.

ابو متعب الامریکی کو تقدیر سات سمندر پار سے سعودی عرب کیسے لائی؟

سعودیوں کے داماد کہلانے والے امریکی کے سوشل میڈیا پر چرچے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ان دنوں سعودی عرب میں ’ابو متعب الامریکی‘ کے نام سے ایک شخص کا چرچا ہے۔ سوشل میڈیا پران کے فالورز کی بڑی تعداد ہے جو سات سمندر پار سے آئے امریکی شہری جو سعودیوں کے امریکی رشتہ دار کہلاتے ہیں کی سرگرمیوں کو شیئر کررہے ہیں۔

ابو متعب الامریکی کی سعودی عرب میں بعض سرگرمیاں فنی اور مزاحیہ نوعیت کی ہیں۔ مملکت میں انہیں کافی مقبولیت حاصل ہو رہی ہے۔

ابو متعب امریکی کون ہیں؟

ان کا اصل نام’ Joshua Van Alstin‘ہے مگر وہ عرفی نام’ ابو متعب الامریکی‘ سے مشہور ہیں۔ امریکی شہری السٹائن نے سنہ 2018 میں مملکت کے جنوب میں تنومہ کے علاقے سے تعلق رکھنے والی ایک سعودی لڑکی سے شادی کی۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے انکشاف کیا کہ وہ 1990 میں امریکا میں پیدا ہوئے۔ان کے والد امریکی جب کہ ماں ترک ہیں۔ والد امریکی فضائیہ میں افسر تھے۔

انہوں نے وضاحت کی کہ ان کی پرورش ایک کثیر لسانی اور کثیر مذہبی گھرانے میں ہوئی ہے، جس میں مختلف ثقافتیں، طرز زندگی اور متعدد نقطہ نظر پائے جاتے تھے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ان کے دادا دادی امریکا سے پہلے ہالینڈ سے امریکا آنے والے اولین تارکین وطن میں سے تھے اور ان کے خاندان کو نیویارک شہر کے بانیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔

انہوں نے نشاندہی کی کہ ان کی پرورش امریکا اور ترکی کے درمیان اس کے والد کے فضائیہ میں کام کی نوعیت کی وجہ سے ہوئی تھی، جس کی وجہ سے دونوں ممالک کے درمیان خاندان کی بار بار نقل و حرکت ضروری تھی۔ ان کے خاندان کو میری تعلیم وتربیت میں دوسرے ممالک کے نظریات، عقاید اور افکار کو قبول کرنا پڑتا تھا۔

سعودیوں کے ساتھ تعلقات کیسے قائم ہوئے؟

یونیورسٹی میں پڑھائی کے دوران سعودیوں کے ساتھ اس کے تعلقات اس وقت مضبوط ہوئے جب اس کی ملاقات تنومہ سے اسکالرشپ پر آنے والے ایک سعودی طالب علم سے ہوئی۔ اس طالب علم کا تعلق اسی گاؤں سے تھا جہاں بعد میں ابو متعب الامریکی نے ایک لڑکی سے شادی کی۔

اس اسکالرشپ کے ذریعے طالب علم کو سعودی رسم و رواج اور عربی زبان کے بارے میں معلومات حاصل ہوئیں اور اس نے دوسرے طلبہ کے ذریعے عربی زبان سعودی لہجے میں سیکھی۔

اس نے عربی زبان میں اپنا ایک ویڈیو کلپ ریکارڈ کرایا جو ویڈیو شیئرنگ ویب سائٹ یوٹیوب پر ٹرینڈ کرگیا۔

انہوں نے بتایا کہ میرا پہلا بچپن اپنے ماں باپ کےساتھ گذرا اور والد اور والدہ سے رسم و رواج سیکھے۔ میرا دوسرا بچپن سعودی عرب میں گذرا۔

سعودی عرب میں ملازمت

ابو متعب نے بتایا کہ اس مہم جوئی کا آغاز اس وقت ہوا جب وہ سعودی عرب گئے، تعلقات عامہ اور مارکیٹنگ کے شعبے میں کام کرنا شروع کیا۔ اس دوران سعودی پلانٹ سوسائٹی کے بانیوں کے ساتھ کام کیا۔ ان کی اہلیہ بھی اسی انجمن میں کام کررہی تھیں۔

شادی کی کہانی

ابو متعب امریکی نے بتایا کہ جس لڑکی سے اس نے شادی کی میں اسے جانتا تھا مگر شادی سے پہلے اس کے ساتھ کوئی رومانوی تعلق نہیں تھا۔ البتہ شادی سے پہلے لڑکی کے بھائی کے ساتھ جان پہچان تھی۔ شادی کے بعد وہ اپنی بیوی سے پیار کرتا ہے۔ اس کی وجہ یہ بھی ہے کہ ہمارے درمیان بہت سے مسائل میں ہم آہنگی اور مفادات مشترک ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ اب ان کی ایک بیٹی ہے جس کا نام جولیا ہے۔ اس نے اپنی اہلیہ کے ساتھ اس کی پرورش ایک سعودی امریکی کے طور پر کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کی بیٹی کی ثقافت امریکی سے زیادہ سعودی ہے۔

اس نے اپنے بچپن کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ میرا بچپن سعودی عرب میں گذرا۔ وہ مشہور کالونیوں میں قیام پذیر رہے۔ سعودی عرب میں مقبول پرفیوم کے استعمال کے علاوہ سعودی لباس اور شیماغ پہننے کے معاملے میں سعودی طرز زندگی میں دلچسپی لیتے تھے۔ اس طرح سعودی عرب کی ثقافتی روانات ان میں رچ بس گئی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں