روس اور یوکرین

’میں ڈری سہمی ہوئی ہوں‘:دبئی میں مقیم یوکرینی تارکین وطن روس کےحملے پرکیاکہتے ہیں؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
9 منٹس read

متحدہ عرب امارات میں مقیم یوکرینی تارکین وطن نے اپنے خاندان اور دوستوں کے بارے میں خوف وخدشات کا اظہار کیا ہے جو 24 فروری کو روس کے یوکرین پر حملے کے بعد سے اب تک ملک میں پھنسے ہوئے ہیں۔

دبئی میں مقیم یوکرینی شہری اولگا نے العربیہ انگلش کو بتایاکہ’’حملے کے آغازسے اب تک ان کی زندگی معمول کی نہیں رہی ہے‘‘۔33سالہ خاتون نے کہا کہ ’’میں مکمل طور پرٹوٹ پھوٹ چکی ہوں اورمایوس ہوں۔یہ میری زندگی کا بدترین ہفتہ رہا ہے۔ میں اور میرے دوست یہاں دبئی سے اپنے ہم وطنوں کی ہر ممکن مدد کرنے کی کوشش کر رہے ہیں‘‘۔

اولگا کے خاندان کا تعلق دارالحکومت کیف سے ہے اورانھوں نے پورے حملے کے دوران میں دارالحکومت میں رہنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ وہ اس صورت حال میں جو کچھ کرسکتے ہیں،وہ کریں اوردوسروں کی مددکریں۔

انھوں نے بتایا کہ میری ماں رضاکارانہ طور پرکام کر رہی ہیں اوریوکرینی فوج کے لیے چھلاوا جال بُننے میں مدد کر رہی ہیں۔ وہ عطیہ کردہ کپڑوں کو بھی چھانٹ رہی ہیں تاکہ انھیں جنگ سے زیادہ متاثرہ علاقوں میں بھیجا جاسکے۔

اولگا نے وضاحت کی کہ میرا خاندان مغربی یوکرین میں رہتا ہے۔وہاں کچھ فضائی حملے ہوئے ہیں لیکن یہ اب بھی دیگرعلاقوں کے مقابلے میں تھوڑا سا محفوظ ہے۔ میری بہن حاملہ ہے، لہٰذا اس نے شہر پر پہلے میزائل حملے کے بعد کیف چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔اس کا کہنا تھا کہ وہ اپنی زندگی میں اس سے زیادہ خوفزدہ کبھی نہیں ہوئی تھی۔

انھوں نے بتایا کہ کیف میں بہت سی رہائشی عمارتیں تباہ ہوچکی ہیں۔اس نازک صورت حال کے باوجودان کے بہت سے دوستوں نے شہرچھوڑنے سےانکار کردیا۔آخری بار شاید دوسری جنگ عظیم کے بعد شہرایسا نظرآیاہے۔

ویرانی‌ها در کی‌یف
ویرانی‌ها در کی‌یف

ڈری، سہمی اور خوفزدہ

دبئی میں ایک میڈیا فرم میں 31 سالہ یوکرینی آپریشن منیجر اینا نے العربیہ انگلش کو بتایا کہ ان کے دوستوں اور اہل خانہ کے لیے یورپی سرحد تک پہنچنا آسان نہیں رہا ہے۔ہم (یوکرینی)سب جانتے ہیں کہ کیا ہورہا ہے۔یہ کوئی خصوصی آپریشن نہیں بلکہ یہ ایک حقیقی جنگ ہے۔اس حملے نے تمام یوکرینیوں کو متحد کردیا ہے۔ہم صدرولادی میرپوتین سے کہنا چاہتے ہیں کہ ہم اپنے آزاد ملک کی سرزمین پر ان کی مدد نہیں چاہتے۔

انھوں نے بتایا کہ میں یوکرین کے مشرق سے ہوں۔اب ہمارے خاندان اوردوستوں کے لیے یورپ کے ساتھ سرحد تک پہنچنا آسان نہیں رہا۔ہم یورپ کے ساتھ سرحد سے 1300 کلومیٹر دور ہیں۔انھوں نے وضاحت کی کہ حکومت کی جانب سے نئی اپ ڈیٹ کے تحت میرے والد اور بھائی اب ملک نہیں چھوڑ سکتے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’’میں اندر سے خود کوخالی محسوس کر رہی ہوں اورخوف زدہ ہوں۔میں ان کی مدد نہیں کرسکتی۔وہ سب کچھ جو میں 10 دن پہلے چاہتی تھی، میں اب نہیں چاہتی ہوں ۔میں صرف یہ چاہتی ہوں کہ یوکرین میں پھنسےعوام محفوظ رہیں‘‘۔انھوں نے مزید کہا کہ ’’میں یقینی طور پر ایک بات کہ سکتی ہوں کہ ہمارے لوگ بہت مضبوط ہیں اورانھیں امید ہے کہ یہ صورت حال کل ختم ہو جائے گی‘‘۔

حملے کے آغاز سے یوکرین میں عام شہریوں کی ہلاکتوں کی تعداد کے بارے میں متضاد بیانات سامنے آئے ہیں۔ ملک کی اسٹیٹ ایمرجنسی سروس نے بدھ کے روز کہا تھا کہ حملے کی وجہ سے دو ہزار سے زیادہ شہری ہلاک ہوچکے ہیں۔تاہم اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ یہ تعداد اس سے کہیں زیادہ ہوسکتی ہے۔

اینا کا کہنا تھاکہ یوکرین مکمل طور پرتباہ ہوچکا ہے۔میں واقعی نہیں جانتی کہ میرے ملک کا مستقبل کیا ہے لیکن مجھے یقین ہے کہ ہم جیت جائیں گے۔

’انسانیت کے خلاف جرم‘

دبئی میں مقیم 32 سالہ یوکرینی ماریہ پی نے العربیہ کو بتایا کہ روس کی فضائی بمباری سے بچنے کے لیے ان کاخاندان پناہ گاہوں میں چھپا ہوا ہے۔یہ ایک جنگ ہے۔میرے شہرخارکیف پر حملے ہورہے ہیں۔ انھوں نے یوکرین پر روسی حملے کو’انسانیت کے خلاف جرم‘قرار دیتے ہوئے کہا کہ میرے اہل خانہ اور دوست پناہ گاہوں میں چھپے ہوئے ہیں۔ماریہ پی نے کہا کہ میں صدرپوتین کے خلاف ہوں کیونکہ میں جنگ کے خلاف ہوں۔

شمال مشرق میں واقع خارکیف یوکرین کا دوسرا سب سے بڑا شہراور بلدیہ ہے اور طویل عرصے سے ملک کا ایک بڑا ثقافتی اور تعلیمی مرکز ہونے کی وجہ سے مشہور ہے۔روسی پیرا ٹروپرز جمعرات کو علی الصباح شدید گولہ باری کے ساتھ لڑنے اور اس پر قبضہ کرنے کے لیے شہر میں اترے تھے۔

دریں اثناء اقوام متحدہ نے اطلاع دی ہے کہ گذشتہ ہفتے سے اب تک دس لاکھ سے زیادہ افراد ہمسایہ ممالک میں پناہ لینے کے لیے یوکرین سے راہ فراراختیار کرچکے ہیں اور ان کی تعداد بڑھ کر چالیس لاکھ تک پہنچ سکتی ہے۔

روسیوں اور یوکرینیوں میں کشیدگی

گذشتہ ایک ہفتے کے دوران میں بہت سے یوکرینیوں نے سوشل میڈیا پرروسی حملے اور اپنے ملک کی حالت پرغم وغصے ،خوف اور مایوسی کا اظہار کیا ہے لیکن اس کے بعد روسیوں اور یوکرینیوں کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔

اولگا نے کہا کہ گذشتہ جمعرات کو صبح پانچ بجے پہلے روسی فضائی حملے کے ساتھ ہی ہمارے معمولات زندگی رک گئے تھے۔انھوں نے کہا کہ وہ اپنے بہت سے روسی دوستوں سے مایوس ہیں جو سوشل میڈیا پر تفریح اور پارٹی کرتے ہوئے اپنی ویڈیوزپوسٹ کر رہے تھے جبکہ وہ جن یوکرینیوں کو جانتے تھے وہ خوف اوراندیشوں سے دوچار تھے۔

انھوں نے کہا کہ یوکرین میں جو کچھ ہو رہا ہے،اس پر میرے کچھ روسی دوستوں کو دلی افسوس ہے۔کچھ دوسرے لوگوں کے ساتھ میں باقاعدگی سے بات چیت کرتی تھی مگر وہ اچانک مجھ سے پہلو بچانا شروع ہوگئے ہیں یا اگر وہ مجھ سے بچ نہیں سکتے تو وہ ایسا دکھاوا کرتے ہیں جیسے کچھ نہیں ہورہا ہے۔انھوں نے کہا کہ روس میں رہنے والے ان کے کچھ دوستوں اور رشتہ داروں نے حملے کے آغاز کے بعد سے انھیں کوئی پیغام نہیں بھیجا ہے۔

انھوں نے یہ دیکھنے کی زحمت نہیں کی میں ٹھیک ہوں یا میراخاندان محفوظ ہے۔ میرے لیے یہ خاموشی بھی ایک جواب ہے۔ماریہ پی کا کہنا تھا کہ وہ روسی غی ملکی دوستوں کے ساتھ تھوڑی سی کشیدگی محسوس کرتی ہیں۔

انھوں نے کہا کہ روسی حملے کی وجہ سے میرے کچھ روسی غیرملکی دوستوں کے درمیان کچھ کشیدگی پیدا ہوئی ہےلیکن میرے روسی دوستوں کی اکثریت روسی حکومت اور جنگ کے خلاف ہے۔اینا نے کہا کہ روس بہت سے لوگوں کو حقیقت سے الگ تھلگ کرکے اورانھیں ہمارے (یوکرینیوں) کے خلاف ابھارنے کا انتظام کرکے ’اطلاعاتی‘جنگ لڑ رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’’بیرون ملک مقیم روسی سمجھتے ہیں کہ لوگوں کو تکلیف نہیں اٹھانی چاہیے۔یہاں تک کہ روس میں رہنے والے کچھ روسی بھی یہ نہیں سمجھ سکے کہ ان کی حکومت نے یہ قدم کیوں اٹھایا اورانھیں اس پر افسوس ہے کیونکہ ہم خاندانوں اورحقائق سے جڑے ہوئے ہیں لیکن میں سمجھ نہیں پارہی کہ کچھ روسی ہمیں مرنے کی خواہش کیوں کرتے ہیں اور جنگ کے حق میں کیوں ہیں؟‘‘

اینا کا مزید کہنا تھا:’’پروپیگنڈا اور روسی ٹی وی اچھی طرح کام کرتا ہے‘‘۔ روسی حملے کے تیسرے روز روسی ٹی وی نے دکھایا کہ ان کی فوج کا کوئی شکار نہیں ہے۔ کیا آپ تصور کرسکتے ہیں؟ اور انھوں نے ہم سے لڑائی کے لیے کس کو بھیجا؟ نوجوان، فوجی رنگروٹ۔میں چاہتی ہوں کہ روسی عوام یہ سمجھیں کہ سیاست کا کھیل کبھی ضائع ہونے والی زندگیوں کی قیمت کوپورا نہیں کر سکتا‘‘۔

روس نے گذشتہ سال کے آخراور رواں سال کے اوائل میں یوکرین کے ساتھ مشترکہ سرحد پر اپنی فوجی تعینات کی تھی جس سے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہواتھا اور ان کے دو طرفہ تعلقات متاثر ہوئے تھے۔بہت سے ممالک نے یوکرین سے یک جہتی کامظاہرہ کرتے ہوئے روس پرسخت پابندیاں عایدکی ہیں اور اس کے حملے کی مذمت کی ہے۔

ماسکو نےگذشتہ چند روزکے دوران میں بین الاقوامی ردعمل خاص طور پر مغرب کے اقدامات سے غیرمعمولی انداز میں نمٹا ہے جس کی پابندیوں نے روس کی معیشت کواپاہج اور زبوں حال کردیا ہے۔روس کا یوکرین پرحملہ دوسری جنگ عظیم کے بعد کسی یورپی ریاست پر سب سے بڑا حملہ ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں