عالمی دفاعی شو :جی سی سی کے دفاعی شعبے میں شراکت داری اورمقامیت کے فروغ کااہم ذریعہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

متحدہ عرب امارات کے ایج (ای جی ای جی)گروپ کے ڈائریکٹر برائے بین الاقوامی کاروبار نے سعودی عرب کے زیراہتمام الریاض میں منعقدہ عالمی دفاعی شو میں کہا ہے کہ مقامی دفاعی صلاحیتوں کو فروغ دیتے وقت شراکت داری ایک اہم جزورہے گی۔

سعودی عرب میں بدھ کو ختم ہونے والا یہ عالمی شو دنیا بھرمیں منعقد ہونے والی بہت سی نمائشوں میں سے ایک ہے جہاں ایج جیسی کمپنیاں نئے روابط بناتی اور اپنی جدید ترین ٹیکنالوجی کو نمائش کے لیے پیش کرتی ہیں۔

ایج گروپ کے بین الاقوامی کاروبار کے ڈائریکٹرمائلز چیمبرز کے مطابق انتہائی خفیہ یا اہم معلومات کے ساتھ ضروری اجزاء مقامی ٹیلنٹ کے ذریعے حاصل اور محفوظ کیے جائیں گے۔

انھوں نے العربیہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’’اہم شعبوں کی ہم نے نشان دہی کی ہے، ہم مقامی طور پر اس صلاحیت کو حاصل کرنے میں سرمایہ کاری کریں گے‘‘۔

سعودی عرب کے وژن 2030 کے اہداف فوجی سازوسامان کی تیاری اور خدمات پر50 فی صد اخراجات کو مقامی بنانے کے حصول کے لیے ایک فریم ورک فراہم کرتے ہیں۔اس طرح روزگار کے مواقع پیدا کرنے میں تیزی سے اضافہ متوقع ہے کیونکہ صنعتی آلات، مواصلات اور انفارمیشن ٹیکنالوجی جیسے صنعتی شعبوں میں حوصلہ افزائی ہوتی ہے۔

وژن 2030 کے بارے میں حکومت کی ایک غیر تاریخ شدہ آن لائن رپورٹ کے مطابق سعودی عرب دنیا میں دفاعی اخراجات کرنے والا تیسرا سب سے بڑا ملک ہے مگر اس کے باوجود ان اخراجات کا صرف دو فی صد ملک کے اندر ہوتا ہے۔تاہم یہ سب تبدیل ہو رہا ہے۔

منگل کو عالمی دفاعی شو میں ایک بیان میں کہا گیا کہ سعودی عرب نے مقامی اور بین الاقوامی اداروں کے ساتھ 1.8 ارب ڈالر ( 7 ارب سعودی ریال) مالیت کے 10 معاہدے کیے ہیں۔ان میں سے بہت سے معاہدوں میں پیداوار، ترقی اور/یا سپلائی چین اور لاجسٹکس کو مقامی بنانے کی شق بھی شامل ہے۔یہ معاہدے ان 2.3 ارب ڈالر ( 8 ارب سعودی ریال) کے علاوہ ہیں جن پر پیر کو دست خط کیے گئے تھے۔

ایئربس افریقا اور مشرق اوسط کے صدرمائیکل ہواری نےالعربیہ انگلش سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’’یہ شو دفاعی شعبے میں مہارتوں اور صلاحیتوں کو زیادہ سے زیادہ مقامی بنانے کی ضرورت کو اجاگر کرتا ہے‘‘۔ایئر بس کا دعویٰ ہے کہ وہ مملکت میں 350 افراد کو ملازمت دے رہی ہے ان میں سے 30 فی صد سے زیادہ سعودی شہری ہیں۔

امریکا میں قائم ایک اور دفاعی کمپنی لاک ہیڈ مارٹن نے سعودی عرب کی جنرل اتھارٹی برائے ملٹری انڈسٹریز کے ساتھ میزائل انٹرسیپٹر لانچرز اور میزائل انٹرسیپٹر کنستروں کی تیاری کو مقامی بنانے کے معاہدے پر دست خط کیے ہیں۔

لاک ہیڈ کے ترجمان نے العربیہ انگلش کو دیے گئے ایک بیان میں کہا ہے کہ تازہ اقدام سعودی عرب کی صنعتی بنیاد اور اس سے حاصل ہونے والے ترقی کے مواقع کے اعتراف میں کیا گیا ہے۔

نیشنل انڈسٹریل ڈویلپمنٹ اینڈ لاجسٹکس پروگرام (این آئی ڈی ایل پی) کے چیف ایگزیکٹو آفیسرسلیمان المزروا نے العربیہ انگلش کو بتایا کہ’’دفاع سمیت امید افزا صنعتوں کی مقامیت سے زیادہ پائیداراورمتنوع معیشت پیدا ہوگی جو تیل اور گیس کی آمدنی پر کم انحصار کرتی ہے‘‘۔

سی ای او کے مطابق این آئی ڈی ایل پی ایک ایسا ادارہ ہے جو توانائی، کان کنی، صنعت اور لاجسٹکس کے اہم شعبوں کو مربوط کرتا ہے جو فوجی صنعت کی مقامیت سمیت اہداف کے حصول میں مدد کرتا ہے۔

انھوں نے مملکت کے ’’انتہائی ترقی یافتہ‘‘بنیادی ڈھانچے، وسائل کی دولت اور تزویراتی محل وقوع کی طرف اشارہ کیا جو سب وژن 2030 کے اہداف کے حصول کے لیے کام کر رہے ہیں۔

المزروا نے دعویٰ کیا کہ دفاعی شعبے میں مقامیت کا تناسب پہلے ہی دو فی صد سے بڑھ کر آٹھ فی صد ہو چکا ہے، انھوں نے مزید تفصیل فراہم کیے بغیرکہا کہ’’ہم نے اعلیٰ کمپنیوں کے ساتھ بہت سی نتیجہ خیز دو طرفہ ملاقاتیں کی ہیں۔ان سب نے سعودی عرب میں کاروبار کے لیےداخل ہونے یا پہلے سے موجود کاروبار کو وسعت دینے میں دلچسپی ظاہر کی‘‘۔

عالمی دفاعی شوکا اہتمام مملکت کی دفاعی صلاحیت کو ظاہر کرنے اور مستقبل مرتکزدفاعی ٹیکنالوجی کے ساتھ مربوط کرنے کے لیے کیا گیا تھا۔ لیکن اہم بات یہ ہے کہ اس نمائش نے سعودی سپلائرز اور خریداروں کو بین الاقوامی مارکیٹ سے جوڑنے کے پلیٹ فارم کے طور پر بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں