.

اسپرین دل کے دورے کے امکان میں 25 فی صد سے زیادہ اضافہ کرسکتی ہے:مطالعہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایک نئی تحقیق کے مطابق دنیا کی مقبول دردکش ادویہ میں سے ایک اسپرین کا استعمال دل کے دورے کے زیادہ خطرے کا سبب بن سکتا ہے۔

یورپین سوسائٹی آف کارڈیالوجی کے محققین کے مطابق اسپرین کا استعمال ان لوگوں میں دل کے دورے کے 26 فی صد خطرے کا سبب ہوسکتا ہے جن میں کم سے کم ایک پیشگی عنصر یا حالت ہوتی ہے۔اس مطالعہ میں جن عوامل کو مدنظر رکھا گیا ہے،ان میں ہائی بلڈ پریشر(بلندفشارخون) ، تمباکو نوشی، ذیابیطس، موٹاپا، ہائی کولیسٹرول اور مختلف قلبی امراض شامل ہیں۔

تاہم محققین نے نوٹ کیا کہ عارضہ قلب پراسپرین کا اثر متنازع تھا اور اس تحقیق کا مقصد دل کی بیماری کے ساتھ اوراس کے بغیر دونوں صورتوں میں لوگوں میں اسپرین کے استعمال کے باہمی تعلق کا جائزہ لینا تھا۔

جرمنی کی یونیورسٹی آف فری برگ کے مطالعاتی مصنف ڈاکٹربلیریم مجاج نے ایک بیان میں کہا کہ یہ پہلا مطالعہ ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ دل کی ناکامی کے خطرے کا کم سے کم ایک عنصررکھنے والے افراد میں اسپرین کے استعمال کنندگان میں اس دوا کا استعمال نہ کرنے والوں کے مقابلے میں عارضہ قلب پیدا ہونے کا امکان زیادہ تھا۔

اگرچہ ان نتائج کی تصدیق کی ضرورت ہے لیکن ان سے یہ ضرور ظاہرہوتا ہے کہ اسپرین اور دل کے دورے کے درمیان ممکنہ ربط کو واضح کرنے کی ضرورت ہے۔

اس تجزیاتی مطالعے میں 30,000 سے زیاہ افراد شامل تھے۔انھیں دل کا عارضہ لاحق تھااور انھیں دل کے دورے کے خطرے کا سامنا تھا۔ان سب کا اندراج مغربی یورپ کے ممالک اور امریکا سے کیا گیا تھا۔ شرکاء کی عمر40 سال یا اس سے زیادہ تھی اور بیس لائن پر وہ دل کے دورے سے پاک تھے۔

تحقیق میں شامل افرادکی اوسط عمر67سال تھی اور ان میں سے 34 فی صد خواتین تھیں۔بیس لائن پر 7698 شرکاء (25 فی صد ) اسپرین لے رہے تھے۔محققین نے بتایا کہ نگرانی کے دوران میں ان میں سے 1330 شرکاء کو دل کے دورے کا خطرہ لاحق ہوا ہے۔

محققین نے جنسی تعلقات، عمر، باڈی ماس انڈیکس، تمباکو نوشی، شراب کا استعمال، بلڈ پریشر، دل کی دھڑکن، بلڈ کولیسٹرول،ہائپرٹینشن، ذیابیطس، قلبی امراض اور رینن اینجیوٹینسن الڈوسٹرون سسٹم انہیبیٹرز، کیلشیم چینل بلاکرز، ڈائیوریٹک، بیٹا بلاکرز اور جسمانی چربی کم کرنے والی دواؤں کے ساتھ علاج کے درمیان تعلق کا جائزہ لیا ہے۔

آزادانہ طور پراسپرین کا استعمال کرنے والوں میں 26 فی صد تک دل کے دورے کے خطرے کی تشخیص ہوئی ہے۔یہ پہلا بڑا مطالعہ تھا جس میں دل کی بیماری کے ساتھ اور اس کے بغیرافراد میں اسپرین کے استعمال ،اس سے دل کے دورے اور کم سے کم ایک خطرے کے عنصر کے درمیان تعلق کی تحقیقات کی گئی ہے۔

ڈاکٹرمجاج کا کہنا تھا کہ ’’اسپرین کا استعمال عام ہے- ہمارے مطالعہ میں شامل ہرچار میں سے ایک شریک یہ دوا لے رہا تھا۔ اسپرین کا استعمال خطرے کے دیگرعوامل سے آزاد دل کے دورے کے خطرے کا ایک عامل تھا۔‘‘

انھوں نے مزید بتایا کہ ’’ان نتائج کی تصدیق کے لیے دل کی دورے کے خطرے سے دوچاربالغوں میں کثیرالقومی بے ترتیب جانچ کی ضرورت ہے۔ اس وقت تک، ہمارے مشاہدات سے پتاچلتا ہے کہ دل کے دورے کے خطرے سے دوچارافراد یا اس حالت کے خطرے کے عوامل کے حامل افراد کے لیےاسپرین کواحتیاط کے ساتھ تجویزکیا جانا چاہیے۔‘‘