سعودی عرب میں سورج کا خوبصورت ’ہالہ‘ توجہ کا مرکز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

منگل کےروز 18 جنوری 2022 کی سہ پہر کو سعودی عرب کی فضا میں ایک منفرد حولیاتی مظہر کا مشاہدہ کیا گیا۔ آسمان کے گنبد میں سورج کی ڈسک کے گرد روشنی کا ایک حلقہ ہے جسے "ہالہ" کہا جاتا ہے ظاہر ہوا ۔ یہ منظر سعودی عرب کے شہرجدہ میں رونما ہوا۔

جدہ میں فلکیاتی سوسائٹی کے سربراہ انجینیر ماجد ابو زاہرہ نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ سورج کے گرد نظر آنے والا روشنی کا ہالہ[حلقہ] اتنا بڑا ہے کہ اس کا نصف قطر22 ڈگری پر ہوتا ہے۔ یہ ان نظری مظاہر میں سے ایک ہے جو ماحول کے اندر رونما ہوتا ہے جو ہمارے سیارے اور پوری دنیا میں سرد، دھندلے پتلے بادلوں کے اندر دیکھا جا سکتا ہے جس میں "پنسل" کی شکل میں برف کے کرسٹل ہوتے ہیں اور چھ اطراف کے ساتھ پتلے ہوتے ہیں یہاں تک کہ گرم موسم میں بھی 10 کلومیٹر کی بلندی پر ہوا اتنی ہی ہوتی ہے۔

سورج کی روشنی

ابو زاہرہ نے کہا کہ برف کے کرسٹل پرزم اور آئینے کی طرح ہوتے ہیں۔ وہ اپنی سطحوں کے درمیان سورج کی روشنی کو منعکس کرتے ،توڑتے اور بکھرنے کی وجہ سے رنگوں میں تقسیم ہو سکتے ہیں۔ روشنی کے کالم کو آزاد سمتوں میں بھیجتے ہیں۔ لاکھوں برف کے کرسٹل چمکتے ہیں اور ٹروپوسفیئر کے اوپر 4 سے 8 کلومیٹر کی بلندی پر دیکھے جاتے ہیں۔ دھندلے بادلوں سے روشنی کا یہ ہالہ بنتا ہے اور یہ دیکھا جاتا ہے کہ ہالہ کا اندرونی حصہ ایک مدھم سرخ رنگ کا ہے، اور باہر کی طرف یہ رنگ آہستہ آہستہ دھندلا ہوتا جاتا۔ ہالہ کے اندر کا آسمان سیاہ دکھائی دیتا ہے کیونکہ وہاں برف کے کرسٹل چمک رہے ہیں۔

انہوں نے وضاحت کی کہ یہ روشنی کا ہالہ آسمان میں اپنی پوزیشن سے قطع نظر ہمیشہ ایک ہی قطر کا ہوتا ہے۔ بعض اوقات پورے دائرے کے صرف کچھ حصے ہی نظر آتے ہیں اور چمک بہت سرد موسم میں اسٹریٹ لائٹنگ کے کھمبوں کے گرد بھی بن سکتی ہے۔ برف کے کرسٹل کم اونچائی پر ہوا میں تیرنے والا "ڈائمنڈ ڈسٹ" کہلاتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں