دبئی میں مقیم قوت سماعت وگفتارسے محروم فنکار کی مصوری کے ذریعے گویائی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

دبئی میں مقیم قوت سماعت وگفتار سے محروم روشن پریرانے کم عمری ہی میں اس بات کاادراک کر لیا تھا کہ مصوری دنیا کے ساتھ ان کے ابلاغ کا ایک اہم ذریعہ ہوسکتی ہے۔اب وہ اسی کے ذریعے دنیا سے ہم کلام ہوتے ہیں۔

’’آرٹ ان دا پارک‘‘ نمائش میں علامتی زبان کے ترجمان کے ذریعے العربیہ انگلش کے ساتھ بات کرتے ہوئے پریرا نے لوگوں کواپنی مصوری سے لطف اندوز ہوتے دیکھ کرخوشی کا اظہار کیا۔

انھوں نے کہا کہ ’’بہت سے لوگ نہیں جانتے کہ بہرے افراد مصوری کے ذریعے اپنی پوشیدہ صلاحیتوں کا جادو جلا سکتے ہیں لیکن جب وہ میری بنی تصویریں دیکھتے ہیں تو وہ کہتے ہیں کہ اوہ، اس شخص نے یہ کیا کمال کردیا؟‘‘ اس سے مجھے حقیقی خوشی ہوتی ہے۔

سری لنکا سے تعلق رکھنے والے 48 سالہ پریرا نے سماعت کی کمزوری کے ساتھ زندگی گزارنے کی جدوجہد کے بارے میں بات کی اور کہا کہ ہمیں زیادہ دباؤکا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ہم اپنے شعبے میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنا چاہتے ہیں۔قوت سماعت کے حامل لوگوں کے پاس تو تمام مواقع ہوتے ہیں، لیکن ہمارے لیے یہ بہت مشکل ہے۔ ہم میں دلچسپی کون لے گا؟ یہ صرف حقیقت ہے‘‘۔

ان کا کہنا تھا کہ مجھے خوشی ہے،میں آرٹسٹ ہوں،مصوری کرسکتا ہوں اور اپنے آپ کو ظاہر کرنے اور لوگوں تک اپنی آواز پہنچانے کے قابل ہوں۔

پریرا نے چودہ سال کی عمر میں پینٹنگ کا فن سیکھنا شروع کیا تھا۔تب ان کے استاد پیٹر راجرز نے انھیں برش پکڑنے کی ترغیب دی تھی۔ان کا خیال ہے کہ ان کی معذوری بصری تاثر کا زیادہ باریک احساس دیتی ہے اور وہ اسے اپنے فائدے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

وہ کہتے ہیں :’’میں بصری طور پراچھا ہوں۔میں ہمیشہ پینٹنگ میں بہترین رہا ہوں۔ یہ میری طاقت ہے‘‘۔

کرونا وائرس کی وَبا نے پریرا کو خاص طور پر سخت متاثر کیا ہے۔ وہ برسوں سے فیڈ ایکس کے ساتھ کام کر رہے تھے اور مشرق اوسط میں اس کمپنی کے پہلے بہرے ملازمین میں سے ایک تھے۔

سپلائی کی عالمی زنجیروں میں خلل سے معاشی دباؤ کا سامنا کرنا پڑا ہے اور اس کا ایک مطلب یہ تھا کہ جزوقتی مصور لاجسٹک فرم میں اپنی ملازمت کھو بیٹھے ہیں۔اپنے آبائی ملک سری لنکا میں چھے ماہ گزارنے کے بعد وہ دبئی واپس جانے اور کل وقتی مصوری کے لیے ویزا حاصل کرنے میں کامیاب رہے ہیں۔

اب وہ اپنی پینٹنگز فروخت کرتے ہیں اور اپنی آمدنی کے اہم ذریعہ کے طور پر کمیشن پر بھی کام کرتے ہیں۔انھوں نے اس وبا کے بارے میں کہا کہ یہ ایک رولرکوسٹرتھا۔ آپ کو کچھ نہیں مل رہا، آپ ہر وقت گھر میں مواقع کے انتظار میں رہتے ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ ’’میں نے اپنا سارا پیسہ کھودیا، میرے پاس وسائل نہیں تھے۔ لیکن میں واقعی پینٹنگ جاری رکھنا چاہتا ہوں، اگر میں اس شعبے میں ترقی کر سکوں تو میں واقعی خوش قسمت ہوں‘‘۔

انھوں نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ’’میں چاہتا ہوں،لوگ میری پینٹنگز دیکھیں، میں ان کی دلچسپی حاصل کرنا چاہتا ہوں اور اس کے مطابق مزید پینٹنگز بنانا چاہتا ہوں‘‘۔

مقبول خبریں اہم خبریں