رمضان المبارک کے مہینے میں ان عادتوں سے احتراز کیجئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

رمضان مبارک میں روزے داروں میں بعض غلط غذائی عادات ہوتی ہیں جو روزے کے دوران میں ان کے لیے تھکن اور دیگر بہت سے مشکلات کا سبب بنتی ہیں۔ یہ عادات انسانی صحت پر منفی طور سے اثر انداز ہو سکتی ہیں۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ نے ان نا مناسب عادات کو 8 نقاط میں سمونے کی کوشش کی ہے:

1.کثرت سے پانی پینا

بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ سحری کے وقت بہت سارا پانی پینا رمضان میں پورے دن جسم کو پیاس سے بچاتا ہے۔ تاہم سحری کے وقت بہت زیادہ پانی پی لینے سے گردے کا کام بڑھ جاتا ہے کہ وہ پانی سے چھٹکارہ حاصل کرے۔ اسی طرح پیشاب کی رغبت بڑھ جاتی ہے۔ یہ چیز دن بھر پیاس میں اضافے کا سبب بن سکتی ہے۔ اسی واسطے سحری کے وقت پانی والے پھلوں کے استعمال کی ہدایت کی جاتی ہے۔ ان میں تربوز، خربوزہ اور سیب وغیرہ شامل ہیں۔ یہ پھل روزے کے دوران میں جسم میں بتدریج پانی چھوڑنے کا کام کرتے ہیں۔ پانی پینے کے عمل کو افطار سے سحری تک کے اوقات میں تقسیم کرنا چاہیے ، یہ نہیں کہ صرف سحری کے وقت اس پر پوری توجہ مرکوز کر دی جائے۔

2.افطار پر براہ راست ٹھنڈا پانی پینا

افطار کے وقت براہ راست ٹھنڈا پانی پینا، معدے اور آنتوں کی جانب خون کی گردش کم کرنے کا سبب بنتا ہے۔ اس کے نتیجے میں جسم کا نظام ہاضمہ مسائل کا شکار ہوتا ہے۔ غذائی ماہرین یہ ہدایت دیتے ہیں کہ افطار کے بعد نیم گرم یا کمرے کے درجہ حرارت والا پانی ،،، یا کھجور کے ساتھ دودھ پینا چاہیے۔ اسی طرح افطار کے بعد ٹھنڈا پانی پیا جا سکتا ہے۔ تاہم افطار کے دوران ایسا کرنے سے معدے کے لیے خطرناک ثابت ہو سکت اہے۔ اس کے نتیجے میں ہاضمے کا مسئلہ ، موٹاپا اور تیزابیت جیسی مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔

3.افطار کے بعد میٹھا کھانا

افطار کے فورا بعد میٹھا کھانے سے جسم میں چکنائی اکٹھا ہوتی ہے اور موٹاپے اور کولسٹرول میں اضافہ ہوتا ہے۔ لہذا میٹھا کھانے سے قبل تھوڑا انتظار کر لینا چاہیے۔ بہتر ہے کہ میٹھا ہفتے میں ایک یا دو مرتبہ کھایا جائے۔ یہ روزانہ نہیں کھانا چاہیے۔

4.پھلوں کا نہ کھانا

پھلوں کو اُن وٹامنز اور معدنی نمکیات کا بہترین ذریعہ شمار کیا جاتا ہے جن کی رمضان میں انسانی جسم کو ضرورت ہوتی ہے۔ اسی طرح یہ موٹاپا اور وزن کم کرنے میں مدد گار ہوتے ہیں۔ اسی لیے یہ بہت اہم ہے کہ آپ ماہ رمضان میں پھلوں کو کھانے کے شدید خواہاں رہیں۔

5.اچار ، چٹنی ، نمک اور مسالوں کی کثرت

نم اور مسالے تو آپ کی جانی دشمن ہیں۔ زیادہ نمک والی اشیاء یا اچار اور چٹنی یہ جسم سے پانی ختم کرنے کا عمل بڑھانے میں مدد گار ہیں۔ اسی کے سبب انسان کو مستقل صورت میں بالخصوص روزے کے دوران پیاس محسوس ہوتی ہے۔ ان کے زیادہ استعمال سے دھڑکن تیز ہو جاتی ہے۔

6.روغنی کھانوں کے ساتھ افطار

روغنی کھانوں کے ساتھ افطار کی ابتدا کرنا اہم ترین غلطیوں میں سے ایک ہے۔ رمضان میں اس سے اجتناب لازم ہے۔ لہذا تلے ہوئے اور چکنائی والے کھانوں سے دور رہیں۔ افطار کے آغاز کے لیے بہترین چیز کھجور ہے۔ اس سے خون میں شکر کی سطح معتدل اور آسان صورت میں بلند ہو جاتی ہے۔

7.سحری سے غفلت برتنا

روزے داروں کے لیے سحری کھانا نہایت اہم ہے۔ اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ سحری میں کھائی جانے والی غذا ہمارے جسم کو مطلوب ضروری عناصر پر مشتمل ہو۔ رمضان میں دن میں دو وقت کھانا کھانے سے جسم کا مدافعتی نظام زیادہ سرگرم اور ہاضمے کا عمل زیادہ مضبوط ہو جاتا ہے۔ غذائی ماہرین کے مطابق سحری کا کھانا مرکب کاربوہائیڈریٹس اور ریشے دار غذا پر مشتمل ہونا چاہیے۔ ایسی غذا جس کے ہضم ہونے میں طویل وقت درکار ہو کیوں کہ یہ دن بھر انسان کو سیر ہونے کے احساس دلائے گی۔ ان غذاؤں میں بھورے چاول ، آلو ، مکمل گندم کی روٹی ، اجناس ، لوبیا ، جئی اور شکر قندی شامل ہے۔

8.ورزش کو نظر انداز کرنا

بعض لوگ رمضان میں ورزش کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ تاہم ورزش کے تمام انسانی اعضا کے لیے کئی فوائد ہیں اور یہ صرف وزن میں کمی تک محدود نہیں۔ رمضان میں ورزش کا بہترین وقت افطار سے ایک گھنٹہ قبل یا پھر افطار کے کم از کم دو گھنٹے بعد ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں