بین الاقوامی کھلاڑی میسی کی جدہ میں فوٹو گرافی کرنے والےسعودی سے ملیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

سعودی عرب کے ایک نوجوان فوٹو گرافر جن کا اصل پیشہ آرکیٹیکچرل فوٹوگرافی اور ایڈورٹائزنگ فوٹوگرافی ہے مگر انہوں نے مملکت میں آنے والے کھلاڑیوں کی بھی فوٹو گرافی شروع کر کے ان کی توجہ بھی حاصل کی ہے۔

سعودی فوٹو گرافر عماد الحسینی نے حال ہی میں بین الاقوامی شہرت یافتہ کھلاڑی ’میسی‘ کی بھی فوٹو گرافی کی۔ وہ اب تک میسی، کرسٹیانو رونالڈو، ڈیبالا، Zinedine Zidane، پوری بارسلونا ٹیم اور پوری ریال میڈرڈ ٹیم کے کھلاڑیوں کی تصاویر بنا چکے ہیں۔

فوٹوگرافر عماد الحسینی 2008 سے ایک پیشہ ور فوٹوگرافر کے طور پر کام کر رہے ہیں۔ وہ جدہ میں پیدا ہوئے اور شاہ عبدالعزیز یونیورسٹی میں شعبہ بزنس ایڈمنسٹریشن سے گریجویشن کیا۔العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میرے پاس صرف 3 میگا پکسل کا ڈیجیٹل کیمرہ تھا اور میں اس سے دنیا کو دیکھ سکتا تھا۔ پھر میں ہائی اسکول کا امتحان پاس تو ساتھ ہی فوٹو گرافی کا جذبہ بڑھنے لگا اور میں نے اپنے فلسفے کے ساتھ شاٹس لینے میں تخلیقی ہونا شروع کیا۔

پلیئرز فوٹوگرافی

عالمی سٹار کھلاڑیوں کی تصویر کشی میں اپنی مہارت کے بارے میں انہوں نے کہا کہ میں نے آرکیٹیکچرل فوٹوگرافی اور پروپیگنڈہ فوٹوگرافی میں مہارت حاصل کی مگر میرا شوق مجھے اس میدان میں آگے لے گیا۔ میں نے حرمین شریفین کی تصویر کشی۔ مجھے کھلاڑیوں کی فوٹو گرافی کا موقع اس وقت ملا جب ان کھلاڑیوں نے جدہ شہر کا دورہ کیا۔ اس لیے میں نے بین الاقوامی کھلاڑیوں کی تصویر کشی کی کیونکہ یہ کسی بھی فوٹوگرافر کے لیے سنہری موقع ہوتا ہے۔

فوٹوگرافی میں تخلیقی تکنیک کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تصویر کو معنی خیز، کہانی اور مفید ہونا چاہیے، جس میں کچھ مقاصد کو مدنظر رکھا جائے۔ مثال کے طور پر جدہ کے مرکز میں میسی کا ملک کا دورہ، تصاویر سے یہ ظاہر ہونا چاہیے کہ میسی اس ملک میں موجود ہیں۔میں نے تاریخی مقامات اور ان کی دستاویزات کے اندر ان بین الاقوامی مہمانوں کی موجودگی کی تصویر کشی کی اور ان کی وہاں پر موجودگی کو ثابت کیا۔

سب سے اہم اور خوبصورت تصاویر

الحسینی نے اپنے فنی کیرئیرکے دوران لی گئی سب سے اہم تصاویر کی فہرست دی۔ ان میں حجر اسود جو 39,000 میگا پکسلز پر تیار کی گئی۔ اس سے قبل ایسی تصویر کسی نے نہیں بنائی۔ اس کی مکمل تیاری میں دو ہفتے میں سات گھنٹے کا وقت لگا۔ اس کے علاوہ الحسینی کی حرم مکی میں لی گئی یاد گار تصاویر میں مقام ابراہیم کی تصویر، کعبہ شریف کی تصویر، مسجد نبوی، حجرہ نبوی، گنبد خضرا، مسجد حرام اور مسجد نبوی کی توسیع کے مراحل کو کیمرے کی آنکھ میں محفوظ کیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں