.

ایلون مسک کا سابق امریکی صدرٹرمپ پرٹویٹرکی عاید پابندی ختم کرنے کااعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

کھرب پتی ایلون مسک نے اعلان کیا ہے کہ اگر ان کا عالمی پیغام رسانی کا پلیٹ فارم خریدکرنے کا معاہدہ کامیاب رہا تو وہ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پرعاید ٹویٹر کی پابندی ختم کردیں گے۔

انھوں نے منگل کے روزفنانشل ٹائمز کی ایک کانفرنس میں کہا کہ ’’میں اس پابندی کوواپس لے لوں گا لیکن میں ابھی تک ٹویٹر کا مالک نہیں بنا ہوں،لہٰذا یہ ایسی چیزنہیں ہے جو یقینی طور پرہوگی‘‘۔

ٹویٹر کے بورڈ آف ڈائریکٹرز نے اگلے روز ایلون مسک کو 44 ارب ڈالر مالیت کے معاہدے میں کمپنی فروخت کی تصدیق کی تھی لیکن انھیں اس معاہدے کی کامیاب تکمیل کے لیےحصص داران اور ریگولیٹرز کی حمایت حاصل ہونی چاہیے۔البتہ وہ اس سے قبل ہی اب تک ٹویٹرپر پابندیوں کو کم کرنے کا بڑے جوش وخروش سے اظہار کرچکے ہیں۔

ایلون مسک نے کمپنی کی ملکیت کے سودے کا اعلان کرتے ہوئے ایک بیان میں کہا تھاکہ ’’آزادیِ اظہار ایک فعال جمہوریت کی بنیاد ہے اور ٹویٹر’ڈیجیٹل شہرکا چوک‘ہے جہاں انسانیت کے مستقبل کے لیے اہم معاملات پر بحث ہوتی ہے‘‘۔

مسک اس سے پہلے ٹویٹر کے صرف 9 فی صد سے زیادہ حصص کے مالک تھے اور وہ اس کے سب سے بڑے انفرادی حصص دارتھے۔ ٹیسلا انکارپوریٹڈ اور اسپیس ایکس کی کامیابی میں کارفرما کھرب پتی نے ٹویٹرکمپنی کے کاروباری ماڈل میں تبدیلیوں کے لیے بہت سی تجاویزبھی پیش کی ہیں۔

ان میں کمپنی کے سان فرانسیسکو میں واقع ہیڈکوارٹر کو بے گھرافراد کی پناہ گاہ میں تبدیل کرنا،ٹویٹس کے لیے ایڈٹ کا بٹن شامل کرنا اورپریمیم صارفین کو خودکار تصدیقی نمبر دینا شامل ہے۔

ٹویٹر کے بڑے صارفین میں سے ایک، مسک نے سوشل میڈیا کے اس پلیٹ فارم پرتنازعات کا باقاعدگی سے مقابلہ کیا ہے۔انھوں نے ٹویٹرکو’’آزادیِ اظہار کے اصولوں پرعمل کرنے میں ناکامی‘‘ کا ذمےدار بھی قرار دیا ہے اور کرپٹوکرنسی گھوٹالوں کو جڑسے اکھاڑ پھینکنے کی ضرورت پرزوردیا ہے کیونکہ ٹویٹرپرایسے دھندے بہت زیادہ ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں