سعودی ویژن 2030

سعودی خواتین موٹر کار چلانے کی اجازت کے بعد مرمت بھی کرنے لگیں

جدہ کا پیٹرومن ایکسپریس گیراج مکینک عورتوں کی وجہ سے شہرت پانے لگا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
6 منٹس read

موٹر گاڑیوں کی مرمت کا ایک گیراج سعودی خواتین کے موٹر مکینک بننے کے لیے ایک ادارے میں تبدیل ہونے لگا ہے۔

چار سال پہلے تک جن سعودی خواتین کو گاڑی چلانے کیا اجازت نہ تھی اب بحیرہ احمر کے ساحل پر واقع سعودی شہر جدہ کے اس پیٹرومن ایکسپریس گیراج میں گاڑیوں کی مرمت کا کام کرنے لگی ہیں یوں بہت ساری گاڑیوں کے سڑکوں پر فراٹے بھرنے میں گاڑیوں کے ڈرائیوروں کے ساتھ ساتھ ان کی تکنیکی مہارت کا بھی دخل ہوتا ہے۔

سعودی خواتین جدہ میں اب پیٹرومن گیراج کے مرد کارکنوں کے شانہ بشانہ گاڑیوں کا تیل بدلنے کے علاوہ ٹائروں کی تبدیلی کی خدمات بھی انجام دینے لگی ہیں۔ تاہم ابھی ان زیر تربیت خواتین کو اپنے اس کام میں بعض رکاوٹوں کا سامنا ہے کیونکہ وہ ایک ایسے شعبے میں داخل ہو رہی ہیں جس میں دنیا بھر میں بالعموم مردوں کی بہتات ہے۔

اپنے کام کے پہلے مہینے کے حوالے سے ان خواتین کارکنوں نے میڈیا کے نمائندوں کو بتایا ہے کہ پہلے مہینے کے دوران '' اپنے رشتہ داروں کی طرف سے انہیں بعض شکوک وشبہات کا سامنا رہا ہے۔ گیراج پر گاڑیوں کی مرمت کے لیے آنے والے گاہکوں نے بھی اسے قبول نہیں کیا۔''

ہاتھوں کو گریس سے بچانے کے لیے دستانے چڑھائے اور نیلے رنگ کا لمبا کوٹ زیب تن کیے ہوئے گیراج کی ان کارکنوں میں سے ایک غادہ احمد نے بات کرتے ہوئے کہا ''ان دقتوں کی زیادہ اہمیت نہیں ہے کیونکہ ابھی ہم نے ابتدا کی ہے۔ یہ غیر معمولی بات نہیں کہ شروع میں گاہک ہم پر بھروسہ نہ کریں کہ ہم بہرحال عورتیں ہیں۔ جو پہلے اس میدان میں نہیں ہوتی تھیں، یہ سب کچھ لوگوں کے لیے نیا تھا کہ پہلے سالہا سال سے اس کام میں وہ مردوں کو ہی دیکھتے تھے اور اب عورتیں بھی انہیں گیراج پر کام کرتی نظر آنے لگی ہیں۔ ''

غادہ احمد نے مزید کہا ''جب ہم یہ کام سیکھ لیں گی تو لوگ خود ہی عادی بھی ہو جائیں گے۔ جب ہم نے کام سیکھ لیا تو ہمارا اعتماد بھی بڑھے گا اور ایسے گاہک بھی آئیں گے جو ہماری حوصلہ افزائی کریں گے۔ جیسا کہ اب بھی ایک صاحب نے ہمیں کام کرتے ہوئے دیکھا تو کہا ''ہمیں آپ پر فخر ہے۔ آپ کی وجہ سے ہمیں عزت مل رہی ہے اور آپ ہمارے سروں کا تاج ہیں۔''

واضح رہے عورتوں کے حقوق میں وسعت لانے میں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کا کردار کلیدی ہے۔ ولی عہد نے اپنے ویژن 2030 میں تیل پر کھڑی سعودی معیشت کو ہمہ جہت بنانے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ اس سلسلے میں 2018 میں اس وقت ایک اہم سنگ میل عبور ہوا جب ولی عہد نے خواتین کے گاڑیاں چلانے پر لگی پرانی پابندی کو ختم کر دیا۔

اسی طرح سعودی معاشرت میں خواتین کے ساتھ ولی اور سرپرست کے معاملے میں قوانین کو نرم کر دیا تاکہ خاندان کی خواتین پر مردوں کا غلبہ کم ہو سکے۔ ولی عہد محمد بن سلمان کی طرف سے کیے گئے ان اقدامات نے انہیں خواتین کے حقوق کے چمپئین کے طور پر ابھارا ہے۔

مددگار خاوند

گیراج پر کام کرنے والی 44 سالہ علا فلمبان جو کہ چار بچوں کی ماں ہیں۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر گیراج میں نوکریوں کے اشتہار کا سنا تو اپنے شوہر سے فورا پوچھ لیا کہ مجھے بھی اس نوکری کے لیے درخواست دینا چاہیے۔ جس ان کے شوہر رفعت نے نہ صرف یہ کہ اپنی بیوی سے اس معاملے میں اتفاق کر لیا بلکہ اس کے انٹرویو کی تیاری میں مدد بھی دی اور گاڑی کے مختلف پرزوں کے نام اور ان کی ورکنگ کے بارے میں بھی سکھایا۔

رفعت نے کہا اب میری اہلیہ نہ صرف یہ کہ مختلف قسم کی گاڑیوں کی تیل بدلی کا تجربہ رکھتی ہے ۔ گاڑیوں کو کھولنے اور ان کے معائنے کی مہارت بھی پا چکی ہے۔ خود میری گاڑی بھی اب یہی چیک کرتی ہے۔'' علا کے شوہر کی طرف سے اس تعاون کی وجہ سے اسے گیراج پر آنے والے مختلف قسم کے گاہکوں سے ڈیل کرنا بھی آسانی سے سمجھ آگیا ہے۔

علا نے بات کرتے ہوئے کہا گیراج پر آنے والے گاہک حیران ہوتے ہیں کہ ہم عورتیں اس کام میں کیسے آ گئیں اور پوچھتے ہیں کہ ہمیں اس میدان سے کیوں محبت ہو گئی۔ عام طور پر یہ بات لوگ پوچھتے ہیں کہ اسی شعبے کا انتخاب کیوں کیا؟ جیسا کہ بیس سالہ نوجوان میشال اپنی سلور کلر کی گاڑی چلاتے ہوئے آیا تاکہ تیل تبدیل کرا سکے۔ وہ کہنے لگا میں تو پریشان ہوا کہ یہ کام اب ایک عورت کرے گی، لیکن جلد ہی اسے سمجھ آ گئی کہ عورتیں اگر یہاں ہیں تو وہ لازما یہ کام کر سکتی ہیں۔ ''

پیٹرومن ایکسپریس گیراج کمپنی کے نائب صدر طارق جاوید نے اس بارے میں کہا ''میری کمپنی یہ توقع کرتی ہے کہ آنے والے برسوں میں خواتین گاڑیوں کے تمام تر شعبوں میں کام کے لیے آئیں گی۔ جیسا کہ ان کی کمپنی خواتین کو گاڑی سے متعلق تمام امور کے حوالے سے تربیت دیتی ہے۔ ''

’’ہم لڑکیوں کو مطمئن کرتی ہیں‘’

پیٹرومن ایکسریس گیراج پر چھ ماہ سے کام کرنے والی انغام الجداوی نے کہا جب ہم لڑکیوں کی گاڑیوں کے کام کرتی ہیں تو وہ بہت سکون میں رہتی ہیں، انہیں مردوں کے ساتھ بات کرتے ہوئے بعض اوقات ہچکچاہٹ ہوتی ہے لیکن ہمارے ساتھ وہ بے تکلفی سے بات کر تی ہیں اور گاڑی کی مرمت کے امور کے بارے میں مطمئن ہو کر جاتی ہیں۔''

الجداوی کا کہنا ہے کہ گیراج پر کام کر کے اس کی زندگی کا ایک بڑا خواب پورا ہو گیا ہے۔ ان کے بقول وہ گاڑی چلانے کے لائسنس کے لیے تیاری کر رہی ہیں، انہیں اب مکمل یقین ہے کہ یہ ہدف بھی آسانی سے حاصل کر لیں گی اور پھر ان کی گاڑی سڑک پر فراٹے بھرا کرے گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں