ٹویٹرپرایلون مسک کے ساتھ معاہدہ کے لیے حصص داران کا دباؤ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

ٹویٹرانکارپوریٹڈ کو دنیا کی امیرترین شخصیت ایلون مسک کے ساتھ مذاکرات کے لیے اپنے حصص داران (شیئر ہولڈرز) کے بڑھتے ہوئے دباؤ کاسامناہے جبکہ مسک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم کے لیے اپنی 43 ارب ڈالر کی بولی کو اپنی بہترین اورحتمی پیش کش قرار دیا ہے۔

ذرائع نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پربتایا کہ اگرچہ ٹویٹر کے شیئرہولڈرزکے خیالات اس بات پر مختلف ہیں کہ معاہدے کی مناسب قیمت کیا ہوگی لیکن جمعرات کو مسک کی جانب سے اپنے مالیاتی منصوبہ کا خاکا پیش کرنے کے بعد بہت سے لوگوں نے کمپنی سے رابطہ کیا اور اس پر زور دیا کہ وہ معاہدے کا موقع ضائع نہ ہونے دے۔

توقع ہے کہ ٹویٹر کے بورڈ کو آیندہ جمعرات کو سہ ماہی آمدنی کی اطلاع تک کمپنی کومعلوم ہوگا کہ ایلون مسک کی 54.20 ڈالر فی حصص کی پیش کش بہت کم ہے۔ ذرائع نے برطانوی خبررساں ایجنسی رائٹرز کو بتایا کہ ’’اس مؤقف سے اتفاق کرنے والے کچھ شیئرہولڈرزاب بھی چاہتے ہیں کہ ٹویٹر مسک سے بہتر پیش کش حاصل کرے جس کی خالص مالیت فوربز نے 270 ارب ڈالر بتائی ہے۔

ٹویٹر کے بورڈ کے لیے دستیاب ایک آپشن یہ ہے کہ وہ اپنے کھاتے مسک کے لیے کھول دے تاکہ انھیں اپنی بولی کو میٹھا کرنے کی کوشش کی جاسکے۔ ایک اورکام یہ ہوگا کہ دوسرے ممکنہ بولی دہندگان سے بھی پیش کشیں طلب کی جائیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اگرچہ ابھی تک یہ واضح نہیں کہ ٹویٹر کون سا راستہ اختیار کرے گا لیکن اس بات کا امکان بڑھتا جا رہا ہے کہ اس کا بورڈ مسک سے بہتر پیش کش طلب کرنے کی کوشش کرے گا حالانکہ وہ موجودہ پیش کش کومسترد کرسکتے ہیں۔

ٹویٹر میں سرمایہ کاری کرنے والے فنڈ منیجرز میں سے ایک نے نام ظاہرنہ کرنے کی شرط پربات چیت کرتے ہوئے کہا کہ مجھے اگلے ہفتے جاگ کر حیرت نہیں ہوگی اور مسک کواپنی بہترین اور آخری پیش کش کو بڑھا کر ممکنہ طور پر64.20 ڈالر فی حصص کر دیا جائے گا۔

فنڈ منیجر نے مسک کی پیشکش کے بارے میں کہا:’’وہ بھی پوری چیز کو مکمل طور پر چھوڑسکتے ہیں اور کچھ بھی ممکن ہے‘‘۔

ٹویٹر کے حصص گذشتہ جمعہ کو 48.93 ڈالر پر بند ہوئے تھے جو ایلون مسک کی پیش کش پر ایک اہم رعایت ہے اوران کی بولی کی قسمت پرغیر یقینی صورت حال کی عکاسی کرتی ہے۔

ٹویٹر نے مسک کی جانب سے کمپنی میں اپنے بورڈ کے ساتھ معاہدے پر بات چیت کیے بغیر15 فی صد سے زیادہ حصص بڑھانے سے روکنے کی پیش کش کے بعد زہرمارکی ہے۔اس کے جواب میں مسک نے ایک ٹینڈر آفر شروع کرنے کی دھمکی دی ہے جسے وہ اپنی بولی کے لیے ٹویٹر کے حصص داروں کی حمایت حاصل کرنے کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ٹویٹر کا بورڈ اس تشویش کا اظہار کر رہا ہے کہ جب تک وہ مسک کے ساتھ معاہدے پر بات چیت نہیں کرتا،بہت سے شیئرہولڈرزٹینڈرکی پیش کش میں ان کی حمایت کرسکتے ہیں۔ ذرائع نے مزید بتایا کہ اگرچہ کڑوی گولی ٹویٹر کے شیئرہولڈرز کو اپنے حصص ٹینڈر کرنے سے روک دے گی لیکن کمپنی کو خدشہ ہے کہ اگر اسے اپنے بہت سے سرمایہ کاروں کی مرضی کے خلاف جاتے ہوئے دکھایا گیا تواس کا مذاکراتی ہاتھ کافی کمزور ہو جائے گا۔

الیکٹرک کارسازکمپنی ٹیسلا کے چیف ایگزیکٹو مسک نے 14 اپریل کو اپنی پیش کش کی تھی اور وہ اس کے بعد سے ٹویٹر کے حصص داروں سے ملاقاتیں کررہے ہیں اور ان کی بولی کی حمایت حاصل کر رہے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ ٹویٹر کو ترقی کرنے اور آزادیِ اظہار کے لیےایک حقیقی پلیٹ فارم بننے کے لیے نجی لینے کی ضرورت ہے۔وال اسٹریٹ جرنل نے اتوار کے روز ٹویٹرکے حصص داروں کے ساتھ مسک کی کچھ ملاقاتوں کے بارے میں اطلاع دی تھی۔

ٹویٹر کے بڑے شیئرہولڈرسعودی عرب کے شہزادہ الولید بن طلال نے 14 اپریل کو ٹویٹ کیا کہ ’’مجھے یقین نہیں،ایلون مسک (54.20 ڈالر فی حصص) کی مجوزہ پیش کش ٹویٹر کی ترقی کے امکانات کے پیش نظراس کی اندرونی قدر کے قریب ہے‘‘۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ قلیل مدتی ذہن رکھنے والے سرمایہ کار چاہتے ہیں کہ ٹویٹر مسک کی پیش کش قبول کرے یا صرف تھوڑا سا اضافہ طلب کرے۔البتہ ان میں سے کچھ اس بات پر پریشان ہیں کہ افراط زر پر خدشات اور معاشی سست روی کے درمیان ٹیکنالوجی اسٹاک کی قدر میں حالیہ کمی سے اس بات کا امکان نہیں کہ ٹویٹرجلد ہی اپنے لیے مزید قدرفراہم کر سکے گا۔

ٹویٹر میں 11لاکھ 30ہزار حصص یعنی کمپنی کے 0.15 فی صد کے مالک کیرسڈیل کیپیٹل مینجمنٹ کے پورٹ فولیو منیجر سہم ادرنگی نے کہا کہ میں کہوں گا کہ 54.20 ڈالر فی حصص لیں اور اس کے ساتھ کیا جائے۔ذرائع کے مطابق 4 اپریل کو مسک کے حصص کی پیش کش سے قبل ٹویٹر کے خوردہ سرمایہ کاروں کی تعداد قریباً 20 فی صد سے بڑھ کر 22 فی صد ہو گئی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں