سعودی عرب کے تین شہروں میں پہلے کلاؤڈ سیڈنگ پروگرام کا آغاز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

سعودی عرب نے دارالحکومت الریاض، القصیم اور حائل کے بالائی علاقوں میں کلاؤڈ سیڈنگ پروگرام کا پہلا مرحلہ شروع کردیا ہے۔

سعودی پریس ایجنسی نے قومی موسمیاتی مرکز (این سی ایم) کے چیف ایگزیکٹو آفیسر(سی ای او)اور کلاؤڈ سیڈنگ پروگرام کے نگران ڈاکٹر ایمن غلام کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ اس پروگرام کے آپریٹنگ روم کا آغاز منگل کو الریاض میں قومی موسمیاتی مرکزکے صدردفاتر میں کیا گیا۔

ایس پی اے کے مطابق بین الاقوامی ماہرین اور محققین پرمشتمل ٹیم چوبیس گھنٹے اس پروگرام پر پیش رفت کی نگرانی کرے گی اور وقتاً فوقتاًرپورٹ جاری کرے گی۔

مختلف رپورٹس کے مطابق سعودی عرب میں بارش کی موجودہ شرح سالانہ 100 ملی میٹرسے تجاوز نہیں کر پارہی ہے جس کی وجہ سے یہ دنیا کے خشک ترین ممالک میں سے ایک ہے۔

ایمن غلام نے یہ بھی کہاکہ کلاؤڈ سیڈنگ پروگرام پانی کے توازن کو برقرار رکھنے کے’’امید افزا طریقوں‘‘ میں سے ایک ہے۔ یہ محفوظ، لچکدار اور لاگت کے لحاظ سے ایک مؤثرطریقہ ہے۔

پروگرام کے دوسرے مرحلے میں عسیر، الباحہ اورطائف پر بادل چھائے ہوئے نظر آئیں گے۔کلاؤڈ سیڈنگ پروگرام سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے اکتوبر 2021 میں اعلان کردہ ’مشرق اوسط سبزاقدام‘ کا حصہ ہے۔

توقع ہے کہ اس اقدام سے کاربن کے اخراج میں کمی ہوگی،آبادیوں کے پانی کے ذرائع کو محفوظ بنایا جائے گا اور صحرابندی (بنجرپن) کو کم سے کم کیا جائے گا۔اسی طرح کی ٹیکنالوجی ہمسایہ ملک متحدہ عرب امارات بھی استعمال کر رہا ہے جس میں متوقع موسم سے کے علاوہ سال بھر وقفے وقفے سے مصنوعی طریقے سے بارش ہوتی رہی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں