روزے کے صحت پراثرات ؛سائنسی مطالعات کیا کہتے ہیں؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں دنیا بھر کے کروڑوں مسلمان اسلام کے روحانی اور روایتی عمل کے حصے کے طور پر روزے رکھتے ہیں۔

خیال کیاجاتا ہے کہ خوراک اورغیراخلاقی طرزِعمل سے پرہیزکرنے سے روزے داروں کو تقویٰ کا ایک نیا احساس ہوتا ہے اور ساتھ ہی کمیونٹی اور خاندانی تعلقات میں بہتری آتی ہےلیکن رمضان المبارک کی روحانی جہت کے ساتھ ساتھ سائنسی مطالعات نے صحت کے متعدد فوائد کی نشان دہی کی ہے۔

نیوانگلینڈ جرنل آف میڈیسن میں شائع ہونے والے ایک تحقیقی جائزے کے مطابق رمضان المبارک کےروزوں کی طرح وقفے وقفے سے روزہ رکھنے سے موٹاپا، ذیابیطس، قلبی امراض، کینسر اور اعصابی بیماریوں سے نجات میں بہتری آ سکتی ہے کیونکہ طویل عرصے تک کھانے سے پرہیزسے جسم مختلف ذرائع سے توانائی استعمال کر سکتا ہے۔

اگرچہ جسمانی ضرورت کے لیے توانائی عام طور پر جگر میں ذخیرہ شدہ گلوکوز سے لی جاتی ہے، وقفے وقفے سے روزہ میٹابولزم کو تبدیل کرتا ہے تاکہ چربی میں ذخیرہ شدہ کیٹونز اس کی بجائے استعمال کیے جاتے ہیں۔یہ عمل، جسے کیٹوجینیسیس کے نام سے جانا جاتا ہے،سوزش کو دبانے اور تناؤ کے خلاف جسم کے ردعمل کو بہتر بنانے سمیت وسیع تر فوائد کاحامل ہے۔

جرنل آف ریسرچ ان میڈیکل سائنسزمیں 2014 کے جائزے کے مطابق رمضان کے روزے مدافعتی نظام کو فروغ دے سکتے ہیں، کولیسٹرول کو کم کر سکتے ہیں اور وزن میں کمی کا سبب بنتے ہیں۔

تاہم 2009 سے 2014ء تک شائع شدہ مطالعات کے جائزے میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ لوگوں کے لیے اگلے ماہ یعنی شوال المکرم میں کھانے کی معمول کی عادات کی طرف لوٹنے کے بعد رمضان میں کم ہونے والے کسی بھی وزن کو دوبارہ حاصل کرنا عام بات ہے۔

جرنل آف دی امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن میں 2021 میں کی گئی ایک تحقیق سے پتاچلا ہے کہ رمضان المبارک میں روزہ رکھنے سے بلڈ پریشر، وزن اور جسم کی چربی کی سطح پرمفید اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

یورپی جرنل آف کلینیکل نیوٹریشن کے 2003 کے ایک مطالعے میں رمضان کے بعض ضمنی منفی اثرات کونوٹ کیا گیا تھا۔اس میں کہا گیا ہے کہ مقدس مہینے میں روزہ رکھنے کا ایک ’’فطری‘‘ مسئلہ یہ تھا کہ مریضوں میں تجویز کردہ ادویہ لینے سے گریز کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔

اس مطالعے میں کہا گیا کہ چڑچڑاپن، سر درد، نیند کی کمی اور توانائی کی کمی عام طور پر روزہ کے ضمنی اثرات تھے۔اس میں یہ بھی نوٹ کیا گیا ہے کہ مسلمان رمضان المبارک میں ’’بلاشبہ پانی کی کمی‘‘کا شکار ہورہے تھے،مگراس کے نتیجے میں صحت پر کوئی نقصان دہ اثرات نہیں مشاہدہ کیے گئے۔

اگرچہ بہت سے مطالعات روزے کے مثبت اثرات کی طرف اشارہ کرتے ہیں، لیکن ان میں بہت سے لوگوں میں یہ بھی نوٹ کیا گیا کہ خوراک اور پانی سے پرہیز کے طویل مدتی اثرات کی جانچ کے لیے بہت کم ثبوت فراہم ہوئےہیں۔

چناں چہ جہاں بہت سے مسلمان اس مقدس مہینے میں اللہ کا قُرب محسوس کرتے ہیں،وہیں سائنسی مطالعات سے پتاچلتا ہے کہ صحت کا یہ شخصی احساس جسم کی کیمسٹری میں بھی عملی طور پرظاہرہوتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں