تعمیرات، ٹھیکیداری مردوں تک محدود نہیں، سعودی خواتین بھی میدان میں آ گئیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی خاتون سماھر الرویلی نے تعمیرات اور ٹھیکے داری کے شعبے میں دیگر خواتین کے لیے بھی مثال قائم کی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ سے گفتگو کرتے ہوئے سماھر الرویلی نے کہا کہ ’ٹھیکے داری کے کام کا آغاز حدود شمالیہ ریجن کی طریف کمشنری میں سریے کے کاروبار سے کیا۔ اسی دوران تعمیرات اور کنکریٹ کے بارے میں معلومات حاصل کیں۔‘

سعودی خاتون نے بتایا کہ ’سعودی وژن 2030 نے ٹھیکے داری کے شعبے میں خواتین کے لیے امکانات پیدا کیے ہیں۔ سعودی وژن نے ہی انہیں تعمیرات اور ٹھیکے داری کا پیشہ اپنانے کا حوصلہ دیا۔‘

انہوں نے کہا کہ ’طریف کمشنری میں حوصلہ افزائی کے باعث متعدد کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ جو شخص تعمیرات اور ٹھیکے داری میں جاتا ہے۔ اسے تمام کام خود کرنا پڑتے ہوں گےْ ایسا کچھ نہیں ہے۔ عمارت کی بنیادیں رکھنے کے مرحلے سے عمارت مکمل ہونے پر چابی حوالے کرنے تک سے ٹھیکے دار کا کام صرف نگرانی کا ہے۔‘

سماھر الرویلی نے کہا کہ ’جب تعمیرات اور ٹھیکے داری کے شعبے میں قدم رکھا تھا تب سے احباب اور رشتہ دار حیرت کا اظہار کر رہے تھے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ’تعمیرات اور ٹھیکے داری کے کام خواتین کے لیے موزوں نہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ انسان اپنا روزگار کسی بھی جائز کام کو اپنا کرحاصل کر سکتا ہے۔ تعمیرات اور ٹھیکے داری کا شعبہ بھی ان میں سے ایک ہے۔‘

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں