وہ لمحہ جب سعودی عرب کی طبی تاریخ کا ایک اہم سنگ میل طے کیا گیا

سعودی عرب میں سیامی بچوں کا پہلا کامیاب جراحت 30 برس قبل مکمل ہوئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

تین دہائی قبل سعودی عرب میں پہلی بار سیامی بچیوں کا کامیاب آپریشن کر کے طب کے شعبے کی نئی تاریخ رقم کر دی گئی۔

تیس برس قبل آپریشن کر کے ایک دوسرے سے علاحدہ کی جانی والی دوشیزاؤں کا کہنا ہے ’’کہ وہ مملکت کی شکر گزار ہیں اور سعودی عرب آنے کے خواہاں ہیں تاکہ اپنے شکر کا اظہار کر سکیں۔‘‘

ڈاکٹر عبداللہ الربیعہ ‘سماح اورھبہ’ نامی سوڈانی سیامی بچیوں کا کامیاب آپریشن کرنے والی ٹیم کے سربراہ تھے۔ سماح اور ھبہ کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر عبداللہ ہمارے لیے دوسرے والد کے مقام پر ہیں۔

‘سماح اور ھبہ ’ نے سوڈان سے سعودی ٹی وی چینل کے پروگرام ‘انسان’ میں اپنے خیالات کااظہار کرتے ہوئے مزید کہا ‘ میں سمجھتی ہوں کہ میں نے دو بار جم لیا۔

پہلی بار میری حقیقی ولادت سوڈان کے بام درمان ہسپتال میں جبکہ دوسری بار ریاض کے شاہ فیصل ہسپتال میں ہوئی جب ہمیں آپریشن کر کے ایک دوسرے سے الگ کیا گیا اور اس طرح ہماری زندگی کی خوشیاں ہمیں ملیں’۔

سماح کا کہنا تھا کہ ہم سعودی عرب آنے کے لیے بے چین ہیں اور بڑی ہی شدت سے اس سرزمین میں پہنچ جانا چاہتے ہیں جہاں ہمیں ایک نئی حیات ملی۔

سماح اورھبہ پیٹ اور سینے سے جڑی ہوئی تھیں
سماح اورھبہ پیٹ اور سینے سے جڑی ہوئی تھیں

واضح رہے دسمبر1991 میں ریاض کے شاہ فیصل ہسپتال میں ڈاکٹر عبداللہ الربیعہ کی سربراہی میں مملکت میں اپنی نوعیت کا پہلا سیامی بچوں کا آپریشن کیا گیا جو مذکورہ سوڈانی بچیوں ‘سماح اور ھبہ’ کا تھا۔

مذکورہ بچیاں پیٹ اور سینے سے جڑی ہوئی تھیں۔ دو گردے اور ایک جگر دونوں بچیوں میں تقسیم کیے گئے اس طرح ہر ایک کے جس میں ایک گردہ اور جگر کا کچھ حصہ آیا۔

تین دہائی قبل سعودی عرب میں اس نوعیت کا آپریشن کرنا انتہائی اہم پیش رفت اور چیلنج تھا جسے ڈاکٹر عبداللہ الربیعہ نے قبول کیا ۔ اس وقت کی رپورٹوں کے مطابق آپریشن میں کامیابی کا تناسب 55 سے 60 فیصد تھا۔ تاہم پہلا کامیاب آپریشن سیامی بچوں کے آپریشن کے میدان میں ایک سنگ میل ثابت ہوا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں