رمضان قدیروف ’غدار‘اور پوتین کےزرخریدہیں: چیچن کمانڈر

ہم نے کبھی قدیروف جیسے شخص کو چیچن عوام کی نمائندگی کرنے کی اجازت نہیں دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
6 منٹس read

یوکرین میں روسی فوج کے خلاف لڑنے والی دو چیچن بٹالینوں میں سے ایک کے کمانڈر شیخ منصور نے العربیہ سے خصوصی انٹرویو میں کہا ہے کہ روسی جمہوریہ چیچنیا کے سربراہ رمضان قدیروف ایک غدارہیں اور وہ صدر ولادی میر پوتین کے زرخرید ہیں۔

قدیروف یوکرین کی جنگ میں سرگرم عمل رہے ہیں اور انھوں نے یوکرین کے خلاف روس کے شانہ بشانہ لڑنے کے لیے اپنے فوجی دستے بھیجے ہیں جبکہ کچھ چیچنوں کے میدانِ جنگ میں یوکرین کے شانہ بشانہ روس کے خلاف لڑنے اور روس مخالف مؤقف اختیارکرنے کے بیانات سامنے آئے ہیں۔

شیخ منصور نے العربیہ سے ایک ویڈیو انٹرویو میں کہا کہ ’’بدقسمتی سے قدیروف غدارتھے اور یقیناً اگرآپ ہم سے اس کے بارے میں پوچھیں تو ہم نے کبھی قدیروف جیسے شخص کو چیچن عوام کی نمائندگی کرنے کی اجازت نہیں دی۔ہم ایک کھلے ذہن کے اور آزادی پسند لوگ ہیں اور ہم کسی بھی ضرورت مند کومدد مہیاکرتے ہیں۔ہم کبھی یہ نہیں کہیں گے کہ ہم کسی کے سپاہی یا غلام ہیں‘‘۔

انھوں نے مزید کہا:’’ولادی میر پوتین نے دراصل قدیروف کو خریدرکھاہے۔انھوں نے اسے ایک پرتکلف کھانا کھلایا، پھر یوکرین پر حملہ کرنے کا حکم دیا۔اب ہم ایک مشترکہ دشمن کے خلاف لڑ رہے ہیں‘‘۔

شیخ منصور کے مطابق ان کی بٹالین 2014 سے یوکرین میں موجود ہے جب جنگ شروع ہوئی تھی۔انھوں نے یہ بھی انکشاف کیا تھا کہ انھیں یوکرینی افواج نے روس کے خلاف لڑنے کی دعوت دی تھی لیکن وہ اپنے قومی پرچم اشکیریا کے تحت ایسا کرتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ’’یقیناً ہم یوکرینی افواج کے ساتھ تمام اقدامات کو مربوط کرتے ہیں کیونکہ ہم ایک مشترکہ دشمن، ایک مشترکہ برائی کے خلاف مل کر لڑ رہے ہیں۔یوکرینی افواج نے ان کی بٹالین کو جنگ زدہ ملک میں روسی جارحیت کے خلاف لڑنے کے لیے درکار ضروری ہتھیارمہیا کیے ہیں‘‘۔

چیچن کمانڈر نے کہا کہ بٹالین 100 سے زیادہ مسلح افراد پر مشتمل ہے اور انھیں محاذِجنگ کے سخت مقامات پر تعینات ایلیٹ فورسز سمجھا جاتا ہے۔

روس نے 24 فروری کو یوکرین پرحملہ کیا تھا۔اسے وہ ’’خصوصی فوجی آپریشن‘‘ کا نام دیتا ہے۔شیخ منصور نے بتایا کہ (روسی)حملے کے آغازمیں ہمیں یوکرینی دارالحکومت کیف کے نواح میں تعینات کیا گیا تھا۔بعد میں لڑائی میں شدت آنے پردوسری جگہ منتقل کر دیا گیا اور انھیں فرنٹ لائن پوزیشن دی گئی۔

اب وہ محصور بندرگاہ شہر ماریوپول اور دیگرعلاقوں میں موجود ہیں جہاں لڑائی شدت سے جاری ہے۔انھوں نے وضاحت کی کہ ہمارے پاس قریباً 100 جنگجو ہیں اور ہم کان کنی، ٹیکٹیکل حملوں، گھات لگا کر حملوں جیسی خصوصی کارروائیاں کرتے ہیں اور ہم مخصوص پوزیشنوں کو بھی محفوظ رکھتے ہیں۔

بعض عرب جنگجوؤں کو بھی یوکرین میں چیچن بٹالین کے شانہ بشانہ لڑتے دیکھا گیا ہے۔کمانڈر منصور نے اس حوالے سے انکشاف کیا کہ یوکرین میں دونوں چیچن بٹالینوں کے ساتھ اس جنگ میں شامل ہونے والے’’متعدد عرب‘‘ اور مسلمان بھی ہیں۔کئی عرب ایسے ہیں جنھیں میں نے یوکرینی فوج کے مختلف بریگیڈز اور بٹالینوں کی صفوں میں دیکھا ہے لیکن میں انھیں ذاتی طور پر نہیں جانتا۔ ان میں سے زیادہ تر موجودہ جنگ سے پہلے یوکرین میں رہ رہے تھے‘‘۔ان میں سے بہت سے ازبکستان، آذربائیجان اور جارجیا کے لوگ شامل ہیں۔

انھوں نے کہا کہ اس کے علاوہ بہت سے یوکرینیوں نے اسلام قبول کیا ہے۔انھوں نے بتایا کہ یوکرینی فوج کے شانہ بشانہ لڑنے والے تمام رضاکاروں کو یوکرینی انٹیلی جنس سروس کی جانب سے سکیورٹی کلیئرنس چیک سے گزرنا پڑتا ہے کیونکہ بہت سے لوگ ہماری صفوں میں گھسنے کی کوشش کررہے ہیں، خاص طور پروہ لوگ جو روس سے وابستہ ہیں، ان کے علاوہ قدیروف کے کچھ افراد اور مختلف تنظیموں کے دیگرافراد بھی دراندازی کی کوشش کررہے ہیں۔

داعش اورالقاعدہ سے لاتعلق بٹالین

چیچن کمانڈر نے القاعدہ یا داعش کے بارے میں اپنی رائے واضح طور پر ظاہر نہیں کی لیکن انھوں نے اپنی بٹالین اور داعش کے درمیان کسی بھی مشتبہ روابط کو مسترد کردیا۔شیخ منصور نے کہا کہ وہ شام میں روس کے خلاف لڑنے والے لوگوں کو جانتے ہیں، پھروہ چیچنیا میں اپنے اہل خانہ کے پاس واپس آگئے تھے۔

انھوں نے کہا کہ جب 2011 میں شام میں خانہ جنگی شروع ہوئی تو دنیا بھر سے بہت سے لوگوں نے رضاکارانہ طور پر وہاں جنگ لڑی۔اس وقت القاعدہ یا داعش نہیں تھی کیونکہ تمام جنگجوشامی صدر بشارالاسد کے خلاف متحد تھے لیکن ایک یا دو سال میں ان میں پھوٹ پڑنا شروع ہو گئی اور داعش تشکیل پائی تھی۔

انھوں نے کہا کہ شام میں جنگ کے آغاز میں انھوں نے چیچن جنگجوؤں سے کہا تھاکہ وہ وہاں نہ جائیں اورلڑیں کیونکہ ہم پہلے ہی اپنی جنگ سے نمٹ رہے ہیں۔پھر انھوں نے اپنا راستہ منتخب کرلیا اور ہم نے اپنا راستہ منتخب کیا۔

انھوں نے بتایا کہ ’’ان جنگجوؤں میں سے کچھ کو ترکی، جارجیا، آذربائیجان جیسے دیگر ممالک میں منتشر کردیا گیا اور یہ ان کی کہانی کا اختتام تھا۔لیکن اس وقت ہمارے پاس پورا کرنے کے لیے ایک بڑا مشن ہے اور ہمارے پاس ایسے دیگرامور پرخرچ کرنے کا وقت نہیں جو موجودہ جنگ کے مقابلے میں ثانوی حیثیت کے حامل ہیں‘‘۔

کمانڈر کو توقع ہے کہ یوکرین میں جنگ طول پکڑے گی۔انھوں نے اس پورے تنازع کے دوران میں یوکرین کے لیے اپنی اور اپنی بٹالین کی مسلسل حمایت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ قدیروف کے فوجیوں اور روسی فوج میں کوئی فرق نہیں ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں