ریاض پولیس نے تشدد سے لڑکی ہلاک کرنے والوں کو گرفتار کر لیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی دارلحکومت الریاض ریجن کی پولیس نے رشتہ داروں کے ہاتھوں مار پیٹ اور تشدد کا نشانہ بننے والی لڑکی کے واقعے کی تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔ لڑکی کو تشدد کا نشانہ بنانے والوں کو گرفتار کرے جنرل پراسیکیوشن کے حوالے کر دیا تھا۔

تفصیلات کے مطابق ریاض ریجن پولیس کے ترجمان میجر خالد الکریدیس نے سوشل میڈیا پر زیر گردش ویڈیو کے حوالے سے بتایا کہ سکیورٹی حکام کو 10/ 10/ 1443هـ ایک لڑکی کو رشتہ داروں کے ہاتھوں تشدد کا نشانہ بنانے کی اطلاع لی۔ فوری کارروائی کرتے ہوئے پولیس نے ظلم کا نشانہ بننے والی لڑکی کو زخمی حالت میں ہسپتال داخل کروا، جہاں وہ بعد میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جاں بحق ہو گئی۔

انہوں نے مزید کہا کہ پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے لڑکی پر تشدد کرنے والے ملزمان کو گرفتار کر لیا اور بعد ازاں ضروری قانونی کارروائی کرنے کے بعد مقدمہ جنرل پراسیکیوشن کے حوالے کر دیا۔

مرحومہ کی بہن کا بیان

اس واقعے کے سوشل میڈیا پر رپورٹ کے ہونے کے بعد صارفین نے بڑے پیمانے پر اس سے متعلق اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حادثے کا باعث بننے والے عوامل کو منظر عام پر لایا جائے اور ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی کی جائے۔

اہل خانہ کے تشدد سے ہلاک ہونے والی لڑکی کی بہن نے مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ پر ایک پیغام میں بتایا کہ مرحومہ کی وفات فشار خون میں کمی سے ہوئی۔ تین مرتبہ ان کے دل کی دھڑکن بند ہوئی، جس کے بعد ان کے دماغ نے کام کرنا چھوڑ دیا تھا۔ انیس دن ہسپتال میں زیر علاج رہنے کے بعد وہ انتقال کر گئیں۔

درایں اثنا واقعے سے متعلق سوشل میڈیا پر ٹرینڈز بننے لگے جن میں بہیمانہ تشدد اور لڑکی کے انتقال سے متعلق تحقیقات کو منظر عام پر لانے کے مطالبات کیے جاتے رہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں