

مملکت میں اس وقت ہر10میں سے ایک سے زیادہ افراد شوگرکا شکار،مینا میں ہر6میں سے ایک بالغ مریض:رپورٹ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

برسلز میں قائم انٹرنیشنل ذیابیطس فیڈریشن (آئی ڈی ایف) کی ایک نئی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب میں ہردس میں سے ایک سے زیادہ افراد اب ذیابیطس (شوگر)کے مرض میں مبتلا ہیں اور 2045ءتک مملکت میں ’’خاموش موت‘‘ کے نام سے معروف اس بیماری کا پھیلاؤ تقریبا دُگنا ہوجائے گا۔

آئی ڈی ایف کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ سعودی عرب میں 42 لاکھ 74 ہزار افراد ذیابیطس کا شکار ہیں۔اس وقت سعودی عرب کی آبادی ورلڈومیٹرکے تازہ اعداد و شمارکے مطابق قریباً تین کروڑ 48 لاکھ نفوس پر مشتمل ہے-

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مزید 18 لاکھ 63 ہزار سعودی اس مرض میں مبتلا ہیں لیکن ابھی تک ان کی تشخیص نہیں ہوسکی ہے۔2030ء تک سعودی عرب میں ذیابیطس کے مریضوں کی تعداد بڑھ کر56 لاکھ 31ہزار ہوجائے گی اور 2045ء تک 75 لاکھ 37 ہزار تک پہنچ جائے گی۔

مینا میں ذیابیطس

مشرقِ اوسط اورشمالی افریقاکے خطے مینا میں ہرچھے میں سے ایک بالغ( سات کروڑ 30 لاکھ ) ذیابیطس کے مرض میں مبتلاہے۔2030 تک یہ تعداد ساڑھے نو کروڑ اور 2045ء تک 13 کروڑ 60 لاکھ تک پہنچنے کا امکان ہے۔

خطے میں ہرتین میں سے ایک مقیم ذیابیطس کے ساتھ زندگی گزاررہا ہے لیکن اس کی تشخیص نہیں کی گئی ہے۔

عالمی سطح پر اب 53 کروڑ 70 لاکھ سے زیادہ افراد ذیابیطس کے ساتھ زندگی گزاررہے ہیں۔اس طرح 2019 میں آئی ڈی ایف کے سابقہ تخمینے کے مقابلے میں شوگر کے مریضوں کی تعداد میں 16 فی صد (سات کروڑ 40 لاکھ) کا اضافہ ہوا ہے۔2021ء میں آئی ڈی ایف نے اندازہ لگایا ہے کہ ذیابیطس سے دنیا بھر میں 67 لاکھ اموات ہوتی ہیں۔یعنی یہ مہلک مرض ہرپانچ سیکنڈ میں ایک موت کا ذمے دار ہے۔

یہ نئے اعدادوشماردنیا بھرمیں ذیابیطس کے بڑھتے ہوئے پھیلاؤکواجاگر کرتے ہیں۔یہ اعداد وشمار آئی ڈی ایف ذیابیطس اٹلس کے آیندہ دسویں ایڈیشن سے لیے گئے ہیں جو 6 دسمبرکوشائع کیاجائے گا۔

آئی ڈی ایف ذیابیطس اٹلس کی تازہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ذیابیطس کا عالمی پھیلاؤ 10.5 فی صد تک پہنچ گیا ہے،مگراس مرض کا شکار قریباً نصف (44.7 فی صد) بالغوں کی تشخیص نہیں ہوئی ہے۔

آئی ڈی ایف کے تخمینے سے پتا چلتا ہے کہ 2045ء تک 78 کروڑ 30 لاکھ بالغ افراد ذیابیطس کے ساتھ زندگی گزار رہے ہوں گے یعنی ہرآٹھ میں سے ایک بالغ۔ اس طرح اس کے مریضوں میں 46 فی صد کا اضافہ ہوگا جو اسی عرصے کے دوران میں آبادی میں اضافے کے تخمینے (20 فی صد) سے دُگنا زیادہ ہے۔

آئی ڈی ایف کے صدر پروفیسراینڈریو بولٹن کہتے ہیں کہ ’’اس وقت جب دنیا انسولین کی دریافت کی صدسالہ سالگرہ منارہی ہے تو کاش! میں یہ اطلاع دے سکتا کہ ہم نے ذیابیطس کے بڑھتے ہوئے مرض کو رُخ موڑنے کے لیے فیصلہ کن کارروائی کا مشاہدہ کیا ہے مگرافسوس میں یہ نہیں کہہ سکتا‘‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’’ذیابیطس بے مثال شدت کی حامل وَبا ہے۔ رواں سال کے اوائل میں عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او)نے گلوبل ذیابیطس کمپیکٹ کا آغازکیا تھا اور اقوام متحدہ کے رکن ممالک نے ایک قرارداد منظور کی تھی جس میں ذیابیطس سے نمٹنے کے لیے فوری مربوط عالمی اقدامات پر زوردیا گیا تھا۔ یہ اہم سنگ میل ہیں، لیکن الفاظ کو اب عمل میں تبدیل کرنا ہوگا، اور اگر اب نہیں تو کب؟‘‘

عالمی سطح پراس مرض کے شکار90 فی صد سے زیادہ افراد کو ٹائپ 2 ذیابیطس ہے۔اس کے عام اسباب میں شہروں کی جانب منتقلی کے رجحان میں اضافہ،عمررسیدہ آبادی، جسمانی سرگرمی کی کم ہوتی ہوئی سطح اور زیادہ وزن اور موٹاپا شامل ہیں۔

ڈبلیو ایچ او کے مطابق 1980ء سے ذیابیطس کے شکارافراد کی تعداد قریباً چارگنا بڑھ چکی ہے۔اس میں کہا گیا ہے کہ اس کی وجوہات پیچیدہ ہیں لیکن اس کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ جزوی طورپران لوگوں کی وجہ سے ہوا ہے جن کا وزن زیادہ ہے۔وہ موٹاپے کا شکار ہیں اوران کی جسمانی سرگرمی میں بڑے پیمانے پرکمی واقع ہوئی ہے۔

صحت مند غذا، باقاعدگی سے جسمانی سرگرمی، جسم کا عام وزن برقرار رکھنا اور تمباکو کے استعمال سے پرہیز ٹائپ 2 ذیابیطس کے آغاز کو روکنے یا اس میں تاخیرکا سبب بن سکتے ہیں۔ذیابیطس کا علاج کیا جاسکتا ہےاور اس کے مضمرات سے بہترغذا،جسمانی سرگرمی اورادویہ کے ذریعے بچاجاسکتا ہےپیچیدگیوں کی صورت میں باقاعدگی سے اسکریننگ اورعلاج کے ذریعے اس مہلک مرض کے اثرات بد سے بچاجاسکتا ہے۔