سرطان میں مبتلا سعودی بچی جو فن پاروں میں رنگ بکھیرتی ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

آج کے دور میں فنون لطیفہ کو علاج کے آلہ کار کے طور پر استعمال میں لایا جا رہا ہے۔ ہسپتالوں اور نفسیاتی بحالی کے مراکز میں ان کو معاشرے کے متعدد طبقوں بالخصوص سرطان میں مبتلا بچوں کے لیے کام میں لایا جا رہا ہے۔

سعودی عرب میں 13 سالہ بچی "عنود علی" خون کے سرطان سے جنگ لڑ رہی ہے۔ اس جنگ میں عنود نے جن چیزوں کا سہارا لیا ہے ان میں مصوری ، یقین اور تخلیق شامل ہے۔ عنود اب تک 100 سے زیادہ رنگین فن پارے تیار کر چکی ہیں۔ رواں ہفتے دارالحکومت ریاض میں سعودی انجمن برائے فنون لطیفہ کے زیر انتظام ایک نمائش میں عنود نے اپنی تصاویر بھی پیش کیں۔

عنود کی والدہ امل الشریف نے سعودی سرکاری خبر رساں ایجنسی (ایس پی اے) سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ "عنود کی عمر چار ماہ تھی تو اس کے سرطان میں مبتلا ہونے کا انکشاف ہوا اور دس ماہ کی عمر میں خون کے سرطان کی تصدیق ہو گئی۔ اس کے بعد علاج کے سلسلے میں ایک شہر سے دوسرے شہر آمد و رفت کا سلسلہ جاری رہا"۔

امل نے مزید بتایا کہ عنود نے آخری چھ ماہ کے اندر 50 سے زیادہ تخلیقی فن پاروں کو وجود بخشا۔ اس سرگرمی نے عنود کے اس تکلیف کے احساس کو کم کیا جو اس نے کیموتھراپی کے دوران میں برداشت کی تھی۔

عنود کی والدہ کے مطابق فن کے ذریعے علاج قابل احساس اور نمایاں ہے اور یہ ہمیں مختلف عمروں اور طبقوں کے حوالے سے نظر آںا شروع ہو گیا ہے۔ ہمیں اس سلسلے میں متعلقہ اداروں کے ساتھ تعاون کرنا چاہیے تا کہ اس طریقے کو سپورٹ کیا جا سکے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں