کرونا وائرس

عام زکام سے ٹی سیل کووِڈ-19 کے خلاف تحفظ فراہم کر سکتے ہیں:مطالعہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امپیریل کالج لندن کی ایک تحقیق میں پتاچلا ہے کہ عام زکام والے کروناوائرس سے ٹی سیلز(خلیات) کی اعلیٰ سطح کووِڈ-19 کے خلاف تحفظ فراہم کرسکتی ہے۔یہ تحقیق ویکسین کی دوسری نسل کی تیاری میں معاون ثابت ہوسکتی ہے۔

کووِڈ-19 سے تحفظ ایک پیچیدہ تصویر ہے اور جہاں ویکسین لگوانے کے چھے ماہ بعد اینٹی باڈی کی سطح کم ہونے کے شواہد موجود ہیں،وہیں ٹی خلیوں کے بارے میں بھی خیال کیا جاتا ہے کہ وہ کرونا وائرس سے تحفظ مہیا کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

امپیریل کالج نے ستمبر2020 میں اس تحقیق کا آغاز کیا تھا۔ اس تحقیق میں کووِڈ-19 کے مثبت کیسوں کے 52 گھریلو رابطوں میں گذشتہ عام زکام سے پیدا ہونے والے کراس ری ایکٹوٹی سیلزکی سطح کا جائزہ لیا گیا ہے تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ آیا ان میں انفیکشن پیدا ہوئی ہے یا نہیں۔

اس میں یہ ملاحظہ کیا گیا ہے کہ جن 26 افراد کو انفیکشن نہیں ہوئی،ان میں ان ٹی سیلز کی سطح ان لوگوں کے مقابلے میں کافی زیادہ تھی جوانفیکشن سے متاثرہوئے تھے۔امپیریل نے یہ نہیں بتایا کہ ٹی سیلزسے تحفظ کب تک رہے گا۔

مطالعہ کی شریک مصنفہ ڈاکٹرریا کنڈو نے کہا کہ ہم نے پایا کہ پہلے سے موجود ٹی خلیات کی اعلیٰ سطح کووِڈ-19 انفیکشن سے بچا سکتی ہے۔یہ عام زکام جیسے کروناوائرس سے متاثر ہونے پردیگرانسانی جسم کے ذریعہ بنائی جاتی ہے۔

نیچر کمیونی کیشنز میں شائع شدہ اس تحقیق کے مصنفین نے کہا ہے کہ سارس-کووی-2 وائرس کی اندرونی پروٹین،جو ٹی خلیات کے نشانے پرہوتی ہے،ویکسین بنانے والوں کے لیے ایک متبادل ہدف پیش کرسکتی ہے۔

کووِڈ-19 کی موجودہ ویکسینیں اسپائیک پروٹین کو ہدف بناتی ہیں۔یہ باقاعدگی سے متغیرہوتی رہتی ہے،جس سے اومیکرون جیسی مختلف شکلیں پیدا ہوتی ہیں اور یہ علامتی انفیکشن کے خلاف ویکسین کی افادیت کو کم کردیتی ہیں۔

اس مطالعہ کے شریک مصنف پروفیسر اجیت للوانی کہتے ہین:’’اس کے برعکس حفاظتی ٹی سیلزکے ذریعے ہدف بنائے گئےاندرونی پروٹین بہت کم تبدیل ہوتے ہیں۔نتیجتاً، وہ اومیکرون سمیت مختلف سارس-کووی-2 متغیّرات کے درمیان انتہائی محفوظ ہیں۔ نئی ویکسینیں جن میں یہ محفوظ اندرونی پروٹین شامل ہیں،وسیع پیمانے پر حفاظتی ٹی سیل ردعمل پیدا کریں گی اورانھیں موجودہ اور مستقبل کے سارس-کووی-2 متغیّرات سے تحفظ مہیا کرناچاہیے‘‘۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں