گھریلو تشدد کی شکایت درج کرانے کے لیے ''موبائل فون ایپ '' خواتین میں مقبول

160 خواتین نے تششد کی شکایات درج کرا لیں، 335 نے ''ایپ ڈاون لوڈ '' کر لی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

غزہ میں خواتین کے خلاف گھریلو تشدد کے بڑھتے واقعات کی روک تھام کے لیے ''موبائل فون ایپ ''تیار کر لی گئی ہے۔ تاکہ خواتین پر گھروں میں تشدد یا بد سلوکی کے واقعات رپورٹ ہو کر قانون اور قانون نافز کرنے والے ادارے کی نظر میں آ سکیں اور خواتین کو انصاف کی فراہمی ممکن ہو سکے۔

عام طور پر دیکھنے میں آتا ہے کہ ایسی خواتین جنہیں گھریلو تشدد یا ہراسگی کا سامنا کرنا پڑا انہوں نے شرم کی وجہ سے شکایت نہیں کی اور یہ واقعات چھپے ہی رہ جاتے رہے، اس صورت حال کے تدارک کے لیے ایک مقامی انجینئیر علا حوت نے ’’مساحتنا‘‘ ۔ our space ۔ کے نام سے یہ ''ایپ '' تیار کی ہے۔

کمپیوٹر انجینئیر علا نے اس بارے میں بات کرتے ہوئے کہا ''کسی بھی طرح کی بد سلوکی کا شکار ہونےوالی خواتین کا یہ خوف ہوتا تھا کہ ان کے بارے میں لوگ جانیں گے اور یہ بڑی شرم کی بات ہو گی۔ لیکن اس ''ایپ '' میں اس چیز کا خیال رکھا گیا ہے کہ جو خواتین اپنا نام طاہر نہ کرنا چاہیں وہ بھی اس ''ایپ'' کے ذریعے اپنی شکایت متعلقہ شکایت مرکز تک پہنچا سکیں۔

اہم بات یہ ہے کہ جو خواتین بد سلوکی کے بعد گھر سے باہر نکل کر شکایت مرکز تک نہیں آنا چاہتی تھیں، اب وہ اپنے موبائل فون سے گھر بیٹھے ہی شکایت کر سکیں گی اور ان کے فون سے کسی اور کو علم بھی نہ ہوگا کہ اس فون سے بد سلوکی کی شکایت رجسٹر کرائی گئی ہے۔ گویا پوری راز داری سے خواتین کو گھروں میں تشدد سے بچانے والے مراکز تک یہ اطلاع پہنچ جائے گی۔ جس کے بعد قانون حرکت میں آ سکے گا۔

فلسطین میں قائم ادارہ شماریات کے مطابق صرف غزہ میں 41 فیصد خواتین کو 2019 میں گھریلو تشدد کا یا اور بد سلوکی کا کسی نہ کسی صورت میں سامنا کرنا پڑا تھا۔ دنیا کے دیگر ممالک میں بھی کرونا کی وجہ سے لاک ڈاون کے دنوں میں گھروں میں خواتین پر تشدد کے واقعات میں بہت اضافہ ہو گیا تھا۔

غزہ سے تعلق رکھنے والی ایک اٹھائیس سالہ خاتون نے اپنا نام طاہر نہ کرنے کی درخواست کے ساتھ کہا کہ وہ کئی برسوں سے اپنے گھر میں زبانی اور جسمانی تشدد کا نشانہ بنتی رہی۔ پھر دو سال قبل اس کی اپنے شوہر سے طلاق تک بات پہنچ گئی۔ اس مطلقہ عورت کے مطابق اس کے بعد بھی اس کے سابق شوہر اور سابق سسرالیوں کی جانب سے دھمکیاں ملتی رہی ہیں کہ وہ اس کے سات سالہ بیٹھے کو اس سے چھین کر لے جائیں گے۔

غزہ میں قائم کمیونٹی میڈیا سنٹر سے تعلق رکھنے والی خلود السوالمہ کے مطابق اب تک 335 خواتین نے یہ ''ایپ'' ڈاون لوڈ کی ہے اس کے ''ایپ '' کے ذریعے 160 عورتوں نے درخواست کی ہے کہ انہیں گھریلو بد سلوکی اور تشدد سے بچنانے کے لیے قانونی اور نفسیاتی مدد چاہیے۔ ابھی پچھلے ماہ کی بات ہے غزہ کی عدالت نے ایک ایسے فرد کا پھانسی کی سزا دی ہے، جس نے اپنی اہلیہ کو تششد کرکے قتل کر دیا تھا۔

تاہم خواتین کے تحفظ کے لیے کام کرنے والے گروپ کا کہنا ہے کہ گھروں میں عورتوں پر تشدد کے واقعات روکنے کے لیے مزید سخت اقدامات کی ضرورت ہے۔ ایک مقامی وکیل کا کہنا ہے کہ ایسے واقعات بھی ہوئے ہیں جہاں شوہروں نے اپنی بیگمات کوقتل کرنے کے بعد کہہ دیا کہ اسے ذہنی صحت کے مسائل تھے وہ یا اس کے کسی اخلاقی جرم کی وجہ سے قتل کر دیا اور یہ الزمات لگا کر خود کو سزا سے بچانے کی کوشش کرتے رہے۔ لیکن اب ایسا مشکل ہوجائے گا کہ اس فون ''ایپ '' سے خواتین فوری طور پر اپنی شکایت قانون تک پہنچا سکیں گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں