روس اور یوکرین

روس کے ساتھ جنگ سے محتاط نیٹو یوکرین کو لڑاکا جیٹ کیوں نہیں دینا چاہتا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

امریکا نے پولینڈ کی جانب سے روسی ساختہ مِگ 29 لڑاکا طیاروں کوپہلے جرمنی میں امریکی فوجی اڈے اور پھر وہاں سے یوکرین منتقل کرنے کی تجویز کو مسترد کردیا ہے جبکہ مغرب روس کے حملے کے جواب میں یوکرین کی فوجی مدد کے طریقے تلاش کررہا ہے لیکن اسے خدشہ ہے کہ اگر اس نے کوئی فوجی مداخلت کی تو اس سے جوہری ہتھیاروں سے لیس ماسکو کے ساتھ جنگ چھڑ سکتی ہے۔

روس نے 24 فروری کو یوکرین پرفضا، سمندر اور زمین سے حملہ کیا تھا اور اس کے شہروں کو نشانہ بنایا ہے جس کے نتیجے میں اب تک قریباً 20 لاکھ شہری دربدر ہوچکے ہیں۔اس کے ردعمل میں یورپی یونین نے روسی بینکوں اور تجارت پر مزید پابندیاں عایدکردی ہیں اور ساتھ ہی روسی حکام اور اشرافیہ کو بلیک لسٹ کردیا ہے۔

یوکرین کو روس کے خلاف جنگ میں لڑاکا طیارے مہیا کرنے کے معاملے پرنیٹو اتحادیوں کا کیا کیا نقطہ نظر ہے،اس کی تفصیل حسب ذیل ہے:

پولينڈ

پولینڈ نیٹو اور یورپی یونین کی سب سے بڑی سابق کمیونسٹ ریاست ہے۔اس کی روس سے لڑنے اور مغرب کے ساتھ انضمام کی کوشش کی ایک طویل تاریخ ہے۔ وہ نیٹو اور یورپی بلاک دونوں اور ہمسایہ ملک یوکرین کی مشرقی سرحد پرواقع ہے۔اس ملک کے ساتھ اس کے بہت سے ثقافتی اور تاریخی روابط ہیں۔

لیکن پولینڈ تنہاطور پریوکرین کوجیٹ طیارے مہیا کرنے سے انکاری ہے اوراس نے یہ خدشہ ظاہر کیا ہے کہ نیٹو اتحاد میں شامل تمام ممالک اگراس معاملے میں اس کا ساتھ نہیں دیتے تواس کے بغیراس کو روس کی جوابی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔

پولینڈ کے وزیراعظم ماتیوز موراویکی کا کہناہے کہ یوکرین کو لڑاکا طیارے دینے کا سنجیدہ فیصلہ پورے شمالی بحراوقیانوس اتحاد (نیٹو)کو متفقہ اورواضح طور پرکرنا چاہیے۔

وارسا نے اس سے قبل نیٹو کے ’اندھے مقام‘ کے بارے میں خبردارکیا تھا۔یہ سووالکی گیپ کے نام سے جانا جاتا ہے اور یہ پولینڈ اور لتھووینیا کی سرحد پر کھیتوں اور جنگل سے گزرنے والی 100 کلومیٹر(60 میل) طویل سرحد ہے۔یہ واحد سرحدی پٹی ہے جو روس کے اتحادی بیلاروس کو ماسکو کے بالٹک انکلیو کالینن گراڈ سے جدا کرتی ہے۔

جرمنی

جرمنی نے 2003-04 میں 22 مِگ-29 جیٹ پولینڈ کے حوالے کیے تھے۔ ان کی دوبارہ فروخت کے معاہدے کی شق کے تحت پولینڈ کو برلن کی منظوری حاصل کرنے کی ضرورت ہوگی تاکہ انھیں یوکرین منتقل کیا جاسکے۔

یوکرین پرروس کے حملے نے جرمنی کو پہلے ہی جنگی علاقوں میں اسلحہ برآمد کرنے پرطویل عرصے سے عاید کردہ پابندی پرنظرثانی پرمجبور کر دیا ہے۔یہ پالیسی بیسویں صدی میں یورپ میں جنگیں لڑنے کی اس ملک کی تاریخی وراثت کو توڑنے کے لیے وضع کی گئی تھی۔

جرمنی نے اعلان کیا کہ وہ اپنے فوجی اسٹاک سے یوکرین کوٹینک شکن ہتھیار اور طیارہ شکن ہتھیارمہیا کرے گا۔اس کے ساتھ ساتھ اس نے ایسٹونیا کو بھی اس امر کی اجازت دی ہے کہ وہ یوکرین کو سابق مشرقی جرمنی سے حاصل کردہ جیٹ اور نیدرلینڈز جرمنی کے ساختہ راکٹ گرینیڈ مہیا کرے گا۔

اگرچہ وہ جنوری کے آخرمیں یوکرین کو 5000 ہیلمٹ دینے کی ابتدائی پیش کش سے بہت آگے بڑھ چکا ہے لیکن جرمنی بھی ایسے فوجی اقدامات سے گریزاں ہے جنھیں روسی صدر ولادی میرپوتین اشتعال انگیزی کے طور پردیکھیں گے۔

جرمنی ریمسٹین ایئربیس کی میزبانی کرتا ہے جو امریکی فوج کا یورپ میں گیٹ وے ہے اور بیرون ملک امریکا کی سب سے بڑی فوجی برادری کا حصہ ہے۔وہاں قریباً 50,000 امریکی فوجی ، سویلین ملازمین اور خاندان رہتے ہیں۔

نیٹو

معاہدہ شمالی اوقیانوس کی تنظیم نیٹو میں شامل 30 ممالک قانونی طور پرایک دوسرے کے تحفظ اور دفاع کے پابند ہیں۔اگرکسی ایک ملک پرحملہ ہوتا ہے تواس کا دفاع دوسرے ممالک کی بھی ذمہ داری ہے۔ لیکن نیٹو اتحادی صدر پوتین سے لاحق ممکنہ جوہری خطرے سے محتاط ہیں۔وہ پہلے ہی یوکرین کی روسی میزائلوں اور جنگی طیاروں کے حملوں سے بچانے میں مددکے لیے نوفلائی زون کے قیام کے لیے تجویزماننے سےانکارکر چکے ہیں۔

نیٹو کے سربراہ جینزاسٹولٹن برگ نے گذشتہ ہفتے کہا تھا کہ ’’ہم اس تنازع کا حصہ نہیں ہیں‘‘۔نیٹو کے دو ذرائع نے رواں ہفتے برطانوی خبررساں ایجنسی رائٹرزکو بتایا تھا کہ یوکرین کولڑاکا طیارے مہیا کیے جاتے ہیں تو اس طرح مغربی فوجی اتحاد کوروس کے ساتھ مکمل فوجی تصادم میں گھسیٹنے کا خطرہ بھی ہوگا۔

اپنا نام ظاہرنہ کرنے کی شرط پر بات کرنے والے ایک ذریعے نے بتایا کہ ’’آپ جیٹ طیاروں کے رنگ تبدیل کر سکتے ہیں لیکن آپ انھیں روس سے نہیں چھپا سکتے‘‘۔

سوال یہ ہے کہ کیا ہم روس کو ٹالین یا ریگا کی طرف میزائل داغنے یا نارڈک ممالک یا پولینڈ میں کہیں فائرکرنے کی صورت میں قبول کرنے پرآمادہ ہیں۔اس کے لیے توکسی کی کوئی سیاسی خواہش نہیں ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں