62 برس قبل ملنے والی شاہی تلوار کا تحفہ سعودی خاندان کی وراثت کیسے بنا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی خاتون مضاوی بنت محمد ضاوی نے کہا ہے کہ 62 برس قبل شاہ سعود بن عبدالعزیز کا تحفہ ہمارے خاندان کے لیے اعزاز بن گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق سعودی خاتون نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ شاہ سعود بن عبدالعزیز بیرون مملکت علاج کے بعد 1960 میں دارالحکومت ریاض پہنچے تھے۔ اس موقع پر تلواروں کا روایتی رقص العرضہ ہوا تھا۔ اس وقت میرے والد محمد بن ضاوی ریاض محکمہ پاسپورٹ کے ڈائریکٹر تھے۔

العرضہ میں شرکت کے لیے ان کے پاس تلوار نہیں تھی۔ شاہ سعود نے دیکھا کہ محمد بن ضاوی تلوار کے بجائے اپنے قلم کو تلوار کے انداز میں حرکت دے کر تلوار کے رقص میں حصہ لے رہے ہیں۔ انہوں نے فوراً انہیں ایک شاہی تلوار دی اور یہ بہت خاص ہے۔ آج تک ہمارے خاندان میں محفوظ ہے۔

مضاوی نے بتایا کہ ان کے والد کے پاس مختلف تقریبات میں شاہ سعود کی دی ہوئی 5 تلواریں تھیں۔ ان میں سے بعض کے ہینڈل سونے کے تھے، تاہم ان میں سے ایک تلوار بہت خاص ہے جو شاہ سعود نے بیرون مملکت علاج کے بعد ریاض میں ہونے والے جشن صحت کے موقع پر والد کو دی تھی۔

تلوار کے قبضے میں یاقوت لگا ہوا ہے
تلوار کے قبضے میں یاقوت لگا ہوا ہے

مضاوی بنت محمد ضاوی نے بتایا کہ یہ تلوار میرے والد کے پاس آخر تک رہی۔ ایک وقت وہ بھی آیا جب وہ پیرانہ سالی کی وجہ سے تلواروں کے رقص میں حصہ نہیں لے سکتے تھے۔ ہمارے خاندان میں قومی تقریبات پر یہ تلوار استعمال کی جاتی رہی ہے۔ شادی کے موقع پر والد نے یہ تلوار مجھے تحفے میں دی تھی جسے میں اپنے پاس محفوظ کیے ہوئے ہوں۔ اس کی حیثیت انمول ہے۔

مضاوی نے بتایا کہ اب یہ تلوار میری چھوٹی بیٹی ھیفا الرشید کے پاس ہے۔ وہ بھی اسے جی جان سے عزیز رکھتی ہے۔ اس تلوار میں ایک سرخ اور دوسرا زرد رنگ کا یاقوت ہے۔ اس کا ہینڈل ہاتھی دانت کا ہے جبکہ اس کا بارڈر عربی اور اسلامی تحریروں سے مزین ہے۔

سعودی خاتون نے بتایا کہ شاہ سعود نے میری والدہ کو خالص سونے کی سوئس گھڑی کا تحفہ دیا تھا۔ یہ بھی ہمارے خاندان کا بڑا فخر ہے۔ یہ تمام قیمتی اشیا گھر میں محفوظ ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں