.

جنوبی افریقا میں کووِڈ-19 کی ایک اور نئی قسم کی تشخیص

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جنوبی افریقا میں سائنس دانوں نے کووِڈ-19 کی ایک اور نئی قسم کاسراغ لگایا ہے۔یہ متعدد تبدیلیوں اورتغیّرات کی حامل ہے اور اس سے انفیکشن میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔

متعدی امراض کے ماہر ڈاکٹر تولیو ڈی اولیویرا نے جمعرات کو ہنگامی طورپر بلائی گئی نیوزکانفرنس میں کہا کہ ’’بدقسمتی سے ہم نے ایک نئی شکل کاسراغ لگایا ہے اور یہ جنوبی افریقا میں تشویش کی ایک وجہ ہے‘‘۔

انھوں نے بتایاکہ اس قسم کا سائنسی نسب نمبر بی 1.1.529 ہے۔اس قسم میں بہت زیادہ تبدیلیاں ہیں اور بدقسمتی سے اس سے انفیکشن میں تیزی سے اضافہ ہورہاہے۔

انھوں نے کہا کہ جنوبی افریقا سے بوٹسوانا اور ہانگ کانگ میں لوٹنے والے مسافروں میں بھی اس قسم کا پتاچلا ہے۔وزیر صحت جو فاہلہ کے بہ قول یہ قسم ’’سنگین تشویش‘‘کی حامل ہے اور رپورٹ کیے گئے کیسز میں ’’تیزی سے‘‘ اضافے کا ایک سبب یہی قسم ہے جس سے یہ ’’ایک بڑا خطرہ‘‘ بن گئی ہے۔

بدھ کوکرونا وائرس کے تشخیص شدہ کیسوں کی تعداد 1200 سے زیادہ ہوگئی تھی جبکہ اس ماہ کے اوائل میں صرف 100 کے لگ بھگ کیس ریکارڈ کیے تھے۔

حکام نے نئی شکل کی تشخیص سے قبل دسمبر کے وسط سے جنوبی افریقا میں کرونا وائرس کی چوتھی لہر آنے کی پیشین گوئی کی تھی کیونکہ کرسمس اور دوسرے تیوہاروں کے موسم سے قبل سفری سرگرمیوں میں اضافہ ہوجاتا ہے۔

حکومت کے زیر انتظام نیشنل انسٹی ٹیوٹ برائے وبائی امراض (این آئی سی ڈی) نے کہا ہے کہ جینومک سیکوئنسنگ کے بعد ملک میں بی 1.1.529 قسم کے 22 مثبت کیس ریکارڈ کیے گئے ہیں۔

اس نے جمعرات کو ایک بیان میں کہا کہ ملک کے تین صوبوں بشمول گوٹینگ میں اس نئی قسم کے کیسوں کا پتاچلا ہے اوراس کے ٹیسٹوں کی مثبت شرح میں ’’تیزی سے اضافہ‘‘ہو رہا ہے۔ملک کے دوبڑے شہرجوہانسبرگ اور پریٹوریا بھی اول الذکر صوبے میں شامل ہیں۔

این آئی سی ڈی نے بتایا کہ حال ہی میں ایک جھرمٹ انداز میں اس وائرس کے پھیلنے کی نشان دہی کی گئی ہے اور اس کا تعلق دارالحکومت پریٹوریا کے ایک اعلیٰ تعلیمی ادارے سے ہے۔

گذشتہ سال جنوبی افریقا نے بھی وائرس کے بِیٹا متغیّر کا سراغ لگایا تھا، حالانکہ اب تک اس کے ہاں ڈیلٹا قسم کے کے کیسوں کی تشخیص کا پتاچلا ہے۔وائرس کی یہ قسم بھارت میں پھیلی تھی۔

سائنس دانوں نے بتایا کہ نئی بی 1.1.529 قسم میں کم سے کم 10 تبدیلیاں ہیں جبکہ ڈیلٹا کے لیے دو یا بِیٹا کے لیے تین ہیں۔محقق رچرڈ لیسلز کا کہنا ہے کہ ہمارے لیے خدشے کا سبب یہ چیز ہےکہ وائرس کی یہ قسم نہ صرف تیزی سے منتقل ہوتی ہے اور مؤثر طریقے سے پھیلتی ہے بلکہ یہ مدافعتی نظام کے کچھ حصوں کے آس پاس جانے کے قابل بھی ہوسکتا ہے۔اب تک یہ شکل خاص طور پرنوجوانوں میں پھیلتی دیکھی گئی ہے۔لیکن لیسلز نے کہا کہ آنے والے دن اور ہفتے اس قسم کی شدت کا تعیّن کرنے میں اہم ثابت ہوں گے۔

ایک اور سائنس دان پینی مور کہتی ہیں کہ وائرس کی اس قسم کوغیرجانبدار کرنا یا ناکارہ بنانا اس قسم میں موجود تغیّرات کی تعداد کی وجہ سے ایک پیچیدہ عمل ہے۔نیزاس قسم میں بہت سی تبدیلیاں ہیں جن سے ہم ابھی واقف نہیں ہیں۔

براعظم افریقامیں اس ملک میں کرونا وائرس کے سب سے زیادہ کیسوں کی تشخیص ہوئی ہے اور اب تک قریباً ساڑھے انتیس لاکھ کیس ریکارڈ کیے گئے ہیں۔ان میں سے 89,657 جان کی بازی ہارچکے ہیں۔

جنوبی افریقا میں ویکسین لگانے کی مہم کے سست آغاز کے بعدقریباً 41 فی صد بالغوں نے کم سے کم ایک خوراک حاصل کی ہے جبکہ 35 فی صد کو مکمل طور پر ویکسین لگائی جاچکی ہے۔