عرب دنیا میں بھوک میں اضافہ،2020 میں قریباً 7کروڑافرادغذائی قلت کا شکار:اقوام متحدہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اقوام متحدہ کے فراہم کردہ اعداد وشمار کے مطابق اس وقت 42 کروڑ نفوس پر مشتملعرب دنیا میں ایک تہائی افراد کے پاس کھانے کے لیے کافی خوراک دستیاب نہیں جبکہ گذشتہ سال 6 کروڑ 90 لاکھ سے زیادہ افراد غذائی قلت کا شکار ہوئے تھے۔

اقوام متحدہ کے تحت عالمی ادارہ خوراک وزراعت (ایف اے او) نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ 2019ء سے 2020ء کے درمیان عرب دنیا میں غذائی قلت کے شکار افراد کی تعداد 48 لاکھ افراد سے بڑھ کر6 کروڑ90 لاکھ تک پہنچ گئی ہے اور یہ تعداد کل آبادی کا قریباً 16 فی صد ہے۔

ایف اے او نے کہا کہ کم غذائیت کی سطح میں اضافہ تمام آمدنی کی سطحوں، تنازعات سے متاثرہ اورغیرتنازع والے ممالک، دونوں میں ہوا ہے۔اس کے علاوہ 2020 میں قریباً 14 کروڑ10 لاکھ افراد کو مناسب خوراک تک رسائی حاصل نہیں تھی اوراس تعداد میں 2019 سے اب تک ایک کروڑ سے زیادہ افراد کا اضافہ ہوا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کووِڈ-19 کی وَبا نے’’ایک اور بڑا جھٹکا‘‘دیا ہے،2019 کے مقابلے میں خطے میں تغذیہ سے محروم افراد کی تعداد میں 48 لاکھ کا اضافہ ہوا ہے۔

تنازعات سے متاثرہ صومالیہ اور یمن گذشتہ سال بھوک سے سب سے زیادہ متاثرہ ممالک تھے۔قریباً 60 فی صد صومالی بھوک کا شکار تھے اور45 فی صد سے زیادہ یمنی کم خوراکی سے دوچار تھے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 2020ء میں یمن میں خون کی کمی کا سب سے زیادہ پھیلاؤ ہوا تھا۔اس سے تولیدی عمر کی 61.5 فی صد خواتین متاثرہوئی تھیں۔ایف اے او نے کہا کہ گذشتہ دودہائیوں کے دوران میں عرب دنیا میں بھوک میں 91۰1 فی صد اضافہ ہوا ہے۔

اس کے علاوہ 2020 میں پانچ سال سے کم عمر بچّوں میں بڑھوتری کی شرح (20.5 فی صد) سست رفتاراور زیادہ وزن (10.7 فی صد) کی شرح زیادہ تھی۔بالغوں میں موٹاپے کی شرح خاص طورپرامیرعرب ریاستوں میں تیزی سے بڑھ رہی ہے۔

عرب خطے کے لیے سال کے تازہ تخمینے سے پتاچلتا ہے کہ بالغ آبادی کا 28.8 فی صد موٹاپے کا شکار تھا۔یعنی موٹاپے کا شکارافراد کی تعداد عالمی اوسط 13.1 فی صد سے دُگنا ہے۔

نیزخطے میں زیادہ آمدن والے ممالک میں بالغوں میں موٹاپے کی شرح سب سے زیادہ ہے جبکہ کم آمدن والے ممالک میں سب سے کم سطح تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں